?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان نے امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ اور نئے ٹیرف کے حوالے سے مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی برآمدات میں اضافے اور امریکا کی جانب سے درآمدات پر لگائے گئے نئے ٹیرف کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم سید توقیر شاہ، معاونین خصوصی طارق فاطمی، ہارون اختر، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ اور نئے ٹیرف کے حوالے سے مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد بھیجا جائے گا۔
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ وفد میں معروف کاروباری شخصیات اور برآمد کنندگان کو بھی شامل کیا جائے۔
انہوں نے وفد کو امریکا کی جانب سے درآمدات پر لگائے گئے نئے ٹیرف پر مذاکرات کے بعد مستقبل کے لیے باہمی طور پر مفید لائحہ عمل طے کرنے کا ٹاسک سونپا۔
شہباز شریف نے کہا کہ امریکا و پاکستان کے تجارتی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں، حکومت امریکا کے ساتھ تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے۔
وزیرِ اعظم کو اجلاس میں امریکا کی جانب سے لگائے گئے نئے ٹیرف پر اسٹیئرنگ کمیٹی اور ورکنگ گروپ کی رپورٹ اور مستقبل کا مجوزہ لائحہ عمل پیش کیا گیا۔
اجلاس میں مختلف متبادل لائحہ عمل پیش کیے گئے، اجلاس کو بتایا گیا کہ امریکا میں پاکستانی سفارتخانہ مسلسل امریکی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔
شہباز شریف نے امریکا کے ساتھ اس حوالے سے مذاکرات کے لیے وفد کی تشکیل کے دوران معروف کاروباری شخصیات اور برآمد کنندگان کی شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
خیال رہے کہ 3 اپریل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکا کو درآمد کی جانے والی زیادہ تر اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ساتھ ساتھ درجنوں حریفوں اور اتحادیوں پر بھی بہت زیادہ محصولات عائد کیے گئے تھے جس نے عالمی تجارتی جنگ کو تیز کر دیا تھا، اور اس سے افراط زر میں اضافے اور ترقی رکنے کا خطرہ ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے ٹیکس عائد کرنے کے فارمولے پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے زیادہ تر ممالک پر اس کا نصف ٹیکس عائد کیا ہے، جو وہ امریکا سے وصول کرتے ہیں۔
اس طرح انہوں نے پاکستان کی جانب سے وصول کیے جانے والے 58 فیصد کے مقابلے 29 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا۔


مشہور خبریں۔
غزہ جنگ میں کسے شکست ہوئی ہے؟ امریکی نیوز ایجنسی
?️ 12 جنوری 2024سچ خبریں:امریکی نیوز سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں زور دیا ہے
جنوری
نیتن یاہو نے 13 بار جنگ بندی کی مخالفت کے بعد آخر کیوں ماننا ؟
?️ 22 نومبر 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی کابینہ نے 13 بار جنگ بندی پر عمل
نومبر
اسرائیلی فوجیوں کو لبنان کے تمام علاقوں سے مکمل طور پر خارج ہونا چاہیے: مصر
?️ 26 نومبر 2025سچ خبریں: مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے بیروت کے دورے کے
نومبر
غزہ میں بوسنیائی نسل کشی جیسا قتل عام: اردگان
?️ 15 ستمبر 2024سچ خبریں: ترکی کے صدر اردگان نے استنبول میں بوسنیا اور ہرزیگوینا
ستمبر
حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر روسی وزیر خارجہ کا رد عمل
?️ 9 اکتوبر 2025حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر روسی وزیر خارجہ کا
اکتوبر
تیونس میں فلسطین کی حمایت اور صیہونی حکومت کی مذمت میں مارچ
?️ 7 اپریل 2024سچ خبریں: تیونس کے شہریوں نے نائٹ مارچ کرکے فلسطینی قوم کی
اپریل
شہبازشریف کی حریت راہنما یاسین ملک کو دہشت گردی کے جعلی مقدمے میں ملوث کرنے کی مذمت
?️ 23 مئی 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیراعظم شہبازشریف کا ممتاز حریت راہنما محمد یاسین ملک کو دہشت
مئی
چیئرمین سینیٹ کا جنوبی کوریا کے سفیر سے ملاقات میں باہمی تعلقات پر زور
?️ 2 جولائی 2021اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی سے جنوبی کوریا کے
جولائی