?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان، فتنۃ الہندوستان اور فتنۃ الخوارج کی جانب سے اشتعال انگیزی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔
وزیراعظم نے کُرم سیکٹر میں افغان طالبان کے حملے کو ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ افغان طالبان کو ان کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاک فوج نے بھرپور جواب دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی سالمیت کا بہر صورت دفاع کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کے لیے استعمال ہونا انتہائی قابل مذمت ہے۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب
وزیراعظم شہبازشریف نے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس کل طلب کرلیا ہے، افغان طالبان، فتنۃ الہندوستان اورفتنۃ الخوارج کی اشتعال انگیزی کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔
وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔
وزیراعظم اپنے مصر کے دورے سے کابینہ ارکان کو آگاہ کریں گے۔
غزہ امن سربراہی اجلاس کے دوران پاکستان کو ایک اہم مقام حاصل رہا، اس کے علاوہ قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے فیصلے بھی توثیق کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ ؎ یاد رہے کہ اس سے قبل پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ 15 اکتوبر 2025 کو علی الصبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں 4 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھرپور اور مؤثر انداز میں ناکام بنا دیا، اس دوران 15 سے 20 افغان طالبان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ اسپن بولدک کا واقعہ منفرد یا الگ نوعیت کا نہیں ہے، 14 اور 15 اکتوبر کی شب افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے خیبر پختونخوا کے کُرم سیکٹر میں پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی تھی، جسے پاکستانی فورسز نے بہادری سے پسپا کر دیا تھا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی میں افغان چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچا اور دشمن کی 8 چوکیوں کے علاوہ 6 ٹینک بھی تباہ کیے گئے جبکہ 25 سے 30 دہشت گرد مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔
اس طرح منگل اور بدھ کو افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج کے 50 کے لگ بھگ حملہ آور ہلاک کیے گئے تھے۔
جھڑپوں کا پس منظر
11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب جھڑپیں اس وقت شروع ہوئی تھیں، جب کابل نے الزام لگایا تھا کہ اسلام آباد نے گزشتہ ہفتے افغان دارالحکومت پر فضائی حملے کیے تھے۔
طالبان سرحدی فورسز کے مطابق ان کے اہلکار پاکستانی فضائی حملوں کے ردعمل میں مشرقی علاقوں میں بھاری لڑائی میں مصروف رہیں۔
کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند کے طالبان حکام نے بھی جھڑپوں کی تصدیق کی تھی۔
اسلام آباد نے کابل میں حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن مخالف فریق پر زور دیا تھا کہ ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جوابی کارروائی میں کئی افغان فوجی مارے گئے اور عسکری گروہ مؤثر اور شدید جوابی کارروائی کے باعث پسپا ہو گئے تھے۔
قبل ازیں افغان وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ افغان فورسز نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف جوابی کارروائیاں کی ہیں، یہ کارروائیاں نصف شب ختم ہوگئیں، اگر مخالف فریق نے دوبارہ افغان سرزمین کی خلاف ورزی کی تو ہماری افواج بھرپور جواب دیں گی۔


مشہور خبریں۔
’اعظم خان کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ؟‘ سائفر کیس میں سزا کیخلاف اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی
?️ 16 اپریل 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران
اپریل
الیکشن مینجمنٹ سسٹم بھی 2018 کے آر ٹی ایس کی طرح غیرمؤثر
?️ 9 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)الیکشن کمیشن آف پاکستان کا دعویٰ تھا کہ انٹرنیٹ
فروری
بن سلمان کا جدہ کے رہائشیوں سے بدلہ
?️ 12 ستمبر 2022سچ خبریں:ایک برطانوی میگزین نے سعودی عرب کے جدہ شہر کے محلوں
ستمبر
شیخ حسینہ کے ایک لفظ نے ان کے 16 سالہ اقتدار کو کیسے مٹی میں ملا دیا؟
?️ 7 اگست 2024سچ خبریں: 16 سال سے اقتدار میں رہنے والی بنگلہ دیش کی
اگست
یورپی یونین کے عہدیدار نے واضح طور پر اسرائیل کو کھیلوں کے مقابلوں سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے
?️ 26 مئی 2025سچ خبریں: پولیٹیکو میگزین نے آج لکھا کہ یورپی یونین کے کھیلوں
مئی
کینیڈین کا تل ابیب کے ساتھ فوجی تجارت ختم کرنے کا مطالبہ
?️ 6 جون 2024سچ خبریں: اب اسرائیلی حکومت کو ہتھیاروں پر پابندی لگائیں” کینیڈین ایسوسی
جون
ایران کا مصر کے ساتھ تعلقات بحال کرنے پر آمادگی کا اعلان
?️ 6 جون 2023سچ خبریں:مصر میں عمان کے سفیر نے کہا کہ ایران مصر کے
جون
یمن میں جاری جارحیت کے خلاف انسانی حقوق کی متعدد عالمی تنظیموں کا ردعمل
?️ 29 مارچ 2022سچ خبریں:انسانی حقوق کی 37 عالمی تنظمیوں میں یمن میں جاری جارحیت
مارچ