?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) ان کا کہنا تھا کہ کہ گزشتہ 10 برس سے ہمارے گیس کے ذخائر کم ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے ہمیں آر ایل این جی درآمد کرنی پڑتی ہے تاکہ عوام اور انڈسٹری کو گیس فراہم کی جا سکے، یہ مہنگی گیس ہوتی ہے جس کی قیمت ہماری مقامی گیس کی قیمت سے دگنی سے بھی زیادہ ہے اور جب یہ عوام کو فراہم کی جاتی ہے تو اس کی قیمت میں 210 ارب روپے کا فرق آتا ہے۔
نگران وزیر توانائی نے کہا کہ اگر گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جاتا تو سوئی کمپنیوں کا ریونیو 513 ارب روپے ہوتا جبکہ ضرورت 916 ارب کی تھی، 400 ارب کے اس نقصان میں سے 191 ارب کا نقصان ہمارے اپنے ذخائر پر ہوتا جبکہ 210 ارب کا نقصان آر ایل ین جی پر ہوتا، لہٰذا ملک کا خسارہ ختم کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ضروری تھا، ماضی میں گیس کی قیمتیں بتدریج بڑھائی جاتیں تو آج ہمیں اتنا زیادہ اضافہ نہ کرنا پڑتا۔
انہوں نے کہا کہ اگر گیس کی قیمتیں نہ بڑھائی جائیں تو گردشی قرضہ بڑھتا رہے گا اور پھر بالآخر ایک دن پاکستان کے پاس ادائیگی کے لیے پیسے ہی نہیں ہوں گے، اس اضافے کے بعد پیٹرولیم سیکٹر میں گردشی قرضہ نہیں بڑھے گا، پاور سیکٹر میں نقصان ہے جو بجٹ سے آتا ہے اور اب ہماری کوشش ہے کہ ہم اس کو بھی ختم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 10 برسوں سے ہم اپنے تیل اور گیس کے ذخائر اس لیے ایک ہزار ارب سے کم نکال رہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس ان کمپنیوں کو دینے کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں جو یہ ذخائر نکالتی ہیں اور 4 کے علاوہ تمام غیر ملکی کمپنیاں ملک چھوڑ کر چلی گئیں۔
محمد علی نے کہا کہ جب اپنے ذخائر نہیں نکال پائیں گے تو گیس باہر سے منگوانی ہی پڑے گی جس کی وجہ سے ہمارا امپورٹ بل بڑھ رہا تھا جس پر ہمارا ڈالر خرچ ہورہا تھا، بجٹ خسارہ بڑھ رہا تھا، اس لیے ہمیں ادھار لینا پڑ رہا تھا جس کے سبب ملک میں سود کی شرح اور مہنگائی دونوں بڑھتی چلی گئیں۔
انہوں نے کہا ہم نے گھریلو صارفین میں سے 57 فیصد کا بنیادی ٹیرف نہیں بلکہ 400 روپے کا فکسڈ چارج لگا دیا ہے تاکہ 57 فیصد عوام پر بوجھ نہ پڑے، اس کے بعد ان کا زیادہ سے زیادہ بل 1300 آئے گا، اس سے زیادہ کسی کا نہیں آئے گا، اس کے علاوہ دیگر صارفین کا ٹیرف ان کے استعمال کے مطابق بڑھتا جائے گا، تندور کے لیے گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔


مشہور خبریں۔
یورپ کی حمایت کے بغیر یوکرین میں ٹرمپ کے منصوبے ممکن نہیں
?️ 21 نومبر 2025 یورپ کی حمایت کے بغیر یوکرین میں ٹرمپ کے منصوبے ممکن
نومبر
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا فاشزم
?️ 9 ستمبر 2022سچ خبریں:روس میں شام کے سفیر ریاض حداد نے بڑھتے ہوئے فاشسٹ
ستمبر
افغان عوام کا زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کی مدد کا نیا طریقہ
?️ 19 جولائی 2022سچ خبریں: گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان کے عوام کو ہر
جولائی
صیہونی فوجیوں کے لیے 33 روزہ جنگ کے نتائج
?️ 13 جولائی 2023سچ خبریں:جولائی 2006 میں لبنان کے ساتھ 33 روزہ جنگ کے بعد،
جولائی
المشاط نے امریکی اور صیہونی اشیا کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا
?️ 11 مئی 2023سچ خبریں:مہدی المشاط نے بھی ایک بیان میں عرب اور اسلامی ممالک
مئی
ترکی نے عراق میں ہونے والے حملے کا ذمہ دار PKK کو ٹھہرایا
?️ 21 جولائی 2022سچ خبریں: عراق کی وزارت خارجہ نے شمالی عراق پر حملے
جولائی
یمنی فورسز نے صوبہ حجہ کے ایک اسٹریٹیجک علاقے کو کنٹرول میں لیا
?️ 4 مارچ 2022سچ خبریں: جارحین اور ان سے وابستہ عناصر کے خلاف جنگ میں
مارچ
نیتن یاہو کے نئے ایڈونچر پر اسرائیل کو کتنا خرچہ آئے گا؟
?️ 21 مارچ 2025سچ خبریں: صیہونی ٹی وی چینل 12 کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل
مارچ