?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتا شہری کو بدھ کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو آئی ایس آئی،ایم آئی اور آئی بی کے حکام عدالت کے سامنے پیش ہو کر ریاست کی ناکامی کی وضاحت کریں گے۔
اسلام آباد سے لاپتا شہری حسیب حمزہ کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کی، جہاں عدالتی حکم پر آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
دوران سماعت آئی جی اسلام آباد نے عدالت کو بتایا کہ لاپتا شہری حسیب حمزہ کی گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے آئی جی اسلام آباد سے مخاطب ہوکر کہا کہ آئی جی صاحب، یہ ناقابل برداشت ہے، لاپتا افراد سے متعلق پہلے ایک فیصلہ موجود ہے جس میں یہ واضح قرار دیا گیا ہے کہ شہری کے لاپتا ہونے پر آئی جی اور متعلقہ افسران ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عدالت اب اس فیصلے کے مطابق ہی کارروائی کرے گی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد پولیس کو کل 10 بجے تک لاپتا شہری کو عدالت پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ہر ایک کو بلا کر اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایم آئی، آئی ایس آئی اور آئی بی سمیت سب پیش ہو کر ریاست کی ناکامی کی وضاحت کریں گے، شہری کی عدم بازیابی پر کل ایم آئی، آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈرز پیش ہوں جبکہ اسپیشل برانچ اور آئی بی کے سیکٹر کمانڈرز بھی پیش ہوں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 23 اگست سے شہری لاپتا ہے مگر مقدمہ 12 ستمبر کو درج ہوتا ہے۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ دنیا کی بہترین ایجنسیوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں کہ لاپتا شہری کو پیش نہ کر سکیں، اگر آپ چاہتے ہیں تو وقت دس بجے سے ساڑھے گیارہ کر دیتے ہیں اس سے زیادہ نہیں۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آئی جی صاحب، یہ عدالت آپ پر اعتماد کر رہی ہے، وزیر اعظم پاکستان بھی لاپتا افراد کے کیسز میں ہی اس عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے لاپتا شہری کو کل ساڑھے گیارہ بجے تک بازیاب کر کے پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے شہری کی بازیابی کے لیے زیادہ مہلت دینے کی آئی جی اسلام آباد کی استدعا مسترد کردی۔
عدالت نے بدھ کو چیف کمشنر کو بھی عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔
لاپتا شہری حسیب حمزہ کی بازیابی کے لیے دائر درخواست میں ان کے والے ذولفقار علی نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کا بیٹا ایک مزدور تھا جو لیاہ میں کام کرتا تھا۔
ڈان ڈاٹ کام کے پاس موجود درخواست کے مطابق درخواست میں وزارت دفاع کے ذریعے حکومت پاکستان، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس اور وزیر داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 22 اور 23 اگست کی رات 20 لوگ بغیر کسی وارنٹ کے گھر میں داخل ہوئے جن میں سے 15 افراد کو سیاح یونیفارم پہنا ہوا تھا۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ گھر میں چھاپہ مارنے کے بعد ان کے بیٹے کو حراست میں لینے کے ساتھ ساتھ 5 لیپ ٹاپ، 6 موبائل فون اور کچھ ضروری کاغذات اپنے ساتھ لے گئے۔
درخواست گزار نے کہا ہے کہ حالات سے پتا چلتا ہے کہ ان کے بیٹے کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے، درخواست گزار اپنے بیٹے کی تلاش کے لیے بھاگا دوڑا مگر ریاستی اداروں سے کسی قسم کا کوئی اطلاع نہیں ملا۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت لاپتہ شہری کو عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرے۔ درخواست گزار نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر ان ذمہ داروں کی نشاندہی کرے اور شہری کو اغوا کرنے اور غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔


مشہور خبریں۔
افغان فوج کی نابودی کی کہانی امریکیوں کی زبانی
?️ 1 مارچ 2023سچ خبریں:افغانستان کی تعمیر نو کے لیے امریکی دفتر برائے معائنہ (SIGAR)
مارچ
ایران نے اسرائیل کے کن ٹکھانوں کو نشانہ بنایا؟
?️ 5 اکتوبر 2024سچ خبریں: ایران نے اپنے وعدہ صادق 2 آپریشن کے دوران اسرائیل
اکتوبر
عراقچی اور پوتین کی ملاقات کی اطلاع
?️ 27 اپریل 2026 سچ خبریں:ایران کے سفیر نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے
اپریل
وقت ضائع نہ کرؤ ورنہ پچھتاؤ گے؛انصاراللہ کا جارحین سے خطاب
?️ 29 مارچ 2022سچ خبریں:انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک بدرالدین الحوثی نے اس بات پر زور
مارچ
کئی سالوں سے کشیدہ تعلقات کے بعد ابو ظہبی ولی عہد کی ترک صدر کے ساتھ گفتگو
?️ 1 ستمبر 2021سچ خبریں:ابوظہبی اور انقرہ کے درمیان برسوں کے کشیدہ تعلقات کے بعد
ستمبر
ٹرمپ امریکہ کے صدر کیوں اور کیسے بنے؟
?️ 8 نومبر 2024سچ خبریں: ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 سال قبل پہلی بار صدارتی انتخاب
نومبر
یورپی کمیشن اور کونسل کے صدر کی بیجنگ میں چینی صدر سے ملاقات
?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: چینی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ چین اور یورپی یونین
جولائی
عرب اور اسلامی ممالک نیتن یاہو کے استکبار کے سامنے کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟؟
?️ 21 اگست 2025سچ خبریں: لبنان کے ایک تجزیہ کار نے اس بات پر تعجب
اگست