?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں پر نظرثانی اپیلوں پر فریقین کو نوٹس جاری کردیئے، توہین عدالت کی درخواست بھی سماعت کے لیے منظور کرلی گئی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کیس پر سماعت ہوئی جہاں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 13 رکنی بینچ یہ کیس سن رہا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر بینچ میں شامل ہیں، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس نعیم اختر افغان بھی بینچ کا حصہ ہیں، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس ہاشم کاکڑ، جسٹس شاہد بلال کو بھی بینچ کا حصہ بنایا گیا ہے، جسٹس صلاح الدین پنہور، جسٹس عامر فاروق، جسٹس باقر نجفی بینچ میں شامل ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ آج کی سماعت کے دوران مسلم لیگ ن کے وکیل حارث عظمت روسٹرم پر آئے اور دلیل دی کہ ’مخصوص نشستیں ایک ایسی جماعت کو دی گئیں جو کیس میں فریق نہیں تھی‘، اس پر جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ ’اس نکتے کا جواب فیصلے میں دیا جا چکا ہے، آپ کی نظرثانی کی بنیاد کیا ہے؟‘، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ’آپ کا پورے فیصلے سے اختلاف ہے یا پھر اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں؟‘، وکیل حارث عظمت نے جواب دیا کہ ’ہمارا اختلاف اکثریتی ججز سے ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی نشستیں دینے کی استدعا ٹیکنیکلی مسترد کی تھی‘۔
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ ’نظرثانی کا سکوپ محدود ہے اس پر دوبارہ دلائل نہیں دے سکتے، کیا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا؟‘، وکیل ن لیگ بولے کہ ’مجھے اس بارے علم نہیں ہے‘، جسٹس عائشہ ملک نے قرار دیا کہ ’آپ کو کیسے پتا نہیں نظرثانی آپ نے خود دائر کی ہے‘، جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ ’ آپ بار بار ایک سیاسی جماعت کا نام لے رہے ہیں اسے چھوڑ دیں، سپریم کورٹ نے آئین کے مطابق فیصلہ دیا، آپ ہمیں بتائیں کہ فیصلے میں کیا غلطی ہے؟ جو باتیں آپ بتا رہے ہمیں وہ زمانہ طالب علمی سے معلوم ہیں، کیا اب آپ سپریم کورٹ کو سمجھائیں گے، آرٹیکل 188 کے تحت نظرثانی کے دائرہ اختیار پر دلائل دیں‘۔
جسٹس عقیل عباسی نے سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ ’پہلے الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی درخواست نہ سُن لیں؟ کیا توہین عدالت کی درخواست بھی آج مقرر ہے؟‘، جس پر وکیل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے جواب دیا کہ ’بالکل آج توہین عدالت کی درخواست بھی مقرر ہے‘، جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیئے کہ ’الیکشن کمیشن نے جس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا اُس پر نظرثانی مانگ رہا ہے، الیکشن کمیشن کو مرکزی کیس میں بھی کہا تھا کہ آپ کا رویہ ایک پارٹی کا ہے‘۔
بعد ازاں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کے 11 ممبران نے مخصوص نشستوں کے کیس میں نظرثانی درخواست ابتدائی سماعت کیلئے منظور کر کے نوٹس جاری کردیئے، جب کہ جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرثانی درخواستیں خارج کر دیں، آئینی بنچ نے قرار دیا کہ الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر توہینِ عدالت کی درخواست بھی کیس کے ساتھ ہی سُنیں گے‘۔


مشہور خبریں۔
نوری المالکی وزارتِ عظمیٰ کے واحد امیدوار ہیں:ولید الاسدی
?️ 24 فروری 2026نوری المالکی وزارتِ عظمیٰ کے واحد امیدوار ہیں:ولید الاسدی عراق کے اتحادِ
فروری
بلومبرگ: خلیج فارس کے عرب ممالک ٹرمپ سے مایوس
?️ 29 مارچ 2026سچ خبریں: امریکہ، ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت اور رژیم اسرائیل کے ایران
مارچ
گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، گھریلو صارفین کیلئے 194 فیصد تک مہنگی
?️ 31 اکتوبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) نگران وفاقی کابینہ نے گیس کی قیمتوں میں ہوشربا
اکتوبر
پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ: عدالت کا پارلیمانی کارروائی کا ریکارڈ کل تک جمع کرانے کا حکم
?️ 8 مئی 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) چیف جسٹس آف پاکستان کے اختیارات میں کمی کے
مئی
بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے غیر ملکی وفود اسلام آباد پہنچ گئے
?️ 10 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس میں شرکت کیلئے سعودی
نومبر
پشاور ہائیکورٹ: پی ٹی آئی کے 24 سابق ارکان قومی اسمبلی نے استعفوں کی منظوری چیلنج کردی
?️ 25 فروری 2023خیبرپختونخوا:(سچ خبریں)خیبرپختونخوا جانب سے ڈی نوٹیفکیشن کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے
فروری
خطے کی تازہ صورتحال پر امریکی ذرائع ابلاغ کا ردعمل
?️ 8 جون 2026سچ خبریں:امریکی ذرائع ابلاغ نے خطے میں گزشتہ گھنٹوں کے دوران پیش
جون
صہیونیوں کے جرائم کو روکنے کے لیے مختلف لیورکا استعمال
?️ 2 جنوری 2024سچ خبریں:ایک امریکی وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن اسٹینلی کوہن نے
جنوری