’نگران حکومت آئندہ ماہ آئی ایم ایف سے سہ ماہی جائزے پر بات چیت کرے گی‘

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ نگران حکومت اگلے ماہ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے سہ ماہی جائزے پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بات چیت شروع کرے گی۔

جولائی میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے معاشی استحکام پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے نو ماہ کے اسٹینڈ بائی معاہدے کی منظوری دی تھی، منظوری کے بعد فوری طور پر 1.2 ارب ڈالر کی قسط پاکستان کو دے دی گئی تھی جبکہ اس پروگرام کے تحت بقیہ رقم کی ادائیگی دو سہ ماہی جائزوں سے مشروط ہے۔

اسٹینڈ بائی معاہدے کے تحت دوسرا سہ ماہی جائزہ اکتوبر میں ہونا ہے جس کا انحصار ستمبر کے آخر تک کے اعداد و شمار پر ہو گا جو دسمبر میں دوسری قسط کے تقریباً 71کروڑ ڈالر کی وصولی کو یقینی بنائے گا۔

آئی ایم ایف نے اسٹینڈ بائی معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ پاکستان کے موجودہ چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے مستحکم پالیسی پر عمل درآمد کلیدی حیثیت رکھتا ہے، جس میں زیادہ مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی دباؤ کو جذب کرنے کے لیے مارکیٹ کی متعین کردہ زر مبادلہ کی شرح، اصلاحات پر مزید پیش رفت، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، موسمیاتی لچک کو فروغ دینے، اور کاروباری ماحول بہتر بنانے میں مدد کرنا شامل ہے۔

آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ نئے اسٹینڈ بائی انتظامات پاکستانی عوام کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کے لیے ملکی آمدنی کو بہتر بنانے اور محتاط اخراجات پر عمل درآمد کے ذریعے سماجی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے جگہ بھی پیدا کریں گے تاہم مشکل چیلنجز کی روشنی میں پروگرام کا مکمل اور بروقت نفاذ اس کی کامیابی کے لیے اہم ہوگا۔

گزشتہ ماہ، وزیر خزانہ شمشاد اختر نے آئی ایم ایف کے عملے کے مشن سے ملاقات کی تھی اور بتایا تھا کہ انہوں نے معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے نگران حکومت کے دور میں اسٹینڈ بائی معاہدے کے تحت کیے گئے پالیسی اقدامات پر ثابت قدمی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر اپنے دورہ نیویارک میں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا سے بھی ملاقات کی تھی اور عالمی ادارے کے سربراہ نے انوار الحق کاکڑ پر زور دیا کہ وہ امیروں پر ٹیکس لگائیں اور غریبوں کا تحفظ یقینی بنائیں۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے مطابق آج ان کیمرہ سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران شمشاد اختر نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایم ایف کا جائزہ اگلے ماہ شروع ہوگا۔

انہوں نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس نے کہا کہ ہر سہ ماہی میں ایک جائزہ لیا جاتا ہے۔

سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ وزیر خزانہ نے پینل کو بتایا کہ مہنگائی کم ہو رہی ہے لیکن حکومت کے لیے واحد خطرہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہے اور اس سے منصوبہ خراب ہو جائے گا۔

شمشاد اختر نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے میثاق معیشت پر زور دیتے ہوئے سیاستدانوں پر زور دیا کہ انہیں اتفاق رائے پیدا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو معیشت پر مل کر کام کرنا چاہیے کیونکہ نگران حکومت نہیں بلکہ سیاست دان ہی ان مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔

سلیم مانڈوی والا نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت اب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سمیت عوامی اداروں کی نجکاری اور آؤٹ سورسنگ پر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔

مشہور خبریں۔

صیہونیوں کو غزہ پر زمینی حملہ کر کے کیا حاصل ہوا ہے؟

?️ 8 نومبر 2023سچ خبریں: عسکری امور کے ماہر نے فلسطینی مجاہدین کی تعریف کرتے

روبیو: یوکرین پر امریکہ اور روس کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی

?️ 3 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا کہ یوکرین

فردوس اعوان اور عبدالقادر کے درمیان تلخ کلامی کے بعد ہاتھا پائی

?️ 10 جون 2021لاہور(سچ خبریں) ایک ٹاک شو کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون

اربعین؛ امام حسین کے عقیدت مندوں کے جم غفیر کی عراق میں پرسکون آمد

?️ 13 ستمبر 2022سچ خبریں:اربعین زائرین کی کربلا کی طرف آمد و رفت جاری ہے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جانب بینکوں کے متعلق اہم اعلان کیا

?️ 30 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بینکوں

کابینہ کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے والی حکومت کی تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے سے معذرت

?️ 22 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی کابینہ اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے

امریکی وزیر خارجہ کی اپنے سعودی ہم منصب اور سوڈانی وزیر اعظم سے بات چیت

?️ 27 اکتوبر 2021سچ خبریں:سوڈانی وزیر اعظم کی بغاوت کے منصوبہ سازوں کے ہاتھوں رہائی

مالی سال 2024 کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 2.5 فیصد رہی

?️ 1 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان کی مالی سال 24-2023 کے دوران اقتصادی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے