?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری اتحادی حکومت نے موجودہ بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، کاش چیف جسٹس اس بات کا خیال کریں اور فل کورٹ تشکیل دیں تو وہ فیصلہ قوم کو تسلیم کرنے میں ذرا بھی دقت نہیں ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ بینچ سے فیصلہ کروانا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ میں چند روز قبل اسمبلی میں تقریر کی، اس کے اگلے دن چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کئی لوگ جیلیں کاٹ کر اسمبلی میں تقریریں کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک مؤقف اور سوچ کے لیے جیل کاٹنے کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے، کرمنل کیسز میں انصاف پسند جج کے ہاتھوں کے جیل کاٹنا بہت تحقیر کی بات ہے، عمران نیازی کے پاس صرف ایک بات کی کہ اپوزیشن کے رہنماؤں کو جیلوں میں بجھوایا جائے۔
قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ ہی وہ ادارہ ہے جہاں ایک آمر 3 ماہ مانگنے گیا، اسے 3 سال بلکہ 9 سال دے دیے گئے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت جاری ہے جہاں وزیر قانون پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات ملتوی ہونے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی درخواست پر سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حوالے سے اظہار خیال کر رہے تھےجب کہ وزیراعظم شہباز شریف بھی ایوان زیریں میں موجود تھے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ فیصلہ سنانے کے 30 منٹ کے اندر اندر میں نے اُس وقت کے اٹارنی جنرل شہزاد عطا الہٰی صاحب نے یہ مؤقف اپنایا کہ یہ کیس 3 کے مقابلے میں 4اکثریتی ججز کی رائے سے خارج ہو گیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 4 کے مقابلے میں 3 کے اکثریتی فیصلہ سامنے آنے کے بعد جب کیس کی سماعت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تو ہم نے استدعا کی کہ فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو اپنے ادارے میں اٹھنے والی اختلافی آوازوں کو بھی سننا چاہیے۔
وزیر قانون نے کہا کہ اٹارن جنرل پاکستان نے آج عدالت عظمیٰ کے سامنے اپنی معروضات پیش کیں، انہوں نے کوشش کی کہ ادارے کی تکریم، عزت اور تقدس کے لیے ایسا راستہ اختیار کیا جائے جو پوری قوم کے لیے قابل قبول ہو، تاکہ بعد میں ادارے پر انگلیاں نہ اٹھیں، ہمیں تاریخ کے جھرنکوں میں جھانکنا چاہیے، ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس مؤقر ادارے ترین کب کب آئین کی پامالی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کب کب یہ ادارہ ملک کی تقدیر لکھ سکتے تھے، انہوں نے اپنے قلم کے ساتھ سیاہ تحریریں لکھیں، یہ وہ ادارہ ہے جہاں ایک آمر 3 ماہ مانگنے گیا، اسے 3 سال بلکہ 9 سال دے دیے گئے، آج تاریخ لکھنے کا دن ہے، ادارے اپنے کردار اور اپنے طرز عمل سے اپنی عزت کرواتے ہیں، ادارے اپنے فیصلوں کی وجہ سے جانتے جاتے ہیں، جب ادارے کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں، جب ججز یہ بات کر رہے ہیں، ان آوازوں کو دبا کر، نظر انداز کرکے عجلت میں فیصلہ کیا جائے گا تو تاریخ اسے کالے صفحوں پر لکھے گی۔


مشہور خبریں۔
دہلی میں ہندوؤں کی تقریب پر گوشت کی دکانیں بند کرنے کا حکم
?️ 6 اپریل 2022سچ خبریں:بھارت کے دارالحکومت دہلی کے جنوبی علاقے میں ہندوؤں کے نوراتری
اپریل
ٹرمپ کا ڈیپ فیک ویڈیوز کا استعمال؛ امریکہ میں گمراہ کن اطلاعاتی جنگ اور نسلی کشیدگی میں اضافہ
?️ 2 اکتوبر 2025سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیپ فیک
اکتوبر
بنوں: سکیورٹی فورسز کا مغل کوٹ سیکٹر میں آپریشن، 2 دہشتگرد ہلاک
?️ 18 اکتوبر 2025بنوں (سچ خبریں) سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مغل کوٹ سیکٹر
اکتوبر
پاکستان امریکہ کو نشانہ بنانے والے ایٹمی میزائل کی تیار میں
?️ 27 جون 2025سچ خبریں: امریکی خفیہ رپورٹس کے مطابق، جو معروف جریدے "فارن افرز”
جون
کوئٹہ: دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، 4 دہشت گرد ہلاک
?️ 26 مئی 2021کوئٹہ (سچ خبریں) بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقہ اغبرگ میں محکمہ
مئی
پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کرنے میں خود کو اہم اسٹیک ہولڈر سمجھتا ہے
?️ 25 فروری 2026سچ خبریں: پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے علاقائی
فروری
حزب اللہ کو فوری طور پر غیرمسلح ہونا چاہیے:امریکہ
?️ 7 اپریل 2025سچ خبریں:امریکی خصوصی ایلچی نے لبنان میں حزب اللہ کے غیرمسلح ہونے
اپریل
ابوعبیده کا اسرائیلی مزدوروں کے خلاف سخت انتباہ
?️ 10 فروری 2026 سچ خبریں: قسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیده نے اسرائیلی فوج کے
فروری