?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) جنرل قمر جاوید باجوہ کے گیریژن کے الوداعی دوروں کے سبب ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ تھم گیا ہے تاہم نئے آرمی چیف کے نام کے حوالے سے چہ مگوئیاں تاحال جاری ہیں۔ یہ سوال ہر کسی کی زباں پر ہے کہ اگلا آرمی چیف کون ہوگا لیکن جواب تاحال واضح نہیں ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے درمیان گزشتہ چند روز کے دوران لندن میں ہونے والی ملاقاتیں اگلے آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سےکلیدی حیثیت رکھتی ہیں لیکن پاکستان میں موجود مسلم لیگ (ن) کی سینیئر قیادت ان ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کی تفصیلات سے لاعلمی کا اظہار کررہے ہیں یا جان بوجھ کر لب سیے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم کو نواز شریف کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد جمعے کو پاکستان واپس لوٹنا تھا لیکن انہوں نے اپنے شیڈول میں آخری لمحات میں تبدیلی کی اور اب اگلے ہفتے کسی روز ان کی پاکستان واپسی متوقع ہے۔
اگرچہ وزیراعظم کی وطن واپسی کے شیڈول میں تبدیلی کی باضابطہ طور پر وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ انہیں بخار ہو گیا ہے اور علالت کی وجہ سے انہوں نے سفر نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن بہت سے لوگوں کی جانب سے شیڈول میں تبدیلی کو نئے آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے مزید بات چیت سے جوڑا جارہا ہے۔
کابینہ کے ایک رکن نے مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنماؤں کا نام لیتے ہوئے ڈان کو بتایا کہ ’اگلے آرمی چیف کا تقرر ایک ایسا معاملہ ہے جس پر کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی گئی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’کوئی اس بارے میں بات نہیں کر رہا ہے کیونکہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، چیزیں لیک ہو جاتی ہیں اور قابو سے باہر ہو جاتی ہیں، لندن میں کیا بات چیت ہو رہی ہے اس کے بارے میں پوری کابینہ بے خبر ہے، اس حساس معاملے کے حوالے سے یہ ایک بہترین حکمت عملی ہے کیونکہ دوسری صورت میں تدبیریں الٹ ہو سکتی ہیں اور غلط فہمیاں پیدا ہونے کا سبب بن سکتی ہیں‘۔
ایک روز قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے نئے آرمی چیف کے نام کا فیصلہ لندن میں ہونے کی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حوالے سے بات چیت ضرور ہوئی لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ مجھے 2013 اور 2016 میں اس عمل سے گزرنے کا تجربہ ہے، دونوں موقعوں پر یہ عمل 18 نومبر کے بعد پوری شدت کے ساتھ شروع ہوا، اسی طرح اس بار بھی 25 نومبر کے آس پاس قوم کو بالآخر حکومت کے حتمی فیصلے کا پتہ چل جائے گا۔
پارٹی اراکین کئی وجوہات کی بنا پر خاموش ہیں، کچھ اس بارے میں واقعی لاعلم ہیں کہ ان کی جماعت کے قائدین لندن میں کیا گفتگو کر رہے ہیں، جبکہ اس خفیہ گفتگو سے واقف کچھ پارٹی رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ تفصیلات عیاں کردینا نادانی ہوگی۔
ڈان سے بات کرنے والے ایک شخص نے خیال ظاہر کیا کہ ہمیں ریٹائر ہونے والے آرمی چیف کا احترام کرنا چاہیے کیونکہ ایسے وقت میں نئی تعیناتی کے بارے میں بات چیت کرتے رہنا اچھا نہیں لگ رہا جب موجودہ آرمی چیف الوداعی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔


مشہور خبریں۔
مشرقی افغانستان میں زلزلے کے دو جھٹکے
?️ 18 جولائی 2022سچ خبریں: امریکی زلزلہ پیما مرکز نے افغانستان کے جنوب مشرق اور
جولائی
Five fintech sectors expected to grow fast in next five years
?️ 24 جولائی 2021 When we get out of the glass bottle of our ego
جولانی کا شام میں داخلی امن کے حوالے سے نیا بیان
?️ 10 مارچ 2025سچ خبریں: الجزیرہ نیوز چینل کے مطابق جولانی نے دمشق کے علاقے
مارچ
او آئی سی ممالک کو فوری طور پر افغان عوام کی مدد کرنا ہوگی
?️ 19 دسمبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے
دسمبر
افغانستان میں داعش کو بڑھانے کے لیے امریکی کوششوں کا ایک نیا دور
?️ 27 اکتوبر 2021سچ خبریں: امریکہ کی شکست اور افغانستان سے اس کے مکروہ انخلاء کے
اکتوبر
برطانیہ میں صیہونی حکومت کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف مظاہرے
?️ 26 دسمبر 2023سچ خبریں: فلسطینی عوام کی حمایت میں اپنے تازہ ترین مظاہروں میں
دسمبر
اقوام متحدہ یمن کی جنگ کے بارے میں غیر جانبدار نہیں:یمنی عہدیدار
?️ 13 جولائی 2022سچ خبریں:یمن کی قومی نجات حکومت کے وزیر نے اقوام متحدہ پر
جولائی
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہمیں معاشی مواقع فراہم کریں گے:نیتن یاہو
?️ 23 فروری 2023سچ خبریں:صیہونی وزیر اعظم نے ایک بار پھر سعودی عرب کے ساتھ
فروری