مہنگائی سے متاثرہ صارفین کا ایران کی ’سستی‘ غذائی مصنوعات کا استعمال

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) شہروں میں غذائی اشیا کی مہنگائی 42 فیصد پہنچنے کے بعد بڑی تعداد میں صارفین تھوڑی سستی لیکن اعلیٰ معیار کی ایرانی ’اسمگلنگ‘ والی اشیا جیسا کہ تیل اور پنیر خرید رہے ہیں جو راولپنڈی اور اسلام آباد میں دستیاب ہیں۔

جڑواں شہروں کی متعدد دکانوں پر ایرانی مصنوعات کے لیے علیحدہ سے ریکس مختص کر رکھے ہیں لیکن ان اشیا کو خریدنے کی بہترین جگہ پشاور موڑ پر ہفتہ وار بازار ہے۔

ہفتہ وار بازار میں اسٹال لگانے والے نعمت خان خشک میوہ جات اور مصالحے فروخت کرتے ہیں لیکن اب ان کے اسٹال پر ایرانی مصنوعات کا علیحدہ سیکشن ہے، انہوں نے بتایا کہ ایرانی مصنوعات پر منافع کی شرح بہتر جبکہ کوئی شکایت بھی نہیں ہے اور یہ جلد خراب بھی نہیں ہوتیں۔

مارکیٹ میں بہت سی ایرانی مصنوعات دستیاب ہیں لیکن سب سے زیادہ طلب خوردنی تیل اور مکھن کی ہے، تاہم یہ گھریلو صارفین کے لیے بامشکل دستیاب ہیں کیونکہ تجارتی صارفین انہیں براہ راست ہول سیل ڈیلرز سے حاصل کر لیتے ہیں۔

ایرانی مصنوعات پر صارفین نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

عصمت زہرہ نے بتایا کہ 1.5 لیٹر لسی کی سیل پیک بوتل کو دیکھیں، اس کی نہ صرف پیکیجنگ بہت اعلیٰ ہے بلکہ دوسری مصنوعات کی طرح خراب ہونے کی تاریخ بھی واضح درج ہے۔

انہوں نے ٹماٹر کی چٹنی اور سرخ مرچوں کے پیسٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ صارفین کو کتنا ریلیف ملتا ہے جب تازہ ٹماٹر کی قیمتیں زیادہ ہوں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ درآمدی ایرانی اشیا کی پیکیجنگ بہت اعلیٰ ہے جبکہ کچھ کی قیمتیں پاکستانی مصنوعات کے مقابلے میں 50 فیصد تک کم ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہر دکاندار کی مختلف قیمتیں ہیں لہٰذا بھاؤ تاؤ کرنا ضروری ہے۔

تاہم مسمات زہرہ نے بتایا کہ ایرانی مصنوعات درآمد نہیں کی جاتیں بلکہ یہ ایران اور بلوچستان اور افغانستان کے ذریعے اسمگل ہو کر ملک میں لائی جاتی ہیں۔

بلوچستان کے علاوہ ایرانی اشیا پہلے صرف لیاری میں دستیاب تھیں لیکن تاجر اب یہ مصنوعات ملک کے تقریباً تمام حصوں بشمول اسلام آباد میں فروخت کر رہے ہیں۔

زیادہ تر ہول سیلرز راولپنڈی میں فوارہ چوک کے نزدیک باجوڑ پلازہ میں ہیں، جہاں پر وسیع ایرانی مصنوعات دستیاب ہیں۔

تاہم باجوڑ پلازہ کے دکانداروں سے جب ان مصنوعات کے معیار، قیمت اور تجارتی راستے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ جواب نہیں دیتے۔ ماہرین کے مطابق سرحدی تجارت خاص طور پر بلوچستان۔ایران سرحد پر ’اسمگلنگ کے زمرے میں نہیں آتی‘۔

سینٹر فار پاکستان اینڈ گلف اسٹڈیز (سی پی جی ایس) کے صدر ناصر شیرازی نے بتایا کہ بلوچستان میں آبادی کم اور بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہے، ہمارے نظام کے لیے صوبے کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں ہے، حتیٰ کہ گوادر اور دیگر حصوں میں بجلی بھی ایران سے آتی ہے کیونکہ وہاں پر نیشنل گرڈ کو توسیع دینا بہت مہنگا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی حکومت سرحدی علاقوں میں اپنے شہریوں کو رعایتی نرخوں پر اشیا فراہم کرتی ہے، اور اس کیس میں ایران میں بلوچ رہائشی اس فائدے کو پاکستان میں اپنی کمیونٹی کے دیگر افراد کو بھی منتقل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اضافی مقدار کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کیا جاتا ہے، اور اب یہ مصنوعات پنجاب کے شہروں کی مارکیٹ میں بھی دستیاب ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ یہ اشیا مکمل ڈیوٹی فری نہیں ہیں کیونکہ ٹرک سرحد سے شہروں تک جاتے وقت متعلقہ حکام کو کچھ تسکین دی جاتی ہے۔

تہران یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا نے ایرانی مصنوعات کی اعلیٰ کوالٹی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، امریکی پابندیوں کی وجہ سے ’فری ٹریڈ‘ کے اثرات سے فائدہ نہیں اٹھا پارہا لیکن ہمیں معیار اور قیمت دونوں میں بہت زیادہ مسابقتی ہونا پڑتا ہے۔

ڈان سے بذریعہ فون بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایران کی غذائی مصنوعات متعدد خلیجی اور یورپی ممالک بشمول متحدہ عرب امارات اور قطر کو بھیجی جاتی ہیں، لہٰذا صنعتوں کو یورپی معیار کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔

مشہور خبریں۔

دفاع ناقابل تسخیر بنانے کا دن ’یوم تکبیر‘ آج منایا جا رہا ہے

?️ 28 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) 1998 میں آج کے دن کیے گئے کامیاب

وزیراعظم کی مسیحی برادری کو مذہبی تہوار کی مبارکباد

?️ 25 دسمبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان نے مسیحی برادری کو مذہبی تہوار

امریکی صدارتی امیدوار کا عوام فریبانہ بیان

?️ 19 اکتوبر 2024سچ خبریں: بائیڈن کی نائب صدر، امریکی مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے

یحییٰ السنور پورے صیہونی ڈھانچے کے ساتھ کیا کیا؟؛ صیہونی سکیورٹی مطالعاتی مرکز کی زبانی

?️ 28 نومبر 2023سچ خبریں: صیہونی حکومت کے سب سے معتبر سکیورٹی ریسرچ سینٹر نے

ہم ترکی اور شام کے زلزلہ متاثرین کے ساتھ ہیں:پوپ فرانسس

?️ 14 فروری 2023سچ خبریں:کیتھولک دنیا کے رہنما نے ایک تقریر میں اعلان کیا کہ

اسرائیلی فوجی یوکرائن میں لڑ رہے ہیں:صہیونی میڈیا

?️ 2 مارچ 2022سچ خبریں:یوکرائن کی پارلیمنٹ کے رکن نے ایک اسرائیلی میڈیا کو انٹرویو

غزہ کے خلاف حملوں سے اسرائیل کی ڈیٹرنس مضبوط نہیں ہوئی:صہیونی حلقے

?️ 18 مئی 2023سچ خبریں:صہیونی متعدد حلقوں میں کیے جانے والے تازہ سروے کے نتائج

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر

?️ 12 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) گوجرانوالہ بار ایسوسی ایشن کے صدر پرویز عابد ہرل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے