?️
لاہور(سچ خبریں) ٹی وی پروگرام میں مبینہ طور پر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنانے پر وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست لاہور ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کر لی گئی درخواست میں وزیراعظم پاکستان کے پرسنل سیکریٹری کے ساتھ ساتھ سیکریٹری اطلاعات، چیئرمین پیمرا اور چیئرمین پی ٹی وی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ 4 اپریل 2021 کو شام چار بجے پی ٹی وی سے لائیو پروگرام نشر کیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی سوالوں کے جوابات دے رہے تھے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعظم پاکستان نے مذکورہ پروگرام میں عدلیہ مخالف بیان دیا تھا اور پیغام کے ذریعے عدلیہ کے ججوں پر نواز شریف سے تعلقات کا الزام لگایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا بیان توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے جبکہ انہوں نے نیب کی ناقص تفتیش کا ذمے دار بھی ججز کو ٹھہرانے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے اپنے الفاظ سے آئین کے آرٹیکل 204 کی خلاف ورزی کی جو توہین عدالت کے حوالے سے ہے جبکہ وہ آرٹیکل 68 اور 114 کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوئے جو حتیٰ کے پارلیمنٹ میں بھی عدلیہ کے خلاف اس طرح کے توہین آمیز بیانات کی ممانعت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طرز عمل کو ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس سلسلے میں فوری کارروائی کی ضرورت ہے تاکہ معزز ججز کے وقار کو بحال رکھا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں توہین عدالت پر متعدد بار اسٹیک ہولڈرز کو سزا ہوئی اور اس میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سرفہرست ہیں جنہیں اس وقت سزا ہوئی جب وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کو مستقل طور پر عدلیہ اور معزز ججز کے خلاف اس طرح کے توہین آمیز بیانات دینے سے روکا جائے اور ملک اور عوام کے وسیع تر مفاد میں اس طرح کا توہین آمیز مواد نشر کرنے ان کو ذاتی حیثیت میں طلب کر کے وضاحت بھی طلب کی جائے۔
وزیر اعظم کے خلاف توہین عدالت کی اس درخواست کو سماعت کے لیے قبول کر لیا گیا ہے اور کل جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل ایک رکنی بینچ اس کیس کی سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ مذکورہ پروگرام کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ عدلیہ نے کرپشن سے پورا لڑنا ہوتا ہے، عدلیہ آپ کے سامنے ہے، ہم کہہ رہے کہ سزا یافتہ مجرم نواز شریف کو کم از کم 7ارب روپے کے ضمانتی مچلکوں پر دستخط کرائیں، اس کے باوجود ججوں نے انہیں اٹھا کر باہر بھیج دیا۔
یاد رہے کہ نومبر 2019 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی سزا کو 8 ہفتوں کے لیے معطل کردیا گیا تھا جبکہ مزید مہلت کے لیے حکومت پنجاب سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔


مشہور خبریں۔
عمران خان نے خاتون جج کو دھمکی دینے پر عدالت سے معافی مانگ لی، فرد جرم سے بچ گئے
?️ 23 ستمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)عمران خان نے خاتون جج کو دھمکی دینے پر
ستمبر
جوہر ٹاؤن دھماکے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کر لیا گیا: بزدار
?️ 28 جون 2021لاہور(سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہا کہ جوہر ٹاؤن دھماکے
جون
2 جولائی کے بعد ملک میں پہلی مرتبہ کورونا کے اتنے کیسز سامنے آئے ہیں
?️ 26 مارچ 2021اسلام آباد (سچ خبریں) کووِڈ 19 کے اعداد و شمار کے لیے
مارچ
عراق میں5داعشی تکفیری دہشت گرد گرفتار
?️ 15 فروری 2021سچ خبریں:عراقی سکیورٹی فورسز نے موصل شہر میں انسداد دہشت گردی کاروائی
فروری
واشنگٹن نے حماس کے بارے میں اسرائیل کے دعوے پر سوال اٹھایا
?️ 22 دسمبر 2023سچ خبریں:واشنگٹن پوسٹ اخبار کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات نے
دسمبر
بھارتی فورسز نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں چھاپوں، محاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا
?️ 8 اپریل 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں
اپریل
کل جماعتی حریت کانفرنس کی مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فورسزکے ہاتھوں تازہ گرفتاریوں کی مذمت
?️ 7 اپریل 2024سرینگر: (سچ خبریں) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں
اپریل
ایران، عالم اسلام کے زخموں کا مرہم
?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: پاکستان کے معروف سنی علماء اور مفکرین کی شرکت سے "امت
جولائی