?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم کالعدم قرار دیے جانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہ قانون اپنی اسی ظالمانہ شکل میں بحال ہو گیا تو یہ پی ٹی آئی اور عمران خان کو مبارک ہو، اب وہ اس کو بھگتیں گے اور آنے والے دنوں میں انہیں لگ پتا جائے گا، میرے خیال میں یہ مکافات عمل ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناللہ نے کہا کہ 2017 میں پیٹرول 65 روپے لیٹر تھا، ڈالر 100 کے آس پاس تھا، شرح نمو 6.2 فیصد تھی اور اگلے سال کا ہدف 7.5 تھا، اگر ہم وہ ہدف کر لیتے تو پاکستان کو ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا تھا، لیکن بدقسمتی سے اس وقت کی جوڈیشل اور اسٹیبلشمنٹ نے اس ملک میں ایک سازش کی اور ایک منتخب حکومت اور منتخب وزیراعظم کو نکالا گیا اور پاکستان کو ایک ایسے شخص کے سپرد کیا گیا جس نے اگلے ساڑھے تین چار سالوں میں ماسوائے انتقام کے کوئی کام نہیں کیا اور اس کا ایک ہی تکیہ کلام رہا کہ میں نہیں چھوڑوں گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان خود کو صادق و امین اور بقیہ سب کو چور سمجھتا تھا اور اس نے پاکستان کی سیاست کو اخلاقی طور پر بھی تباہ کیا، وہ ملک میں ایک ایسی نفرت لے کر آیا جس نے نوجوانوں کے ذہنوں نیب میں ایسا بارود بھرا کہ اس نے پونے 4 سال میں ملکی سیاست کو یہ رنگ دیا کہ ہم ایک ہی ملک کے رہنے، ایک گھر کے رہنے اور ایک ہی نیب خاندان کے لوگ ایک دوسرے سے دست و گریباں ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالے قانون کے نام سے مشہور نیب کے قانون کے بارے میں میرا کہنا تھا کہ اس کو ابھی رہنے دیں، ہم نے اسے بھگت لیا تو تو کسی اور کو بھی بھگتنے دیں لیکن اس وقت یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر ایک غلط چیز کا ہم نے سامنا کیا ہے تو کیا ہم اس میں صرف اس لیے ترمیم نہ کریں کہ کسی اور کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑے، اسی لیے اس میں ترمیم کی گئی۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ اب یہ قانون اپنی اسی ظالمانہ شکل میں بحال ہو گیا تو یہ نیب پی ٹی آئی اور عمران خان کو مبارک ہو، اب وہ اس کو بھگتیں گے اور آنے والے دنوں میں انہیں لگ پتا جائے گا، اب وہ 90 دن کا ریمانڈ کاٹیں، انہیں جو تھوک کے حساب سے ضمانتیں ملتی ہیں تو اب ہم دیکھیں گے کہ جب عدالتوں کے پاس ضمانت دینے کا اختیار ہی نہیں ہو گا تو پھر کوئی عدالت ان کو کیسے ضمانت دے گی، میری نظر میں تو یہ مکافات عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف ہی صرف 13 کے قریب مقدمات ہیں، اب وہ ایک، ایک کر کے ان مقدمات اور انکوائریز کو بھگتیں، اب وہ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ یہ کالا قانون ہے یا اس کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر نے مزید کہا کہ میاں نواز شریف کی قانونی ٹیم نے تمام تیاریاں کر لی ہیں اور وہ ایسی صورت میں واپس آئیں گے کہ ان کے پاس قانونی جواز ہو گا کہ وہ آ کر ایک آزاد شہری کے طور پر عدالت میں پیش ہو سکیں اور اپنی ضمانت کرا سکیں، ان تمام چیزوں کے انتظامات کے بعد ہی وہ تشریف لائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی اور سیاسی تباہی کا یہ عمل جو ابھی تک رک نہیں پایا، یہ عمل 28 جولائی 2017 سے شروع ہوا جب ایک اچھے بھلے آگے بڑھتے ہوئے ملک اور ایک مستحکم منتخب نمائندہ حکومت کو ایک عدالتی فیصلے سے باقاعدہ منظم سازش کر کے ملک کو غیرمستحکم کیا گی جو اس وقت کی جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ نے کی تھی اور ایک منتخب وزیراعظم کو اس بات پر نکال دیا گیا کہ آپ نے اپنے بیٹے سے تنخواہ لی تو نہیں ہے لیکن لے سکتے تھے۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ ان حالات میں جب عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری، یوٹیلٹی بلز کے ہاتھوں مشکلات سے دوچار ہے، عام آدمی کی زندگی مشکل ہو چکی ہے اور پاکستان ڈیفالٹ سے بچ نکلا ہے لیکن معاشی بحران سے ابھی محفوظ نہیں ہو سکا تو ایسے میں میاں نواز شریف کی واپسی عام آدمی ایک نجات دہندہ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔


مشہور خبریں۔
عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے نیتن یاہو اور گالانٹ کی گرفتاری کے احکامات جاری
?️ 23 نومبر 2024سچ خبریں:عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق
نومبر
صہیونی فوج کا خصوصی یونٹ بھی مظاہرین کے جرگے میں شامل
?️ 9 مارچ 2023سچ خبریں:صیہونی حکومت کی فوج میں شمولیت کے بائیکاٹ کرنے والوں کے
مارچ
ٹرمپ کس "امن” کی بات کر رہے ہیں؟
?️ 15 اکتوبر 2025سچ خبریں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی طرف
اکتوبر
شام پر قابض دہشت گردوں کی خفیہ کالز؛پوشیدہ طور پر تشدد کرو
?️ 5 جنوری 2025سچ خبریں:شامی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم ہیئت
جنوری
OPEC+ کے فیصلے کے بعد سعودی امریکی تعلقات کا مستقبل
?️ 9 اکتوبر 2022سچ خبریں:سعودی عرب کی جانب سے تیل کی پیداوار میں کمی کے
اکتوبر
عبدالعطی: مغربی کنارے میں اسرائیل کے غیر قانونی اقدامات کو روکنا ضروری ہے
?️ 24 فروری 2026سچ خبریں: مصری وزیر خارجہ نے ایک تقریر میں کہا: مغربی کنارے
فروری
مغربی کنارے میں جرمنی صحافی گرفتار
?️ 6 نومبر 2023سچ خبریں:جرمن میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی فوج کے فوجیوں
نومبر
کورونا وباء سے نمٹنے کے لیے پاک فوج دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ کوشاں ہے
?️ 31 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے
مئی