نیب ترامیم بحال: جمہوری لوگ غیر جمہوری رویے کو فروغ دے رہے ہیں، شبلی فراز کی تنقید

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سینیٹ میں قائد حزب اختلاف و رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) شبلی فراز نے سپریم کورٹ کی جانب سے نیب ترامیم بحال کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری لوگ غیر جمہوری رویے کو فروغ دے رہے ہیں۔

سینیٹ میں پریذائیڈنگ افسر سینیٹر منظور احمد کاکڑ کی زیرِ صدارت اجلاس شروع ہوا، دوران اجلاس شبلی فراز نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں قوانین چور و ڈاکوؤں کو فائدہ دینے کے لیے بنائے جارہے ہیں، عوام کے اصل نمائندے عوام کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، جن لوگوں نے بڑے ڈاکے ڈالے ہیں، ان کو ریلیف دیا گیا، سپریم کورٹ نے جو حکومت نے اپیل کی تھی وہ منظور کر لی۔

انہوں نے استدعا کی کہ آج کے اجلاس سے صدر کے خطاب کے ایجنڈے کو اسکریپ کریں۔

قبل ازیں سینیٹر زرقہ سہر وردی نے اظہار خیال کرتے ہوئے دریافت کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا جو اجلاس اکتوبر میں ہے، اس کی تفصیلات شئیر کی جائیں، اس پر وزیر قانون اعطم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ ایک بڑا ایونٹ آرہا ہے، اس کے لیے تیاریاں کررہے ہیں، ایس سی او کے ممبرز، چین سے بھی نمائندے شرکت کریں گے، جو جو پروگرامز فائنل ہوں گے، آپ کو شیئر کرتے رہیں گے۔

بعد ازں سینیٹر جان محمد کا کہنا تھا کہ آرمی اور فورسز کو بلوچستان میں خصوصی اختیارات دیے گئے ہیں، اس سے حالات مزید خراب ہوں گے، بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ لاپتا افراد کا ہے، اس مسئلہ نے بلوچستان میں آگ لگائی ہے، ریاستی اداروں کو تین ماہ کے لیے کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے، ملک پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے۔

اس پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ بلوچستان کو نو گو ایریا بنایا جارہا ہے، اس طرح کے حالات میں بلوچستان میں سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟ استدعا کی کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگست 2024 میں اقوام متحدہ کی رپورٹ پیش ہوئی، پری مون سون بارشوں سے بلوچستان میں لوگ جاں بحق ہوئے، درجنوں افراد زخمی ہوئے، مون سون بارشوں، سیلاب کے باعث امواتوں میں اضافہ ہوا ہے، ابھی تک ہمارے بلوچستان کے پلوں کی مرمت نہیں ہوئی ہے، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ یہ معاملہ موسمیاتی تبدیلی کو بھیج دیں۔

ثمینہ ممتاز زہری نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں لوگ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہیں، جو فنڈز مختص ہوتے ہیں، ان کا احتساب ہونا چاہیے۔

بعد ازاں پریذائیڈنگ فسر منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ یہ معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کو ریفر کرتے ہیں۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ دہشت گردی کے نام پر سیاسی انجینئرنگ ہوتی ہے، نیب جیسے ادارے کو اڑا دینا چاہیے، نیب ہمیشہ سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

بعد ازاں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کورم کی نشاندہی کردی، کورم پورا نہ ہونے پر سینیٹ اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

مشہور خبریں۔

5 جولائی 1977ء کو کیا ہوا؟ شازیہ مری کی زبانی

?️ 6 جولائی 2024سچ خبریں: پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے 5

بنگلہ دیش ایک اور سیاسی ہلچل کے دہانے پر: کیا محمد یونس استعفیٰ دیں گے؟

?️ 25 مئی 2025سچ خبریں: نوبل امن انعام یافتہ اور بنگلہ دیش کی عبوری حکومت

صنعا کا یمنی حاجیوں کے خلاف ریاض کے کریک ڈاؤن پر احتجاج

?️ 27 جون 2022سچ خبریں:   سعودی عرب نے نہ صرف یمن پر حملہ کر کے

ہم نے اسرائیلی کو کچل دیا: فلسطینی تحریک

?️ 19 اگست 2023سچ خبریں:اسلامی جہاد تحریک کے عسکری ونگ سرایا القدس کی شاخ جنین

ٹک ٹاک کا پاکستان میں چھوٹے کاروبار کیلئے سیلف سروس ایڈورٹائزنگ پلیٹ فارم متعارف

?️ 18 دسمبر 2025کراچی: (سچ خبریں) ٹک ٹاک نے پاکستان میں ایک نیا سیلف سروس ایڈورٹائزنگ

عراقی فوج نے داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا

?️ 3 فروری 2022سچ خبریں:   عراقی مسلح افواج کے کمانڈر نے آج عراقی فوج کا

ٹرمپ کا منصوبہ تل ابیب کو عالمی تنہائی سے نکالنے کی کوشش ہے

?️ 2 اکتوبر 2025ٹرمپ کا منصوبہ تل ابیب کو عالمی تنہائی سے نکالنے کی کوشش

شام اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے وسیع معاہدوں کا مخالف

?️ 12 نومبر 2025 شام اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے وسیع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے