?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل عبدالرزاق شر کے قتل کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) یا جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عبدالرزاق شر کے قتل پر کئی سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اس کے پیچھے اصل محرکات جاننے کے لیے جے آئی ٹی یا ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کی ضرورت ہے، اصل قاتلوں کو بے نقاب کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
امان اللہ کنرانی نے کہا کہ عبدالرزاق شر نے علامہ اقبال، قائد اعظم محمد علی جناح، حسین شہید سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر وکلا اور رہنماؤں کی طرح آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کی، پی ٹی آئی رہنما کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا اور مجھے کیس میں اپنا وکیل مقرر کیا۔
انہوں نے کہا کہ 29 مئی کو عبدالرزاق شر کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگا تھا۔
واضح رہے کہ عبدالرزاق شر کو رواں ماہ 6 جون کو ایئرپورٹ روڈ پر عالمو چوک کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا، پولیس کا کہنا تھا کہ مقتول بلوچستان ہائی کورٹ جارہے تھے کہ ان کی گاڑی پر خودکار ہتھیاروں سے لیس نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔
ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا تھا کہ ’مقتول وکیل کو جسم کے مختلف حصوں پر 15 گولیاں لگیں جو ان کی موت کا سبب بنیں‘۔
دریں اثنا حکومت اور پی ٹی آئی نے واقعے پر الزام تراشی کی اور دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایا تھا کہ غداری کیس میں مبینہ طور پر احتساب سے بچنے کے لیے وکیل کو عمران خان کے کہنے پر قتل کیا گیا جب کہ پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ پر قتل کا الزام لگایا تھا۔
خیال رہے کہ عبدالرزاق نے بلوچستان ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے خلاف آئینی درخواست دائر کی تھی، جس میں سابق وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری سے متعلق کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔
ان کی درخواست میں کہا گیا کہ عمران خان کے خلاف سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلایا جائے جس میں پی ٹی آئی کے خلاف مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد قومی اسمبلی کو غیر قانونی طور پر تحلیل کرنے پر عمران خان اور قاسم سوری کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن نے وزیر اعظم شہباز اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے استعفوں کے ساتھ ساتھ شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
عطا تارڑ کی پریس کانفرنس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پارٹی کے ترجمان حسن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے سربراہ کو ایک اور کیس میں پھنسانے کی کوشش کا فوری نوٹس لے، عبدالرزاق شر کا قتل تحریک انصاف کو کچلنے کی غیر آئینی اور غیر قانونی مہم کا تسلسل ہے۔
7 جون کو عبدالرزاق شر کے بیٹے نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کرادیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ ان کے والد کو سابق وزیراعظم کے کہنے پر قتل کیا گیا۔
8 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عبدالرزاق شر کے قتل کے مقدمے میں عمران خان کی دو ہفتوں کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔


مشہور خبریں۔
سپریم جوڈیشل کونسل سابق جج کیخلاف کارروائی نہیں کر سکتی، فیض حمید، عرفان رامے
?️ 15 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے
فروری
اصول کے تحت پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا حصہ نہیں بن رہے، مولانا فضل الرحمٰن
?️ 27 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر اور
اپریل
طوفان کی وجہ سے لندن کے ہوائی اڈے پر افراتفری
?️ 13 جون 2023سچ خبریں:انگلینڈ میں پیر کے روز طوفان اور خراب موسمی حالات کے
جون
یوکرین کا روس پر ایک سال کے اندر سب سے بڑا ڈرون حملہ
?️ 27 جون 2026سچ خبریں:روسی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین نے ایک سال میں سب
جون
یوکرائن کے بحران پر سعودی عرب کا پہلا ردعمل
?️ 3 مارچ 2022سچ خبریں:یوکرائن کے بحران پر سعودی حکومت نے اپنے پہلے سرکاری ردعمل
مارچ
یمن کی جانب سے امریکی جہاز کی طرف میزائل فائر
?️ 27 نومبر 2023سچ خبریں:امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے خلیج عدن میں ایک
نومبر
یوکرین اور اسرائیل کی مدد کے لیے امریکی سینیٹرز کا 70 بلین ڈالر کا منصوبہ
?️ 5 فروری 2024سچ خبریں:امریکی سینیٹ کے نمائندوں نے ایک جامع بل کی نقاب کشائی
فروری
حماس کے ہتھیار ڈالنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے: صیہونی
?️ 4 جنوری 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی پر
جنوری