?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاک-افغان مشترکہ رابطہ کمیٹی (جے سی سی) کے ساتویں اجلاس میں اسلام آباد اور کابل سیکیورٹی اور سرحدی امور پر اہم بات چیت کریں گے، جس کا انعقاد کابل میں شیڈول ہے۔
افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق پاکستانی وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جس میں فوجی اور انٹیلی جنس حکام دونوں شامل ہیں، اسلام آباد میں سفیر محمد صادق کے دفتر نے بتایا کہ وفد آج صبح کابل پہنچا ہے۔
ادھر، ترجمان افغان حکومت ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ افغان نائب وزیر دفاع ملا عبدالقیوم ذاکر اجلاس کی قیادت کریں گے۔
ملا عبدالقیوم ذاکر طالبان کے ایک سینیئر رہنما ہیں، جنہوں نے امریکی-نیٹو افواج کے خلاف 20 سالہ جنگ کے دوران طالبان کے فوجی کمیشن کی قیادت کی تھی۔
محمد صادق کے ایکس اکاؤنٹ کے مطابق پاکستان کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان جے سی سی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک وفد کی سربراہی میں کابل پہنچے۔ یہ اجلاس ایک طویل وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔
جے سی سی کا آخری اجلاس جنوری 2024 کے اوائل میں اسلام آباد میں ہوا تھا۔
افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ دونوں فریق ’ڈیورنڈ لائن پر ممکنہ تنازعات کے حل اور دونوں اطراف کے لوگوں کے لیے سہولیات پیدا کرنے پر بات کریں گے۔
واضح رہے کہ یہ اجلاس دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان منعقد ہو رہا ہے، جس کی وجہ افغان مہاجرین کی ملک بدری، سرحد پر جھڑپوں اور 2021 میں طالبان کے افغانستان پر اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے پاکستان کے اندر مسلح گروپوں کی بڑھتی ہوئی دہشتگردیاں شامل ہیں۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ ان مسلح گروپوں کی افغان سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں ہیں، اس دعوے کی افغان حکام تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کوئی بھی افغان سرزمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ طورخم بارڈر کراسنگ کی بندش کے بعد پاکستان اور افغان طالبان فورسز میں پوسٹس کی تعمیر پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا، جس میں فوجیوں سمیت 8 افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس پیش رفت کے بعد پاکستان اور افغان جرگے نے ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں طورخم کو 27 دنوں کے بعد 19 مارچ کو دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔
پاکستانی جرگے کے سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ 15 اپریل تک جنگ بندی سمیت جرگے نے جو بھی فیصلہ کیا ہے اس پر جے سی سی میں بحث کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقین نے متنازع چیک پوسٹوں کی تعمیر روکنے پر اتفاق کیا تھا۔
پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر مسلح گروپوں کے معاملے کو پاک افغان تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔
مزید برآں، پاکستانی دفتر خارجہ نے گزشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ جعفر ایکسپریس ہائی جیکنگ کے پیچھے دہشت گردوں کے افغان کنکشن تھے، جن کے فون ریکارڈ افغانستان سے ملے تھے۔
افغان طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ داعش کے عسکریت پسند بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں، پاکستانی حکام نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔
افغان وزارت تجارت کے ترجمان عبدالسلام جواد نے کابل سے ڈان کو بتایا کہ ایک الگ پیش رفت میں افغان وزارت صنعت و تجارت کا ایک وفد وزیر نور الدین عزیزی کی قیادت میں آج پاکستان کا دورہ کرے گا۔
توقع ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے وزرائے تجارت ترجیحی تجارتی معاہدے، بعض اشیاء پر محصولات میں کمی، نظرثانی شدہ ٹرانزٹ معاہدے اور سرحدی مقامات پر تاجروں کے لیے سہولیات پر مزید بات چیت کریں گے۔


مشہور خبریں۔
صیہونی حکومت کے غزہ سے جاسوس بھرتی کرنے کے نئے ہتھکنڈے
?️ 6 نومبر 2025سچ خبریں: القدس نیوز ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق غزہ کی جنگ
نومبر
پیپلز پارٹی پانی پر سیاست کرکے وفاق کی اکائیوں کو کمزور کررہی ہے
?️ 1 جون 2021لاہور(سچ خبریں) وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات
جون
سعودی عرب نے مزار ابراہیمی میں صیہونی حکومت کے رہنما کی موجودگی کو اشتعال انگیز قرار دیا
?️ 30 نومبر 2021سچ خبریں:ایک بیان میں وزارت نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے مغربی
نومبر
صیہونی حکومت کے جرائم میں لندن کے ملوث ہونے پر برطانیہ کا احتجاج
?️ 30 نومبر 2023سچ خبریں:فلسطین کے حامی مظاہرین نے لندن میں فشر جرمن رئیل اسٹیٹ
نومبر
کیا صیہونی اسرائیلی قیدیوں کو آزاد اور حماس کو ختم کر سکیں گے؟صیہونی وزیر کا بیان
?️ 30 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ایک وزیر نے اسرائیلی قیدیوں کی آزادی
مئی
حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے بعد ٹرمپ: ہم ڈیموکریٹس کی بلیک میلنگ میں کبھی نہیں جھکیں گے
?️ 13 نومبر 2025سچ خبریں: وفاقی حکومت کی فنڈنگ میں 30 جنوری تک توسیع کے
نومبر
سید حسن نصر اللہ کی تقریر پر صہیونی میڈیا کا رد عمل
?️ 19 فروری 2022سچ خبریں:صیہونی میڈیا نےحزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ
فروری
سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے فوجی عدالتوں کےخلاف درخواست دائر کردی
?️ 21 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس جواد ایس خواجہ
جون