?️
پشاور: (سچ خبریں) پشاور کے ڈپٹی کمشنر نے امن و امان کی صورتحال کو ’خراب‘ کرنے کی کوششوں کی ’قابل اعتبار‘ رپورٹس کے بعد کسی بھی بے ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے شہر میں 3 مئی بروز بدھ تک تین دن کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی۔
ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 ضلعی انتظامیہ کو عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے ایسے احکامات جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے جو مخصوص مدت کے لیے کسی سماجی سرگرمی پر پابندی لگا سکتی ہے۔
30 اپریل کو جاری نوٹیفکیشن میں ڈپٹی کمشنر پشاور شاہ فہد نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قابل اعتماد معلومات فراہم کی ہیں کہ غیر ریاستی عناصر اور شرپسند امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کو خراب ہونے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ وسیع تر عوامی مفاد میں غیر معمولی اقدامات کیے جائیں۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ شرپسندوں کی جانب سے غیر قانونی عوامی اجتماعات کو دہشتگرد عسکریت پسندانہ سرگرمیوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے ضلع پشاور میں دفعہ 144 نافذ کی جا رہی ہے، اس کے تحت 5 یا زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی ہوگی، ڈپٹی کمشنر پشاور شاہ فہد نے کہا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
دفعہ 144 پولیس کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے جو پابندی کی خلاف ورزی پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت مقدمات درج کرتی ہے، دفعہ 188 کے تحت زیادہ سے زیادہ 6 ماہ قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتیں ہیں۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ پی ٹی آئی نے آج یوم مزدور کے موقع پر شہر میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے جس کی قیادت سابق وزیر پرویز خٹک کریں گے۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان دہشت گردی کی سر اٹھاتی لہر سے شدید متاثر ہوا ہے، اس دوران دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے جب کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نومبر میں حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا۔
رپورٹ کے مطابق جنوری 2023، 2018 کے بعد سے مہلک ترین مہینہ رہا جس میں ملک بھر میں کم از کم 44 عسکریت پسندانہ حملوں میں 134 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 254 افراد زخمی بھی ہوئے۔
ابھی حال ہی میں عسکریت پسندوں نے ضلع لکی مروت میں رات بھر میں تین حملے لیے اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں تین فوجی شہید اور سات عسکریت پسند مارے گئے۔
یہ کارروائیاں حالیہ مہینوں میں ہونے والے حملوں جن میں فروری میں پشاور کی مسجد میں ہونے والا بم حملہ بھی شامل ہے جس میں 100 افراد جاں بحق ہوئے تھے، کے بعد عسکریت پسندوں کے خلاف نئے آپریشن کے اعلان کے چند دن بعد ہوئی ہیں۔


مشہور خبریں۔
کشمیری عوام پر بھارتی مظالم اور پاک فوج کی جانب سے اظہار یکجہتی۔۔۔
?️ 10 اپریل 2021(سچ خبریں) پاک فوج نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی
اپریل
یمن جنگ کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے: سعودی تجزیہ کار
?️ 20 جون 2022سچ خبریں:سعودی سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ یمن جنگ کی دلدل
جون
محمد ضعیف کی تصاویر کی اشاعت صیہونی حکومت کے لیے بنی دردسر
?️ 10 جنوری 2024سچ خبریں:صیہونی حکومت کی جانب سے حماس کے فوجی کمانڈر محمد ضعیف
جنوری
نوجوانوں کو تھانوں میں طلب کرنا ریاستی دہشت گردی ہے:کل جماعتی حریت کانفرنس
?️ 3 مارچ 2024سرینگر: (سچ خبریں) کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ جموں و کشمیر
مارچ
اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی ہائی الرٹ، اضافی ناکے لگ گئے
?️ 18 فروری 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے اطراف سکیورٹی ہائی الرٹ
فروری
طالبان وزیر خارجہ کا بیان گمراہ کن، دہشت گردوں کے ثبوت کئی بار پیش کئے: پاکستان
?️ 17 اکتوبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ طالبان
اکتوبر
کشمیری عوام کے خلاف بھارت کی خطرناک سازش، کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق چھیننے کی تیاری جاری
?️ 20 جولائی 2021سرینگر (سچ خبریں) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کشمیری عوام کے خلاف خطرناک
جولائی
اسرائیل کے بلیک اکتوبر پر الجزیرہ کی رپورٹ
?️ 3 اکتوبر 2024سچ خبریں: غزہ کے خلاف صیہونی حکومت کی جنگ کے تقریباً ایک سال
اکتوبر