?️
لاہور: (سچ خریں) عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے نے جہاں پوری قوم اور دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑائی وہیں حملے کے بعد ان کے اہل خانہ بھی سخت صدمے کی کیفیت سے گزرے جس کا ذکر کرتے ہوئے اپنے حالیہ انٹرویو میں کرکٹر سے سیاست دان بننے والے سابق وزیراعظم نے کہا کہ ان کا خاندان خصوصاً برطانیہ میں مقیم ان کے بیٹے بہت پریشان تھے۔
برطانوی ٹیلی ویژن کے اینکر پیئرز مورگن کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو کے دوران عمران خان نے قاتلانہ حملے میں مبینہ طور پر ملوث عناصر، اس حملے کے نتیجے میں ان کی اور ان کے خاندان کی جانب سے ادا کی جانے والی بھاری قیمت، پاکستان کے امریکا کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ رشی سوناک کے برطانوی وزیر اعظم بننے کے بارے میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔
اپنے انٹرویو کے دوران عمران خان نے حملے کے بعد پہنچنے والے اس صدمے کے بارے میں بات کی جس سے ان کے بیٹے، ان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ گزریں۔
انہوں نے بتایا کہ 2 گھنٹے بعدجیسے ہی میں ہسپتال پہنچا، میں نے اپنے بیٹوں سے بات کی اور اپنی سابقہ بیوی سے بھی گفتگو کی جو کافی پر سکون تھی لیکن میرے بیٹے کافی پریشان تھے اور مجھے امید ہے کہ جلد ہی ان سے ملاقات ہوگی۔
عمران خان نے انکشاف کیا کہ ان کے بڑے صاحبزادے (سلیمان) نے ہمیشہ سیاست میں آنے کے ان کے فیصلے کی مخالفت کی، انہوں نے کہا کہ جب مجھے گولی ماری گئی تو وہ کافی پریشان تھا۔
سابق وزیر اعظم نے اپنی جان کو لاحق خطرات کو مسترد رد کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اپنی زندگی پر کوئی قابو نہیں، یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
’وہ مجھے دوبارہ نشانہ بنائیں گے‘
عمران خان نے کہا کہ ان پر حملہ اصل میں انہیں اشرافیہ کو بے نقاب کرنے سے روکنے کے لیے ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے کی کوشش تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ طاقتور لوگ مجھے دوبارہ نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے، کیونکہ انہیں خوف ہے کہ میری پارٹی آئندہ انتخابات میں کلین سوئپ کرے گی۔
وہ دوبارہ کوشش کریں گے، اس لیے میں نے اپنی رہائش گاہ پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے اصرار کیا کہ قانون کی حکمرانی ہی وہ چیز ہے جو مہذب معاشرے اور بنانا ری پبلک میں فرق کرتی ہے، جو چیز ہمیں ترقی کرنے سے روک رہی ہےوہ یہ ہے کہ پاکستان میں انصاف نہیں ہے۔
عمران خان نے ایک بار پھر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ حملے کے بعد تین لوگوں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروا سکے جب کہ ہماری شکایت میں نامزد افراد میں سے ایک انٹیلی جنس افسر تھا۔
انہوں نے کہا کہ ذرا تصور کریں کہ اس ملک میں ایک عام آدمی پر کیا گزرتی ہوگی، جب وہ طاقتور کے خلاف آتا ہے تو بے بس ہوجاتا ہے۔
عمران خان نے الزام لگایا کہ ان پر حملے میں 2 افراد شامل تھے جب کہ دوسرا حملہ آور تاحال مفرور ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ مافیا کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں تو آپ کی جان کو خطرہ رہتا ہے، میں نے انصاف کے لیے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی اہمیت کے بارے میں ان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔
عمران خان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا سپر پاور ہے، یہ ناقابل تصور ہے کہ کوئی ملک امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں رکھنا چاہے گا۔ میں امریکا کے ساتھ ایسے ہی تعلقات رکھنا چاہوں گا جیسے کہ بھارت کے تعلقات ہیں امریکا کے۔


مشہور خبریں۔
وزیر اعظم کشمیر کاز کو مضبوط بنا رہے ہیں: فردوس عاشق
?️ 23 جولائی 2021لاہور (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان
جولائی
امریکی مسلمانوں نے ٹرمپ کو کیوں مانا ؟
?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں: ریڈیو ڈائیلاگ میں بین الاقوامی مسائل کے ماہر سمانے ایکوان
نومبر
امریکی سینیٹر کی نظر میں نیتن یاہو کیا ہیں؟
?️ 4 جون 2024سچ خبریں: امریکی سینیٹر نے زور دیا کہ صیہونی ریاست کے وزیر
جون
حزب اللہ کے حملے کے وقت فوج سو رہی تھی: اسرائیلی فوجی
?️ 8 ستمبر 2024سچ خبریں: غاصب صیہونی حکومت کے عسکری تجزیہ نگار ناعوم امیر نے
ستمبر
اگلی عرب سربراہی کانفرنس تنازعات کے خاتمے کا آغاز
?️ 12 جنوری 2022سچ خبریں:آئندہ عرب سربراہی اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے الجزائر کی
جنوری
لبنان کے خلاف صیہونی حملے پر سعودی اخبار کی خوشی
?️ 28 ستمبر 2024سچ خبریں: سعودی حکومت کا سرکاری اخبار اور ترجمان، جو اسرائیل کے
ستمبر
ترکی ہمارا چوتھا اہم تجارتی شریک ہے: تل ابیب
?️ 6 جولائی 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت کی اقتصادیات اور صنعت کے وزیر اورنا بریبائی
جولائی
عوام نے سنی اتحاد کونسل نہیں پی ٹی آئی کو ووٹ دیا، جسٹس جمال مندوخیل
?️ 3 جون 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جسٹس جمال مندوخیل نے قرار دیا
جون