?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) آئی ایم ایف کے بورڈ نے پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو تقویت دینے کے لیے 7 ارب ڈالر قرض دینے پر اتفاق کرتے ہوئے ایک ریلیف پیکج کی منظوری دے دی ہے، اس حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرقیادت حکومت نے وعدہ کیا کہ یہ واشنگٹن میں مقیم قرض دہندہ کے ساتھ کیے جانے والا آخری معاہدہ ہوگا۔
میڈیا کے مطابق آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا قرض پروگرام 37 ماہ کے عرصے پر محیط ہوگا، پاکستان کو فوری طور پر ایک ارب ڈالرز کی قسط جاری کی جائےگی۔
یاد رہے کہ حکومت نے جولائی میں اس معاہدے پر اتفاق کیا تھا، پاکستان گزشتہ سال ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا تھا کیونکہ 2022 کے مون سون کے تباہ کن سیلابوں اور کئی دہائیوں کی بدانتظامی کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی بدحالی کے بعد سیاسی افراتفری کے درمیان معیشت سکڑ گئی تھی۔
تاہم حکومت دوست ممالک کے قرضوں کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کے ریسکیو پیکج کی وجہ سے بچ گئی تھی لیکن اس کی مالیات بدستور بدحالی کا شکار ہے، جس میں مہنگائی میں اضافہ اور عوامی قرضوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔
وزیر اعظم شریف نے قرض معاہدے پر اتفاق ہونے کے بعد کہا تھا کہ اس پروگرام کو آخری پروگرام سمجھا جانا چاہیے۔
وزارت خزانہ نے نئے قرض معاہدے کے لیے آئی ایم ایف حکام سے مہینوں تک مذاکرات کیے۔
یہ معاہدہ ان اصلاحات کی شرط پر ہوا ہے جس میں مستقل طور پر بحران کا شکار توانائی کے شعبے کے تدارک کے لیے گھریلو بلوں میں اضافہ اور ٹیکسوں کو بڑھانا شامل ہے۔
24 کروڑ سے زیادہ لوگوں کے ملک میں 2022 میں صرف 52 لاکھ نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے تھے۔
آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق پاکستان نےمعاشی استحکام کےلیے اسٹینڈ بائی پروگرام کےتحت پالیسیوں پر عمل کیا، پاکستان کی معاشی شرح نمو مالی سال 2024 میں 2.4 فیصد رہی، پاکستان میں مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے، نئےقرض پروگرام کے تحت پاکستان کو پالیسی سازی کی ساکھ کو بحال کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانا ہوگا اور مسابقت اور پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے، سرکاری اداروں میں اصلاحات کرنی ہوں گی، اور توانائی کے شعبہ کو قابل عمل بنانا ہوگا۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں نامناسب کاروباری ماحول سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہے،کمزور گورننس، بے جا حکومتی مداخلت سے غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آرہی، پاکستان میں تعلیم اور صحت کے شعبوں پر بھی کم اخراجات کیے جا رہے ہیں۔
اس پیش رفت کا اعلان وزیر اعظم کے دفتر نے بھی کیا تھا۔
اعلان کے کچھ دیر بعد وزیراعظم شہباز شریف نے نیویارک میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور قرضہ پیکج کی منظوری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔


مشہور خبریں۔
فلسطین عالم اسلام کی اولین ترجیح رہا ہے اور رہے گا:ایران
?️ 23 مارچ 2022سچ خبریں:پاکستان میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے
مارچ
ہم یمنی میزائل کے سامنے ناکام رہے: تل ابیب
?️ 15 ستمبر 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے ریڈیو نے اعتراف کیا کہ یہ پہلا موقع
ستمبر
گوگل ملازمین کی برطرفی کی وجہ؛خود ملازمین کی زبانی
?️ 2 مئی 2024سچ خبریں: گوگل کے ملازمین کے ایک گروپ نے جنہیں نمبس پروجیکٹ
مئی
آئی ایم ایف سے سات ارب ڈالر کے بیل آﺅٹ پیکج کی اگلی قسط کے لیے مذاکرات
?️ 9 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے درمیان آج
مئی
وزیر تعلیم نے چھٹیوں کا اعلان کر دیا
?️ 17 دسمبر 2021لاہور (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیرتعلیم پنجاب نے ٹویٹر پر اپنے
دسمبر
سمجھ نہیں آیا ججوں نے درخواست سپریم کورٹ میں کیوں دی۔ بیرسٹر عقیل ملک
?️ 20 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا
نومبر
پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے
?️ 14 جون 2021اسلام آبا د (سچ خبریں) پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے
جون
حکام میرواعظ کو اپنا مذہبی فریضہ ادا کرنے کی اجازت دیں : فاروق عبداللہ
?️ 5 نومبر 2023سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں
نومبر