?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) مسلم لیگ(ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کسی کشیدگی یا محاذ آرائی کی طرف نہ جائیں کیونکہ ہمارے دشمن چاہیں گے کہ پاکستان اور افغانستان کو تناؤ میں الجھا دیا جائے۔
ڈان نیوز کے پروگرام ’لائیو ود عادل شاہ زیب‘ میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں دہشت گردوں کی واپسی کے حوالے سے اداروں نے جو بھی فیصلے کیے اس کی ذمے داری اس وقت کی حکومت کے اوپر ہے کیونکہ ادارے جو فیصلے کرتے ہیں وہ حکومت کے پابند ہوتے ہیں کیونکہ ادارے تو ہیں لیکن ذمے داری وزیر اعظم کی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے دشمن یہ چاہیں گے کہ پاکستان اور افغانستان کو تناؤ میں الجھا دیا جائے تو ہمیں جہاں اپنے مفادات کا دفاع کرنا ہے وہیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کسی کشیدگی یا محاذ آرائی کی طرف نہ جائیں اور اس میں ہمارے مشترکہ دوست ممالک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آئی ایم ایف سے مذاکرات کے حوالے سے سوال پر احسن اقبال نے کہا کہ ابھی تک معاملات بھرپور طریقے سے چل رہے ہیں حالانکہ ہمارے ملک سے ایک جماعت نے بھرپور کوشش کی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات کو سبوتاژ کیا جائے، آئی ایم ایف کے دفتر کے باہر جو مظاہرہ کیا گیا میں اسے معاشی دہشت گردی ہی قرار دوں گا۔
انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ہم ملک کو منت ترلوں سے نہیں چلا سکتے، ملک کو مستقل بنیادوں پر قرضوں اور امداد سے نہیں چلا سکتے، اگر ہمیں اس صورتحال سے مستقل بنیادوں پر نکلنا ہے تو ملک کی معیشت کی پیداواری صلاحیت پر بھرپور توجہ دینی ہو گی، ہمیں اپنے ملک میں زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت پیدا کرنی ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیراعظم کو پاکستان میں ایکسپورٹ ایمرجنسی لگانے کی تجویز پیش کی ہے، پاکستان چیمبرز کے تمام چیئرمین کو کہا ہے کہ وہ اپے بریف کیس اٹھا کر عالمی منڈیوں میں نکل جائی، ہمیں چاہیے کہ ہم ملک کی پیداواری صلاحیت کو دنیا کے مطابق مسابقتی بناتے ہوئے اس مقام تک لائیں کہ ہم اس مانگ تانگ کے فارمولے سے نکل جائیں۔
مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے حوالے سے صوبے بہت حساس ہیں اور کوئی بھی نہیں چاہے گا کہ اس کو رول بیک کریں، اب جو چیز آئین میں لکھی گئی ہے تو کوئی یہ کہے گا کہ ہم صوبوں کا حصہ گھٹانے پر تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں کا حصۃ نکانے کے بعد وفاقی حکومت کے کُل محاصل 7ہزار ارب رہ جاتے ہیں، بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی 7ہزار 300ارب ہے تو یہ 300ارب کا خسارہ ہے جو ایک ہزار ارب تک جائے گا تو ہمیں اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مزید ایک ہزار ارب روپے کا قرض لینا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اخراجات کو کم کر کے آمدن کے مطابق خرچ کرنا ہو گا، ہمارے موجودہ اخراجات میں سب سے بڑا خرچہ قرضوں کی ادائیگی ہے اور یہ اس لیے اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ ہمارا پالیسی ریٹ 22فیصد تک پہنچ گیا ہے، اس کا براہ راست تعلق مہنگائی سے ہے، اگر ایک فیصد پالیسی ریٹ نیچے لائیں تو 300 ارب روپے قرضوں کی ادائیگی میں کمی آ سکتی ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں اپنے ریونیو کو دو سے تین گنا بڑھانا ہے، ٹیکس وصولی میں جو پیسے چوری ہو رہے ہیں اس کو روکنا ہو گا، بجلی اور گیس چوری کو روکنا ہو گا، اب ہمیں ایک اکنامک لانگ مارچ کی ضرورت ہے۔


مشہور خبریں۔
الجزیرہ نے مقبوضہ کشمیرمیں مشتبہ اموات پر بھارتی حکام کے بیانیہ کو مسترد کردیا
?️ 8 اپریل 2025سرینگر: (سچ خبریں) الجزیرہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں غیر قانونی طور
اپریل
تہذیبوں کے مابین مکالمے اور نرم سفارت کا ذریعہ:بریکس ادب
?️ 30 اکتوبر 2025سچ خبریں: مریم الہاشمی، متحدہ عرب امارات کی نمائندہ اور بریکس ادبی
اکتوبر
پناہ کی تلاش؛ مایوسی کی منزل کا سفر
?️ 4 فروری 2022سچ خبریں:شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ متعدد حکومتیں پناہ کے متلاشیوں
فروری
وزیراعظم پاکستان: حکومت اقلیتوں کے حقوق کی حمایت کرے گی
?️ 12 اگست 2025سچ خبریں: وزیر اعظم پاکستان نے اعلان کیا کہ پاکستان اعلیٰ مذہبی
اگست
وزیر ریلویز حنیف عباسی کا کینٹ اسٹیشن کراچی کا دورہ
?️ 16 نومبر 2025کراچی (سچ خبریں) وفاقی وزیرِ ریلویز حنیف عباسی نے کراچی کینٹ اسٹیشن
نومبر
اسرائیل نے دو سالہ غزہ جنگ میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار کو چھپایا ہے
?️ 8 اکتوبر 2025اسرائیل نے دو سالہ غزہ جنگ میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار
اکتوبر
جی ایچ کیو حملہ کیس: استغاثہ کے مزید 8 گواہوں کی شہادتیں ریکارڈ
?️ 15 فروری 2025راولپنڈی: (سچ خبریں) بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان
فروری
وزیراعظم اور شاہ اردن کے درمیان ملاقات، دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال
?️ 16 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف اور شاہ اردن کے درمیان
نومبر