?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہونے والے سابق وفاقی وزیر فیصل واؤڈا سینیٹ کی رکنیت سے مستعفی ہو گئے۔
گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے فیصل واڈا کی تاحیات نااہلی ختم کرنے کی درخواست پر سماعت کے دوران غلطی تسلیم کرنے پر ان کی تاحیات نااہلی ختم کرتے ہوئے موجودہ اسمبلی کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔
سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں فیصل واڈا نے ایوان بالا کی رکنیت سے اپنا استعفیٰ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پیش کردیا، فیصل واڈا پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر 2018ء میں سینیٹر منتحب ہوئے تھے۔
فیصل واڈا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحیات نااہل قرار دیے جانے کے بعد جنوری میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نااہلی کے خلاف درخواست مسترد کرنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، دوران سماعت عدالت عظمیٰ نے سابق وفاقی وزیر کو دو آپشن دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کریں اور 63 (ون) (سی) کے تحت نااہل ہو جائیں یا بصورت دیگر عدالت 62 (ون) (ایف) کے تحت تاحیات نااہلی کیس میں پیش رفت کرے گی۔
سماعت کے دوران فیصل واڈا نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے امریکی شہریت چھوڑنے کا غلط بیان حلفی جمع کرانے کا اعتراف کیا تھا اور سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے معاملے پر سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی تھی جس پر عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے فیصل واڈا کو موجودہ اسمبلی کے لیے نااہل قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ فیصل واڈا آرٹیکل 63 (ون) (سی) کے تحت 5 سال کے لیے نااہل ہیں، استعفیٰ دینے کے بعد فیصل واڈا موجودہ اسمبلی کی مدت تک نااہل ہوں گے۔
سپریم کورٹ نے فیصل واڈا کے خلاف الیکشن کمیشن اور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں اپنا استعفیٰ فوری طور پر چیئرمین سینیٹ کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔
اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے فیصل واڈا کی تاحیات نااہلی ختم کرتے ہوئے آئندہ عام انتخابات اور سینیٹ انتحابات کے لیے اہل قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصل واڈا کے خلاف دہری شہریت پر نااہلی کی درخواستوں پر فیصلہ 23 دسمبر 2021 کو محفوظ کیا تھا، جس کے تحت انہیں آئین کے آرٹیکل 62 (ون) (ایف) کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا گیا جب کہ انہیں بطور رکن قومی اسمبلی حاصل کی گئی تنخواہ اور مراعات دو ماہ میں واپس کرنے کا حکم بھی دیا گیا، اس کے علاوہ ای سی پی نے فیصل واڈا کے بطور سینیٹر منتخب ہونے کا نوٹی فکیشن بھی واپس لے لیا تھا، جبکہ ان کی جانب سے بحیثیت رکن قومی اسمبلی، سینیٹ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹ کو بھی ’غلط‘ قرار دیا گیا تھا۔
فیصل واڈا پر الزام تھا کہ انہوں نے 2018 کے عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑتے ہوئے اپنی دہری شہریت کو چھپایا تھا، فیصل واڈا نااہلی کیس 22 ماہ سے زائد عرصے تک زیر سماعت رہا، مذکورہ کیس پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہوئی، ان کی دوہری شہریت کے خلاف قادر مندوخیل کی جانب سے 2018 میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ جس وقت فیصل واڈا نے قومی اسمبلی کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اس وقت وہ دہری شہریت کے حامل اور امریکی شہری تھے، فیصل واڈا نے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے الیکشن کمیشن میں ایک بیانِ حلفی دائر کیا تھا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے شہری نہیں ہے، انہوں نے جھوٹا بیانِ حلفی جمع کرایا تھا اس لیے آئین کی دفعہ 62 (ون) (ایف) کے تحت وہ نااہل ہیں۔


مشہور خبریں۔
توشہ خانہ کیس: عمران خان، بشریٰ بی بی کی نیب طلبی کیخلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری
?️ 8 مئی 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران
مئی
اردوغان: صومالی لینڈ پر اسرائیل کا فیصلہ ناجائز ہے
?️ 31 دسمبر 2025سچ خبریں: اردوغان نے صومالیہ کے اتحاد کو ترکی کی ترجیح قرار
دسمبر
ٹرمپ کی ایران کے خلاف ایک بار پھر دھمکیاں
?️ 23 جولائی 2026سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف
جولائی
ایمنسٹی انٹرنیشنل کو اسرائیلی پولیس کے اختیارات میں توسیع پر تشویش
?️ 19 اکتوبر 2021سچ خبریں:ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیلی کابینہ کی جانب سے فلسطینی گھروں کی
اکتوبر
سوئیڈن حکومت کی واٹس ایپ اور سگنل کے پیغامات تک رسائی کی کوشش
?️ 26 فروری 2025سچ خبریں:سوئیڈن کی حکومت واٹس ایپ اور سگنل کی پیغامات کی تاریخ
فروری
مقبوضہ گولان کو یہودی علاقہ بنانے کے لیے صیہونیوں کا کروڑوں ڈالر کا منصوبہ
?️ 25 دسمبر 2021سچ خبریں:صیہونی حکومت کل امریکہ کی حمایت سے گولان کو یہودی علاقہ
دسمبر
شام کی عرب لیگ میں واپسی کے لیے عراق کی مکمل حمایت
?️ 13 اپریل 2023سچ خبریں:عراقی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام کی عرب لیگ میں
اپریل
ایران کے خلاف جنگ میں گولہ بارود کی قلت؛ امریکی وزارت جنگ ذخائر بحال کرنے کے لیے سرگرم
?️ 9 اکتوبر 2026سچ خبریں:امریکی میڈیا کے مطابق، ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے دوران
اکتوبر