?️
استنبول: (سچ خبریں) پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدگی کے بعد قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا دوسرا دور استبول میں جاری ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان ترکیہ کے شہر استنبول کے ایک ہوٹل میں میں باضابطہ مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان کا 7 رکنی وفد سینئر عسکری، انٹیلی جنس اور وزارتِ خارجہ کے حکام پر مشتمل ہے جب کہ افغانستان کا 7 رکنی وفد نائب وزیرِ داخلہ کی قیادت میں مذاکرات میں شریک ہے۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو نے رپورٹ کیا ہے کہ افغان عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغان وفد کی قیادت نائب وزیر داخلہ مولوی رحمت اللہ نجيب کریں گے۔
انہوں نے گزشتہ روز کی گئی ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ باقی رہ جانے والے معاملات اجلاس میں زیرِ بحث آئیں گے۔
اس سے قبل، پاکستان اور افغانستان نے سرحد پر ایک ہفتے تک جاری شدید اور خونریز جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے پہلے دور میں دونوں ممالک نے آنے والے دنوں میں فالو اپ ملاقاتیں کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنایا جاسکے اور اس کے نفاذ کی قابلِ اعتماد اور پائیدار نگرانی کی جاسکے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاک-افغان مذاکرات کا دوسرا دور آج استنبول میں ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ افغانستان سے کشیدگی نہیں چاہتے لیکن افغان طالبان سے مطالبہ ہے کہ وہ عالمی برادری سے اپنے وعدوں کی پاسداری کرے اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنۃ الہندوستان اور سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف سخت ایکشن لیں۔
گزشتہ روز، دفترِ خارجہ کے نئے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ پاکستان کو امید ہے کہ آج استنبول میں ہونے والے اگلے اجلاس میں ایک ٹھوس اور قابلِ تصدیق نگرانی کا نظام قائم کیا جائے گا، تاکہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ابھرنے والی دہشت گردی کے خطرے کا تدارک کیا جا سکے اور پاکستانیوں کی مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں کمی کے لیے قطر میں مذاکرات 18 اور 19 اکتوبر کو منعقد ہوئے تھے جس میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے تحفظات پیش کئے تھے۔
علاوہ ازیں، ایک انٹریو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان، ترکیہ اور قطر کی جانب سے دستخط کردہ معاہدے میں یہ بات واضح طور پر لکھی گئی ہے کہ کوئی سرحدی دراندازی نہیں ہوگی اور جب تک اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، جنگ بندی نافذ العمل رہے گی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، افغانستان سے طالبان کی ’ملی بھگت‘ سے پاکستان پر حملے کرتی رہی ہے، تاہم کابل پہلے ہی ان الزامات کی تردید کر چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے کا بنیادی مقصد ’دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ’ ہے، دہشت گردی کئی برسوں سے پاک-افغان سرحدی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل متنازع سرحد پر زمینی لڑائی اور پاکستانی فضائی حملے اس وقت شروع ہوئے تھے، جب اسلام آباد نے کابل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ دہشت گردوں پر قابو پائے جو مبینہ طور پر افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے حملے کرتے ہیں۔
بعد ازاں، 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغانستان سے طالبان حکومت کی سیکیورٹی فورسز نے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی، جس پر پاک فضائیہ نے منہ توڑ جواب دیا۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے افغان علاقوں کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند میں بھی کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں جب کہ جارحیت کا مظاہرہ کرنے والی کئی افغان چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا جس میں درجنوں افغان طالبان مارے گئے۔
ناکامی اور پسپائی پر افغان طالبان حکومت نے پاکستان سے فوری جنگ بندی کی استدعا کی تھی جس پر پاکستان نے 15 اکتوبر کو 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا۔
طالبان حکومت نے ایک بار پھر جنگ بندی میں توسیع کی درخواست کی جس پر پاکستان نے امن مذاکرات تک جنگ بندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔


مشہور خبریں۔
ایران کے خلاف جنگ ایک اسٹریٹجک غلطی ہے: عرب ماہر
?️ 28 مارچ 2026سچ خبریں:مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ایک ماہر اور تجزیہ کار نے
مارچ
عمر اکمل پر ایک سال کی پابندی اور 42 لاکھ سے زیادہ کا جرمانہ عائد
?️ 26 فروری 2021کراچی {سچ خبریں} قومی کرکٹر عمر اکمل کو کرکٹ کی عالمی ثالثی
فروری
شوکت ترین کی اسٹیٹ بینک پر حکومت کا کنٹرول برقرار رہنے کی یقین دہانی
?️ 10 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خزانہ سینیٹر شوکت ترین کا کہنا ہے
جنوری
ترکیہ اور اسرائیل کے شامی تنازعات کو روکنے کے لیے نئے رابطے
?️ 22 مئی 2025سچ خبریں: بین الاقوامی خبری ویب سائٹ "مڈل ایسٹ آئی” نے دو
مئی
حکومتی شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے بعد ٹرمپ: ہم ڈیموکریٹس کی بلیک میلنگ میں کبھی نہیں جھکیں گے
?️ 13 نومبر 2025سچ خبریں: وفاقی حکومت کی فنڈنگ میں 30 جنوری تک توسیع کے
نومبر
شام کی سعودی عرب میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کی تیاری
?️ 4 مئی 2023سچ خبریں:شامی ذرائع ابلاغغ نے اس ملک کی خارجہ کے ایک ٹیکنیکل
مئی
ہم جلد ہی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف زمینی کارروائی شروع کریں گے: ٹرمپ
?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی
دسمبر
نظرثانی کیس، وکیل کے بیمار ہونے پر خود فائز عیسی نے دئے دلائل
?️ 1 مارچ 2021اسلام آباد {سچ خبریں} عدالت عظمیٰ کے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی
مارچ