?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن سے ٹیلی فون پر بات چیت کی‘ افغانستان کی طالبان حکومت اور تاجکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران وزیراعظم عمران خان نے معاملات کو حل کرنے کے لیے قدم بڑھایا ہے۔
یہ فون کال ایسے وقت میں کی گئی کہ جب طالبان حکام اور تاجک حکومت کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ ہوا اور رپورٹس سامنے آئیں کہ تاجک افواج نے افغانستان کے سرحدی علاقے میں طاقت کے مظاہرے کے لیے پریڈ کا انعقاد کیا جبکہ طالبان نے شمال مشرقی پڑوس کی سرحد کی جانب ہزاروں جنگجو بھیجے۔
تاجکستان نے طالبان حکومت کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا ہے اور خاص طور پر پنج شیر صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کی۔
تاجکستان میں ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے 18 ستمبر کو واپسی پر وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ طالبان کو ایک جامع حکومت بنانے کے لیے راضی کررہے ہیں جن میں تمام نسلی گروہوں کے افراد شامل ہوں۔اس موقع پر انہوں نے خاص طور پر اس معاملے پر تاجک صدر امام علی کے ساتھ اپنی گفتگو کا حوالہ دیا۔
بعدازاں ایک ٹوئٹ میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ دوشنبے میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتوں خصوصاً تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن سے طویل بات چیت کے بعد میں نے ایک شمولیتی حکومت کی خاطر تاجک، ہزارہ اور ازبک برادری کی افغان حکومت میں شمولیت کے لیے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کردیا ہے۔
تاہم طالبان، تاجکستان کی ان پر تنقید اور ان کی حکومت کی تشکیل کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے طور پر دیکھتے ہیں۔
رواں ہفتے ایک ٹی وی انٹرویو میں افغان نائب وزیراعظم عبدالسلام حنفی نے کہا تھا کہ ’ہم کسی ہمسایہ ملک کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے‘۔
خیال رہے کہ تاجک آبادی افغانستان کا دوسرا بڑا نسلی گروہ ہے جو افغانستان کی 27 فیصد آبادی پر مشتمل ہے، اس گروہ کی اکثریت طالبان مخالف ہے جن میں سے بیشتر نے تاجکستان میں پناہ لے رکھی ہے.
دفتر وزیراعظم کے بیان میں واضح طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ وزیراعظم نے دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی کی کمی کا مطالبہ کیا، البتہ یہ کہا گیا کہ وزیراعظم نے بات چیت کے دوران ’افغان عوام کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کی فوری ضرورت اور افغانستان کو درکار فلاحی امداد کی فراہمی میں بین الاقوامی برادری کے کردار کو اجاگر کیا‘۔
بیان کے مطابق وزیراعظم نے اقتصادی بحران کو روکنے اور عام لوگوں کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے افغانستان کے ساتھ اقتصادی رابطوں کی فوری اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
ساتھ ہی دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششوں کو مزید مربوط بنانے کے لیے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔وزیراعظم عمران خان طالبان کے ساتھ بین الاقوامی برادری کے رابطوں کے سب سے بڑے وکیل کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔


مشہور خبریں۔
آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر
?️ 23 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے
جون
اسلام آباد سے فلسطینیوں کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے جمع کئے گئے
?️ 19 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) جماعت اسلامی اسلام آباد کے امیر نصر اللہ
جون
مراکش کے 36 شہروں میں صیہونیوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے خلاف احتجاجی مظاہرے
?️ 30 نومبر 2021سچ خبریں:اسرائیلی وزیر جنگ کے دورے کے بعد مراکش کے مختلف شہروں
نومبر
صوبے کے عوام کی بہتری کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔ مریم نواز
?️ 21 مئی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ صوبےکے
مئی
پاکستان نے 18 مارچ کو افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا، ترجمان دفتر خارجہ
?️ 21 مارچ 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا
مارچ
ایران کا امریکہ اور اسرایل کو فوجی جھٹکا، امریکی فضائی برتری کے خاتمے کا آغاز: عطوان
?️ 5 اپریل 2026سچ خبریں:عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان کے مطابق ایران کے تیز رفتار
اپریل
سال 2024 پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کیلئے ’جان لیوا‘ رہا، 685 اہلکار شہید ہوئے
?️ 31 دسمبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سال 2024 پاکستان کی سول اور ملٹری سیکیورٹی
دسمبر
ترکی کی صیہونی گیس استعمال کرنے اور اسے یورپ تک پہنچانے کی کوشش
?️ 6 فروری 2022سچ خبریں:ترکی کے صدر کا کہنا ہے کہ وہ صیہونیوں کی قدرتی
فروری