مراد سعید کو جان لیوا خطرات پر صدر مملکت کا وزیراعظم اور چیف جسٹس کو خط

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی توجہ وفاقی حکومت اور ریاستی مشینری کی جانب سے رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) مراد سعید کی جان کو لاحق خطرات اور انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر مبذول کروائی ہے۔

علیحدہ خطوط میں صدر نے وزیر اعظم اور چیف جسٹس سے کہا کہ وہ مراد سعید کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل پر غور کریں تاکہ ان کی شکایات کو دور کیا جا سکے۔

یہ خطوط 12 دسمبر کو سابق وزیر برائے مواصلات مراد سعید کی جانب سے صدر مملکت کو بھیجے گئے 5 صفحات پر مشتمل خط کے ردعمل میں لکھے گئے ہیں جس میں صدر سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ وفاقی حکومت اور اس کی ایجنسیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی روک تھام یقینی بنائیں۔

صدر عارف علوی نے اعلیٰ عہدیداروں کے نام اپنے خطوط میں مراد سعید کی جانب سے لگائے گئے سنگین الزامات کا حوالہ دیا جن میں یکم مئی 2022 کو مسجد نبوی میں پیش آنے والے واقعے پر ان کے خلاف ایف آئی آر بھ شامل ہے جبکہ درحقیقتوہ اس وقت پاکستان میں موجود تھے۔

خط میں کہا گیا کہ مراد سعید کے خلاف پورے پاکستان میں ایک ہی الزام کے تحت متعدد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، یہ کارروائی آئین کے آرٹیکل 9، 13، اور 14 کے تحت درج بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔

صدر نے اپنے خطوط میں یاد دہانی کروائی کہ مراد سعید نے مالاکنڈ میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا معاملہ اٹھایا تھا، اس کے بعد انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے خاندان سمیت سوات چھوڑنے پر مجبور کیا۔

خطوط میں آئین کے آرٹیکل 15 کا بھی حوالہ دیا گیا جو ہر شہری کو پاکستان میں رہنے، پورے ملک میں آزادانہ طور پر نقل و حرکت کرنے اور ملک کے کسی بھی حصے میں رہائش پذیر ہونے کا حق حاصل ہے’۔

مزید برآں مراد سعید نے کہا کہ 18 اگست 2022 کو نامعلوم مسلح افراد نے ان کے گھر میں داخل ہوکر چار دیواری کی خلاف ورزی کی لیکن اسلام آباد پولیس نے ان کی بار بار درخواست اور عدالت کے حکم کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نامعلوم افراد اکثر ان کا پیچھا کرتے ہیں اور انہیں جان لیوا دھمکیوں کے ساتھ ہراساں کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے پوری ریاستی مشینری اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکام ہو رہی ہے۔

صدر عارف علوی نے اپنے خطوط میں نشاندہی کی کہ ایسی مبینہ کارروائیاں آئین اور قانون کے آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہیں۔

مراد سعید نے صدر کو مزید بتایا کہ انہیں ذمہ دار عہدیداروں نے کئی بار مطلع کیا ہے کہ ان کی جان کو شدید خطرہ ہے، یہ واضح نہیں کہ ان کا پیچھا کرنے والے افراد کسی دہشت گرد تنظیم کے رکن ہیں یا ان کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ہے۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ انہیں ہراساں کرنے والوں کو پکڑنے اور ان پر مقدمہ چلانے کے بجائے پوری ریاستی مشینری ان افراد کی مدد اور سہولت فراہم کر رہی ہے جو ان کی جان کے درپے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی وہ گاڑی میں سفر کرتے ہیں تو مشکوک گاڑیاں ان کا پیچھا کرتی ہیں اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے۔

خط میں کہا گیا کہ انہیں اپنے گھر کے باہر اکثر جعلی نمبر پلیٹس والی موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کے ہمراہ مشکوک افراد نظر آتے ہیں۔

مشہور خبریں۔

ہیومن رائٹس واچ کا سعودی عرب سے یمنی تارکین وطن کی ملک بدری روکنے کا مطالبہ

?️ 1 ستمبر 2021سچ خبریں:ہیومن رائٹس واچ نے یمن میں جاری بحران پر زور دیتے

امریکہ کا وینزوئلا کی تیل آمدنی براہ راست امریکی خزانے میں منتقل کرنے کا حکم

?️ 2 جون 2026سچ خبریں:اسپین کے معتبر اخبار El Economista کی ایک رپورٹ کے مطابق

یمنی مزاحمت کو روکنے کا امریکی منصوبہ کیا ہے؟

?️ 6 مئی 2024سچ خبریں: غزہ کے عوام کی حمایت کے لیے باب المندب میں صیہونی

ہم کسی لانگ مارچ ہو یا شارٹ مارچ ہم گھبرانے والے نہیں ہیں

?️ 7 نومبر 2021اسلام آباد (سچ خبریں) پی ڈی ایم بیرونی ایجنڈے پر کام کر

صیہونی عرب ممالک کے ساتھ ایک اور ملاقات کے خواہاں

?️ 11 جنوری 2023سچ خبریں:صیہونی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس حکومت کی وزارت خارجہ

نیتن یاہو ہذیان بک رہے ہیں،مزاحمتی تحریک پورے مقبوضہ فلسطین کو آزاد کروا سکتی ہے:رائے الیوم

?️ 15 فروری 2021سچ خبریں:رائے الیوم اخبار نے جولان کی بلندیوں کو اسرائیلی علاقہ قرار

اٹلی کی وزیرِاعظم: اگر ایران مذاکرات پر آمادہ ہو تو یورپ کو پابندیاں نرم کر دینی چاہئیں

?️ 11 جون 2026سچ خبریں: اٹلی کی وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ اگر ایران مذاکرات کی

غزہ کی پٹی کے شمال میں اسرائیلی فوج کے مہلک نقصانات کی وجوہات

?️ 18 نومبر 2024سچ خبریں:غزہ کی پٹی کے شمال میں صیہونی حکومت کی فوج کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے