مسلم لیگ (ن) کو نواز شریف کی واپسی پر شاندار استقبال میں چیلنجز کا سامنا

?️

لاہور: (سچ خبریں) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر مریم نواز شریف اور نائب صدر حمزہ شہباز کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) لاہور کے یوتھ کوآرڈینیٹرز کا مشاورتی اجلاس ہوا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مشاورتی اجلاس پارٹی کی ان سرگرمیوں کا حصہ ہے جو مسلم لیگ (ن) ان دنوں سابق وزیراعظم نواز شریف کی 21 اکتوبر کو وطن واپسی پر ان کا پرجوش استقبال کرنے کی تیاریوں کے سلسلے میں کر رہی ہے۔

بدعنوانی کے الزام میں 7 برس کی قید کے دوران ضمانت پر رہا ہونے کے بعد نواز شریف 19 نومبر 2019 کو علاج کے لیے لندن چلے گئے تھے۔

سابق وزیر اعظم کے استقبال کے لیے کم از کم 10 لاکھ افراد کی شرکت کا اہتمام کرنا مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور مریم نواز کی ہجوم کو جمع کرنے کی مہارت کا امتحان ہے، جب کہ نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کے خدشات کے باعث ان کی واپسی سے متعلق پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلافات جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔

اس وقت شہباز شریف، اسحٰق ڈار، خواجہ آصف اور اعظم نذیر تارڑ وغیرہ لندن میں نواز شریف کے ساتھ قانونی اور سیاسی باریکیوں پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جب کہ مریم نواز مقامی پارٹی رہنماؤں اور مختلف ونگز سے اجلاسوں کا ایک مرحلہ مکمل کرنے کے بعد برطانیہ روانہ ہوں گی۔

پارٹی کارکنوں کو متحرک کرنے کے لیے مریم نواز نے فوکل پرسنز کا تقرر کر دیا ہے اور ضلعی سطح پر رابطہ کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں، یہ کمیٹیاں سابق ایم این اے، ایم پی ایز، ٹکٹ ہولڈرز اور دیگر اکابرین پر مشتمل ہیں جو نواز شریف کے استقبال کے بعد ہی تحلیل ہو جائیں گی۔

ہر رکن پارلیمنٹ، ٹکٹ ہولڈر اور پارٹی عہدیدار کے لیے استقبال میں عوام کو لانے کا کم از کم ہدف طے کیا جا رہا ہے۔

تاہم خواجہ آصف سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کے یہ بیانات کہ نواز شریف حفاظتی ضمانت حاصل کرنے کے بعد ہی وطن واپس آئیں گے تاکہ انہیں جولائی 2018 کی طرح ایئرپورٹ پر گرفتار نہ کیا جائے، ان کی وطن واپسی کے اعلانات پر شکوک و شبہات پیدا کر رہے ہیں اور اس سے پارٹی کارکنوں اور حامیوں میں جوش و خروش کم ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ مریم نواز مختلف پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلافات دور کرنے کے مشکل کام کا بھی سامنا کر رہی ہیں جو استقبال کے انتظامات میں رکاوٹوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں ان کی اس مہم کے دوران سابق مرکزی جنرل سیکریٹری اور صوبے کے سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا اور سابق صوبائی وزیر اعلیٰ مہتاب عباسی جیسے رہنماؤں کو صوبائی صدر امیر مقام نے اجلاس میں مدعو نہیں کیا، اس معاملے کو کور کرنے کی کوشش میں مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف ان رہنماؤں سے براہ راست رابطے میں تھے۔

تاہم اقبال ظفر جھگڑا نے اپنے گھر پر امیر مقام مخالف کنونشن کا انعقاد کیا جس میں مہتاب عباسی اور طارق خان نے شرکت کی جو ایک اور سابق جنرل سیکریٹری سر نجم خان کے بیٹے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے صدر حافظ حفیظ الرحمٰن کے خلاف بھی اختلافی آوازیں اٹھیں جب کہ ان کے حریفوں کا کہنا ہے کہ وہ دو دہائیوں سے پارٹی کی سربراہی کر رہے ہیں، وہ نوجوانوں کے لیے عہدہ خالی کریں۔

حافظ حفیظ الرحمٰن نے رضاکارانہ طور پر عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کی لیکن مریم نواز نے انہیں ایسا کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسی بھی دفتر میں گارڈز کی تبدیلی کا فیصلہ نواز شریف کی واپسی کے بعد ہی کیا جائے گا۔

اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعظم راجا فاروق حیدر نے شاہ غلام قادر کو آزاد جموں و کشمیر کا صدر ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف مسلم لیگ (ن) کے قائد کو جوابدہ ہیں۔

پنجاب میں بہت سے قابل ذکر رہنما، سابق ممبران پارلیمنٹ سے ناراض ہیں کیونکہ جب پارٹی اقتدار میں تھی تو انہیں نظر انداز کیا گیا، اب وہ ان سابق ایم این اے اور ایم پی ایز کو پارٹی کارکنوں کو استقبال کے لیے جمع کرنے میں اپنا تعاون دینے کو تیار نہیں اور اس مقصد کے لیے الگ ریلیاں کرنے پر مائل ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر کو میڈیا کو مینیج کرنے کا کام بھی سونپا گیا ہے جب کہ میڈیا کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ اب بھی عمران خان کے حامی اینکر پرسنز کے زیر اثر ہے۔

مشہور خبریں۔

نتن یاہو تاریخی شکست کی قیمت ادا کرے گا: اسرائیلی تجزیہ کار

?️ 29 اپریل 2025سچ خبریں: اسرائیلی تجزیہ کار "آوی اساخاروف” نے مغربی ایشیا کے معاملات پر

انتخابات کا اعلان نہیں ہوا تو تحریک 10 مہینوں تک جاری رہے گی، عمران خان

?️ 2 نومبر 2022گوجرانوالہ: (سچ خبریں)پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران

سعودی اتحاد جنگ بندی کو غنیمت سمجھے: یمنی پارلیمنٹ

?️ 4 ستمبر 2022سچ خبریں:    یمن کی قومی سالویشن گورنمنٹ کی پارلیمنٹ نے انصار

ترکی کے عراق میں کتنے فوجی اڈے اور فوجی چھاونی ہیں؟

?️ 7 جون 2022سچ خبریں:   کرد سکیورٹی کے ماہر اور تجزیہ کار ہوکر الجاف کا

غزہ کی نسل کشی میں صیہونی حکومت کے ساتھ برطانوی انٹیلی جنس بھی شامل

?️ 14 اگست 2025سچ خبریں: انگریزی ویب سائٹ "ڈیکلاسیفائیڈ” نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی اور

صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے اسرائیل کے تین جغرافیائی سیاسی مقاصد

?️ 2 جنوری 2026سچ خبریں: صیہونی حکومت اور صومالی لینڈ کے درمیان تعلقات قائم کرنے

آبنائے تائیوان میں 33 جنگی جہاز اور چینی فوج کے 10 شپ موجود

?️ 27 مئی 2023سچ خبریں:تائیوان کی وزارت دفاع نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ

ایران کشیدگی؛ پاکستان، چین اور روس نے بڑا اقدام اٹھالیا

?️ 22 جون 2025اسلام آباد (سچ خبریں) ایران پر اسرائیل اور امریکی حملہ کے بعد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے