قومی اسمبلی 9 اگست کو تحلیل کردی جائے گی

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) وزیر اعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا ہے کہ وہ موجودہ اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے 3 روز قبل 9 اگست کو ہی قومی اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔

شہباز شریف نے یہ بات وزیراعظم ہاؤس میں حکمران اتحاد میں شامل رہنماؤں کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے میں بتائی۔

وزیراعظم کی جانب سے کی گئی اس بات کی خبر اس تقریب میں شریک ذرائع نے ڈان کے ساتھ شیئر کی۔

خبر کے مطابق قومی اسمبلی اپنی مدت کی تکمیل سے قبل تحلیل ہو جائے گی، اس کا مطلب ہے کہ عام انتخابات اس کی تحلیل کے 90 روز کے اندر ہونے ہیں۔

آئین میں کہا گیا ہے کہ اگر اسمبلی اپنی مدت پوری کرتی ہے تو انتخابات 60 روز میں کرائے جائیں گے لیکن اس کے قبل از وقت تحلیل ہونے کی صورت میں یہ مدت بڑھ کر 90 روز تک ہو جاتی ہے۔

استقبالیہ میں وزیراعظم نے شرکا کو آگاہ کیا کہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے پارٹی کے اندر مشاورت کو حتمی شکل دے دی ہے اور وزیراعظم آج بروز جمعہ نگران سیٹ اپ کے حوالے سے اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کا حتمی دور شروع کریں گے، اس بات چیت کی کم از کم 3 روز تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔

نگران سیٹ اپ سے متعلق اتحادیوں کے ساتھ ایک میٹنگ ویڈیو لنک کے ذریعے آج بھی متوقع ہے، ذرائع نے بتایا کہ جمعرات کو بھی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر وزیراعظم سے طویل ملاقات کی۔

عشائیے میں وزیراعظم نے اتحادی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں اتحادیوں کو آگاہ کیا اور دعویٰ کیا کہ مخلوط حکومت نے 15 ماہ کے دوران ٹیکس کلیکشن میں 13 فیصد اضافہ کیا جب کہ اس دوران 13 لاکھ سے زائد نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا۔

شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ پاور سیکٹر میں ریکوری 90 فیصد سے زائد رہی، تاہم یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گردشی قرضے میں گزشتہ 11 ماہ کے دوران 18 فیصد یعنی 393 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں گزشتہ چار ماہ کے دوران نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی اور گزشتہ مالی سال کے دوران آئی ٹی ایکسپورٹ کا مجموعی حجم 2 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔

انہوں نے کہا کہ مالی سال 23-2022 کے دوران مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری ایک ارب 45 کروڑ ڈالر رہی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام سے مزید غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جامع پالیسیاں وضع کی گئیں۔

عشائیے میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف، پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی، ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، جے یو آئی (ف) کے رہنما اسعد محمود، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما خالد مگسی اور سینیٹر احمد خان، جمہوری وطن پارٹی کے چیئرمین شاہ زین بگٹی کے علاوہ اسلم بھوتانی، محسن داوڑ اور دیگر نے شرکت کی۔

مشہور خبریں۔

اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت کے فیصلے پر وزیراعظم کا ردعمل

?️ 21 جولائی 2024سچ خبریں: وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی عدالت انصاف کے فلسطین پر

رفیق حریری کے خاندان سے سعودیوں کی نفرت کی انتہا نہیں

?️ 23 ستمبر 2021سچ خبریں: سعودی اور الحریری جن کے کبھی بہت قریبی تعلقات تھے اوجیہ

مقبوضہ فلسطین میں نیتن یاہو کی مقبولیت ختم

?️ 14 اکتوبر 2023سچ خبریں:ایک نئے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ الاقصیٰ طوفانی آپریشن

آئی فون 14سے متعلق شائقین کے لئے اہم خبر

?️ 29 ستمبر 2021برلن(سچ خبریں) آئی فون14سے متعلق موبائل فونز کے شائقین کے لیے خوش

صیہونی ریاست میں معاشی جمود، غزہ جنگ کے نتیجے میں 60 ہزار کمپنیاں بند

?️ 8 جنوری 2025سچ خبریں:غزہ میں جاری جنگ اور مسلسل میزائیل حملوں نے مقبوضہ علاقوں

امریکی حکومت صرف اپنے مفادات کے بارے میں سوچتی ہے: کیوبا

?️ 5 فروری 2023سچ خبریں:ہمارے ملک کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان لاطینی امریکہ کے دورے

انسانی حقوق کے علمبردار بلوچستان میں مظالم پر آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ عظمی بخاری

?️ 12 جولائی 2025لاہور (سچ خبریں) وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ

یوکرین جنگ میں بائیڈن کی کارکردگی سے امریکی ناراض

?️ 2 مئی 2022سچ خبریں:  واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کے تازہ ترین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے