مبینہ بیٹی کا معاملہ: عمران خان کےخلاف نااہلی کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر فیصلہ محفوظ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مبینہ بیٹی کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے نااہلی کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی مبینہ بیٹی کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کے خلاف نا اہلی کیس کی سماعت شروع ہوئی۔

چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ کیس کی سماعت کررہا ہے جہاں درخواست گزار کی جانب سے حامد علی شاہ عدالت میں پیش ہوئے جبکہ عمران خان کی جانب سے سلمان اکرم راجا اور ابوذر سلمان عدالت میں حاضر ہوئے۔

دوران سماعت الیکشن کمیشن کی جانب سے سعد حسن اور ضیغم انیس عدالت میں پیش ہوئے۔

درخواست گزار وکیل حامد علی شاہ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن میں دیے بیان حلفی میں اپنی بچی کا نام ظاہر نہیں کیا اور پبلک آفس ہولڈر میں ہے کہ عمران بطور پارٹی سربراہ بھی نہیں رہ سکتے۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عمران خان کی نااہلی کے لیے تمام حقائق پٹیشن میں درج ہیں، انہوں نے پٹیشن میں ذکر کیے گئے حقائق کا جواب نہیں دیا اور ابھی تک کے ریکارڈ کے مطابق عمران خان نے نہ انکار کیا نہ کچھ مانا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ہم ابھی تک یہ پٹیشن قابل سماعت ہونے کے حوالے سے سن رہی ہیں۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ بنیادی نکات پر جواب دیں، ٹیریان عمران خان کی زیر کفالت ہے یا نہیں، عمران خان اب پبلک آفس ہولڈر ہیں یا نہیں، سلمان اکرم راجا کے ان نکات کے جواب میں کچھ نیا ہے تو وہ بتائیں، ابھی تک عمران خان کا اعتراف یا تردید ریکارڈ پر نہیں ہے۔

اس موقع پر پٹشنر کے وکیل حبیب اکرم نے کیس میں ذکر کیے گئے بیان حلفی کو پڑھا جبکہ وکیل نے عمران خان کی جانب سے جمع کرایا گیا بیان حلفی پڑھا۔

وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان نے بشریٰ بی بی ، قاسم خان اور سلمان خان کا ذکر بیان حلفی میں کیا، عمران خان نے کہا کہ دو بیٹے اپنی ماں کے ساتھ رہتے ہیں اور وہ مالی طور پر زیر کفالت نہیں ہیں، ٹیریان کی ابھی شادی نہیں ہوئی تو اسلامی قانون کے لحاظ سے وہ زیر کفالت ہوتی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ انہوں نے کہیں بھی مسلم باپ کبھی مانا تو نہیں۔

پٹشنر کے وکیل حامد علی شاہ نے اسلامی قانون کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ تمام فتاویٰ کہتے ہیں کہ بیٹی باپ کے زیر کفالت ہو گی، پٹشنر محمد ساجد پاکستانی شہری ہے اور باقی شہریوں کی طرح ہے۔

چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وہ محب وطن پاکستانی ہے جس پر وکیل حامد علی شاہ نے کہا کہ جی وہ باقی شہریوں کی طرح شہری ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

وکیل حامد علی شاہ نے دلائل دینے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ درخواست پارٹی سربراہ کے خلاف ہو تو بھی یہ پٹیشن قابل سماعت ہے، عدالتی فیصلوں کے مطابق اگر کوئی جھوٹا بیان حلفی دیتا ہے تو وہ 62 ون ایف کے تحت نااہل ہوتا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر عدالت اس نقطے پر پہنچ جائے کہ یہ بیان حلفی غلط تھا تو پھر کیا ہو گا؟۔

اس پر وکیل حامد علی شاہ نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ پھر وہ رکن اسمبلی بننے اور پارٹی سربراہ رہنے سے نااہل ہو جائے گا۔

چیف جسٹس نے وکیل الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو کہا تھا دستاویزات جمع کروائیں، الیکشن کمیشن کا اس حوالے سے کیا موقف ہے؟۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ماضی میں عدم ثبوت کی بنا پر اس قسم کی درخواستیں خارج ہو چکی ہیں۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست ہم نے صرف قابل سماعت ہونے کی حد تک سنی ہے، اگر قابل سماعت ہوئی تو کیس آگے چلے گا، نہ ہوئی تو کیس ختم ہو جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اس رویے پر بھاری جرمانہ کیوں نہ کیا جائے جس پر الیکشن کمیشن نے موقف اختیار کیا کہ صرف یہ بتانا چاہتے تھے کہ عدم ثبوت پر ہم یہ کیس خارج کر چکے ہیں، ہم پہلے فیصلہ کریں گے کہ کیس قابل سماعت ہے یا نہیں۔

اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے مبینہ بیٹی کو کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے کے حوالے سے عمران خان کے خلاف نااہلی کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔

مشہور خبریں۔

عارف علوی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے خط لکھ دیا

?️ 6 اپریل 2022اسلام آباد(سچ خبریں)صدر مملکت عارف علوی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو

بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی بے حرمتی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، حریت رہنما

?️ 23 فروری 2024سرینگر: (سچ خبریں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر

امریکی کانگریس نے اسرائیل پر تنقید کرنے والی رکن کے ساتھ کیا کیا؟

?️ 9 نومبر 2023سچ خبریں: امریکی ایوان نمائندگان نے صیہونی حکومت پر تنقید اور فلسطین

پاکستان سمیت مزید 40 ممالک میں ’گوگل اے آئی پلس‘ پلان متعارف

?️ 24 ستمبر 2025سچ خبریں: گوگل نے اعلان کیا ہے کہ اس کا ’گوگل اے

امریکہ اور برطانیہ یمن کی سرزمین چھوڑ دیں:یمنی فوج

?️ 24 مارچ 2023سچ خبریں:یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا

 دہشت گردوں کی ہلاکتیں 67 تک پہنچ گئیں:پاکستانی سیکورٹی حکام 

?️ 31 جنوری 2026 دہشت گردوں کی ہلاکتیں 67 تک پہنچ گئیں:پاکستانی سیکورٹی حکام  پاکستانی سکیورٹی

صیہونیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والے واضح وہم میں ہیں:عمان یونیورسٹی کے پروفیسر

?️ 1 جولائی 2022سچ خبریں:عمان یونیورسٹی کے ایک پروفیسر اور سائبر ایکٹوسٹ نے صیہونیوں کے

خوفناک قتل عام کا سبب بننے کے لیے غزہ شہر میں مکمل انٹرنیٹ اور مواصلاتی کٹوتی

?️ 18 ستمبر 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت کی جانب سے شہر پر اپنے وحشیانہ حملوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے