?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے چار بڑے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جن میں سولر پینلز پر جی ایس ٹی میں کمی اور سندھ کی جامعات کے لیے فنڈز کی مکمل بحالی شامل ہیں۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے بالآخر اپنی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چار بڑے مطالبات مان لیے ہیں، جس سے قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ کی باآسانی منظوری کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
بدھ کے روز پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں بجٹ پر بحث کے دوران ڈپٹی وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے انکشاف کیا کہ پی پی پی کے رہنماؤں جن میں بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیراعظم شہباز شریف شامل ہیں، سے تفصیلی مشاورت کے بعد حکومت نے پی پی پی کے اہم مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، جن میں سولر پینلز پر مجوزہ جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) میں کمی بھی شامل ہے۔
یہ یقین دہانی بجٹ پر جاری بحث کے دوران خاص طور پر پی پی پی کے ارکان کی جانب سے مختلف بجٹ تجاویز پر تنقید کے بعد سامنے آئی۔
پارلیمنٹ میں متعدد ارکان کی جانب سے ڈیسک بجا کر حوصلہ افزائی کے دوران اسحٰق ڈار نے اعلان کیا کہ ڈیجیٹل سروسز پر سیلز ٹیکس کا اختیار بدستور صوبوں کے پاس رہے گا، جب کہ سولر پینلز پر 18 فیصد مجوزہ جی ایس ٹی کو کم کر کے 10 فیصد کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اتحادی جماعتوں اور متعلقہ فریقین، بشمول وزارتِ خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد منگل کی رات بجٹ سے متعلق کئی متنازع امور پر اتفاقِ رائے ہو گیا۔
اسحٰق ڈار نے پی پی پی کی جانب سے ڈیجیٹل ٹیکسیشن پر اٹھائے گئے تحفظات کو درست قرار دیا اور کہا کہ یہ معاملہ وزیر خزانہ اپنی اختتامی تقریر میں واضح طور پر بیان کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ سولرائزیشن میں استعمال ہونے والے 54 فیصد پرزہ جات پر پہلے ہی ٹیکس نافذ ہے، تاہم باقی 46 فیصد پر 18 فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ کی تجویز پر اسٹیک ہولڈرز میں شدید تشویش پائی جاتی تھی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اب ہم نے یہ تجویز دی ہے کہ سولر پر جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا جائے گا۔
ڈپٹی وزیراعظم نے کہا کہ جب کسی شعبے میں ریلیف دیا جاتا ہے تو حکومت کو اس خسارے کی تلافی کے لیے دیگر ذرائع سے محصولات اکٹھا کرنے پر غور کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ابتدائی طور پر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن وفاقی کابینہ میں مشاورت کے بعد اسے بڑھا کر 10 فیصد کر دیا گیا اور اب اس اضافی خرچ کی تلافی کے لیے آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے۔
پی پی پی کے ایک اور مطالبے کا ذکر کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ سندھ کی جامعات کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ذریعے پی ایس ڈی پی میں 4 ارب 70 کروڑ روپے کی فنڈنگ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جب کہ بجٹ میں یہ رقم کم کر کے 2 ارب 60 کروڑ روپے کر دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے پی پی پی کے ان تحفظات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ غیر فعال پی ڈبلیو ڈی کے منصوبوں کو تین صوبوں کے حوالے کرنے اور سندھ کے منصوبوں کو نو قائم شدہ پاکستان انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (پی آئی ڈی سی ایل) کے سپرد کرنے کے معاملے پر نظرِثانی کی جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات سے اتفاق کیا کہ تمام صوبوں کے لیے یکساں پالیسی ہونی چاہیے، اب پی آئی ڈی سی ایل تمام صوبوں میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرے گی۔
تاہم اسحٰق ڈار نے سندھ میں جاری منصوبوں، بشمول سکھر-حیدرآباد موٹر وے کے لیے کم فنڈز مختص کرنے کے معاملے کا ذکر نہیں کیا۔
پیپلز پارٹی کے کئی ارکان نے اپنی بجٹ تقاریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ موجودہ صورت میں بجٹ کی حمایت ان کے لیے ممکن نہیں ہوگی۔
پی پی پی ارکان نہ صرف سولر پینلز پر 18 فیصد جی ایس ٹی کی مخالفت کر رہے تھے بلکہ وہ سندھ کے ساتھ ’سوتیلا سلوک‘ کیے جانے پر بھی سراپا احتجاج تھے، کیونکہ وہاں کے جاری منصوبوں کے لیے نہایت کم فنڈز مختص کیے گئے تھے۔
ان کا احتجاج وفاقی حکومت کی جانب سے ختم شدہ پی ڈبلیو ڈی کے منصوبے سندھ حکومت کو منتقل نہ کرنے اور ڈیجیٹل سروسز پر ٹیکس براہِ راست مرکز کے ذریعے وصول کرنے پر بھی تھا۔
پی پی پی کے سینئر پارلیمنٹیرین سید نوید قمر نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہمارے بیشتر مسائل کو حل کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعظم اور ڈپٹی وزیراعظم کے شکر گزار ہیں، ہمارے مسائل کسی حد تک کم ہوگئے ہیں۔
انہوں نے سولر آلات پر جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کرنے کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ پارٹی چاہتی ہے کہ اسے مزید کم کر کے 5 فیصد کر دیا جائے۔
نوید قمر نے اعلان کیا کہ معاملات اب طے پا چکے ہیں۔
اس سے قبل بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے اعجاز جاکھرانی نے اسمبلی میں انکشاف کیا تھا کہ ان کی جماعت اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اختلافات ختم ہو چکے ہیں اور اب وہ بجٹ کی حمایت میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا تھا کہ جب حکومت نے ہماری بات سن لی ہے، تو ہم بجٹ کے حق میں ووٹ کیوں نہ دیں؟


مشہور خبریں۔
2025 میں بجلی کی خرید و فروخت کی ذمہ داری حکومت کی نہیں رہے گی، اویس لغاری
?️ 28 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے
دسمبر
ایکسٹینشن سے متعلق قانون سازی غلطی تھی، ترمیم کی ضرورت ہے، شاہد خاقان عباسی
?️ 7 جنوری 2023اسلام اباد(سچ خبریں) سابق وزیر اعظم اور رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن)
جنوری
صہیونی مظاہروں کی سونامی؛ نافرمانی کی ایک عظیم لہر کا اشارہ
?️ 21 اپریل 2025سچ خبریں: گزشتہ چند دنوں سے صہیونیوں میں احتجاجی درخواستوں کی ایک
اپریل
پاکستان، افغانستان میں امن و استحکام چاہتا ہے: وزیر خارجہ
?️ 30 مارچ 2021دو شنبہ(سچ خبریں)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پرامن
مارچ
نہ بائیڈن نہ ٹرمپ؛امریکی نئے صدر کے خواہاں
?️ 7 فروری 2023سچ خبریں:امریکہ میں کیے جانے والے ایک سروے کے نتائج بتاتے ہیں
فروری
فرحان اختر کا ایک منفرد اور غیر روایتی کہانی پر فلم بنانے کا اعلان
?️ 10 اگست 2021ممبئی(سچ خبریں)بالی ووڈ کے معروف اداکار و ہدایتکار فرحان اختر نے ایک
اگست
یمن جنگ کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے: سعودی تجزیہ کار
?️ 20 جون 2022سچ خبریں:سعودی سیاسی تجزیہ کار نے کہا کہ یمن جنگ کی دلدل
جون
ہر روز جنگ میں مرنے والے بچوں کی تعداد 300 سے زائد
?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں: الصحفہ العالمیہ نیوز ایجنسی کے ذریعہ القاباتی کے حوالے سے بتایا
نومبر