?️
اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے ملک میں تعلیمی اداروں کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں نوجوانوں کی تعلیم کو ملک کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ہے جبکہ ہمارے ملک میں دی جانے والی تعلیم کا ملک کی موجودہ ضروریات سے کوئی تعلق نہیں ہے,وزیراعظم نے کہا تعلیم کے ملکی ضروریات سے منسلک نہ ہونے سے نوجوان ڈگریاں ہونے کے باجود بے روزگار ہیں، ایک طرف ملک میں پیشہ ورانہ اور ہنر مند افراد کی ضررت ہے جبکہ دوسری طرف نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد بے روزگار ہے۔
ہری پور میں اسپیشل ٹیکنالوجی زون کے قیام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار دینا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، تعلیم، ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دے کر ہم اس چیلنج پر قابو پاسکتے ہیں، میرا ایمان ہے کہ ملک تعلیمی اداروں سے بنتے ہیں، ماضی کی حکومتوں نے تعلیم کی ضرورت پر زور نہیں دیا، جتنے زیادہ ملک میں معیاری تعلیمی ادارے ہوتے ہیں وہ ملک اتنے ہی زیادہ بالاصلاحیت میں پاور پیدا کرتے ہیں۔
ان کہا کہنا تھا کہ انگلینڈ نے آکسفرڈ اور کیمبرج یونیورسٹیاں بنائیں تو کئی سو سالوں تک ان تعلیمی اداروں نے دنیا کی قیادت کرنے والے لوگ دیے، ان دو اداروں نے دنیا کو دانشوارانہ سرمایہ فراہم کیا۔
انہوں نے ملک کے تعلیمی نظام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تین سطح کا تعلیمی نظام ہے، قیام پاکستان کے بعد ہم نے اپنے تعلیمی نظام پر توجہ نہیں دی، ماضی کی حکومتوں نے تعلیم کی ضرورت پر زور نہیں دیا، جس سے ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بد قسمتی سے ملک میں تین تعلیمی نظام بن گئے، انگلش میڈیم ، اردو میڈیم اور دینی مدرسے جو تین مختلف کلچر متعارف کرا رہے تھے اور اس کے معاشرے پر بہت منفی اثرات مرتب ہورہے تھے، ہمارے معاشرے میں کئی مسائل کی وجہ یہ طبقاتی نظام تعلیم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی حکومت نے یکساں نظام تعلیم پر توجہ نہیں دی لیکن ہماری حکومت نے پانچویں کلاس تک ایک نصاب بنادیا ہے اور اب آئندہ اس کو مزید اوپر لے کر جائیں گے تاکہ ہم ایک قوم بنیں۔ان کہنا تھا کہ قومیں یکساں نظریات سے بنتی ہیں، جب ایک سوسائٹی میں تین مختلف نظریات ہوں تو قوم میں یکجہتی نہیں آتی۔
ٹیکنالوجی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آنے والا دور ٹیکنالوجی کا ہے، مجھے خوشی ہے کہ ہماری حکومت نے اسپیشل ٹیکنالوجی زون قائم کیا، یہ پور ایکو سسٹم ہے جس پر 10 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں، جتنے زیادہ پیسے اس طرح کے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے اس کے ملک پر اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے بعد پاکستان کے پاس دنیا میں نوجوانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے، ہمارے ملک کی 65 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جو کہ ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہیں، نوجوانوں کی تعلیم پر ہم جتنے زیادہ پیسے خرچ کریں گے اس کا پاکستان کو فائدہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے راستے میں حائل کچھ رکاوٹیں دور کیں، کچھ سہولیات فراہم کیں تو صرف ایک سال میں آئی ٹی سیکٹر نے 45 فیصد گروتھ کی اور توقع ہے کہ آئی ٹی کے شعبے کی گروتھ 75 فیصد تک بڑھے گی، آئی ٹی وہ شعبہ ہے جس میں جتنی سرمایہ کاری کریں گے اتنا ہی ملک کو فائدہ ہوگا اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے اس سال ریکارڈ ٹیکس جمع کیا ہے اور جیسے جیسے ہماری حکومت کے وسائل میں اضافہ ہوگا ہم تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کرتے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت میں وزیراعلیٰ کے پی کی حیثیت سے پرویزخٹک نے 2013 میں صحت کارڈ کا اجرا کیا جو کم وسائل کے باوجود ایک بہت بڑا کارنامہ تھا، ہمارے جیسے ملک میں جہاں معیشت مشکلات کا شکار ہے وہاں صحت کارڈ کا اجرا انتہائی منفرد ہے اور یہ قدم کے پی حکومت نے اٹھا جو کہ بہت بڑا کام ہے۔
وزیراعظم عمران کا کہنا تھا کہ پرویز خٹک نے بطور وزیراعلیٰ زبردست کام کیے، ہماری حکومت میں کے پی پہلا صوبہ تھا جہاں موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، ہماری حکومت سے پہلے ملک میں صرف درخت کاٹے جاتے تھے لگائے نہیں جاتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے زبردست کام کیا جس کے اثرات ہم آج دیکھ رہے ہیں، ہماری حکومت نے اداروں میں اصلاحات کرکے ان کو مضبوط کیا۔اس موقعے پر وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان ، وزیر دفاع پرویزخٹک، صوبائی وزیرعاطف خان اور سائنس دان ڈاکٹر عطاالرحمٰن سمیت دیگر کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔


مشہور خبریں۔
وزیر اعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیو کے لئے پالیسی بنانے کا حکم جاری کیا
?️ 27 جنوری 2022اسلام آباد (سچ خبریں) تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے
جنوری
نئے سال کا مالی بجٹ آج پیش کیا جائے گا
?️ 11 جون 2021اسلام آباد(سچ خبریں) مالی سال 2022-2021کے لیے 8ہزار کھرب روپے سے زیادہ
صیہونیوں کی رفح کو جبری کیمپ میں بدلنے کی سازش
?️ 15 جولائی 2025 سچ خبریں:صیہونیوں کا منصوبہ ہے کہ رفح میں فلسطینیوں کے لیے
جولائی
طالبان کو سرحد پار دہشتگردی روکنا ہوگی، پاکستان کا دوحہ مذاکرات میں موقف پیش
?️ 19 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) طالبان کو سرحد پار دہشت گردی روکنا ہوگی،
اکتوبر
دودی خان نے راکھی ساونت کو انگوٹھی پہنادی
?️ 28 فروری 2025کراچی: (سچ خبریں) پاکستانی ماڈل و اداکار دودی خان کی جانب سے
فروری
امریکہ کو نیتن یاہو کے بارے میں عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ کیوں قبول نہیں ؟
?️ 25 مئی 2024سچ خبریں: امریکہ نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی جانب
مئی
صومالی لینڈ کے علیحدگی پسند رہنما مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا دورہ کرنے کے خواہاں
?️ 1 جنوری 2026سچ خبریں: اسرائیلی ریڈیو اور ٹیلی ویژن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ
پاکستان نے عالمی امن پر بھارت کے ساتھ تصادم کے نتائج سے خبردار کیا ہے
?️ 2 مئی 2025سچ خبریں : پاکستانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ہندوستان کے
مئی