?️
لاہور: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ آج کل عدالت کے لیے سب سے مشکل کام اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا ہے، عدالت اگر فیصلے پر عمل درآمد نہ کراسکے تو اس کا وجود خطرے میں پڑجاتا ہے۔
لاہور میں جانوروں کے حقوق سے متعلق ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتا افراد کیسز کی سنوائی ہوئی، جبری گمشدگی کے حوالے سے فیصلہ اسی عدالت عالیہ نے دیا، بنیادی حقوق کے بارے میں بہت سے فیصلے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ملیں گے۔
جسٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالت کے لیے سب سے مشکل کام اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا ہے، عدالت اگر فیصلے پر عمل درآمد نہ کراسکے تو اس کا وجود خطرے میں پڑجاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنرل ضیاالحق نے سری لنکا کی حکومت سے درخواست کی تھی کہ اس کی بیٹی ایک ہاتھی کا بچہ رکھنا چاہتی ہے، ہاتھی بھی ہمارے انسانوں کی طرح بہت اموشنل ہوتے ہے، 3 سالہ ہاتھی کا بچہ سری لنکا سے پاکستان آیا اور ایک بیک یارڈ میں رکھا گیا وہ بچہ بڑا ہوتا گیا اور تب ضیا الحق نے فیصلہ کیا کہ اسلام آباد میں چڑیا گھر بنایا جائے اور اسے وہاں رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جب میں اس بارے سوچ رہا تھا تو اسی وقت میں جبری گمشدگی کے کیسز بھی دیکھ رہا تھا، بطور جج اس درد کو سمجھتا ہوں کسی کا عزیز جبری گمشدہ کر دیا جائے تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو غیر آئینی طریقے سے عہدے سے ہٹا کر قتل کیا گیا جس میں سپریم کورٹ بھی استعمال ہوئی، جنرل ضیا الحق کا دور سب سے خوفناک تھا، اس دور میں ٹارچر سیلز بنائے گئے، لوگوں کو مہینوں عقوبت خانوں میں رکھا جاتا تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پاکستان میں انسان محفوظ نہیں تو جانوروں کی بات کیوں کی جائے، ججوں پر بات کی جاتی ہے قانون تو ایک ہے لیکن ججمنٹ کیوں مختلف ہوتی ہے، قانون ایک ہوتا ہے لیکن کیس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔
عدالت عظمٰی کے جج کا کہنا تھا کہ جانوروں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ان کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔
فاضل جج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں بہترین اسلامی اسکولز موجود ہیں، ہمیں اسکول کے دور میں حقیقت سے برعکس پڑھایا جاتا رہا، شیر کے رہن سہن کے بارے میں جو پڑھایا گیا وہ حقیقی زندگی سے بالکل برعکس تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے بنی گالہ کی خوبصورتی کو داغدار کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ٹاؤن پلانر نے اسے جانوروں کے قیام کی بہترین جگہ قرار دیا تھا، مگر اشرافیہ نے وہاں رہائش گاہیں قائم کرکے قدرتی خوبصورتی کو نقصان پہنچایا۔


مشہور خبریں۔
رفح میں حماس کے کمانڈر کو نشانہ بنانے کی صہیونی کوشش ناکام
?️ 4 دسمبر 2025سچ خبریں: صہیونیستی قبضہ کار ریجیم کے فوجی ریڈیو نے اطلاع دی
دسمبر
وزیراعظم کا جلد قوم سے خطاب کا امکان
?️ 26 فروری 2022اسلام آباد(سچ خبریں) وزیراعظم عمران خان کا جلد قوم سے خطاب کا
فروری
اسرائیل اور امریکہ کی شرکت سے غزہ کے بھوکے مہاجرین پر وحشیانہ قتل عام
?️ 2 جون 2025سچ خبریں: غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں واقع امریکہ
جون
سپریم کورٹ نے صرف ایک ہفتے کے دوران 257 کیسز نمٹا دیے
?️ 1 اکتوبر 2023سچی خبریں:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے 57 ہزار کیسز کے بیک لاگ
اکتوبر
رانا ثناء اللہ کی خود سمیت چھ سات وزراء کے مستعفی ہونے کی تجویز
?️ 21 جنوری 2023لاہور: (سچ خبریں) وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ
جنوری
مزاحمتی تحریک کے سربراہان کو شہید کر کے بھی صیہونی کیوں ہار جاتے ہیں؟
?️ 29 ستمبر 2024سچ خبریں: ان دنوں صیہونی حکومت، مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ
ستمبر
پاکستان کسی دہشت گرد گروہ سے مذاکرات نہیں کرے گا، ترجمان دفتر خارجہ
?️ 14 نومبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے
نومبر
اسحٰق ڈار اگلے ہفتے واشنگٹن میں آئی ایم ایف، عالمی بینک کے اجلاس میں شرکت کریں گے
?️ 4 اپریل 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) وفاقی وزیرخزانہ اسحٰق ڈار اگلے ہفتے واشنگٹن میں عالمی
اپریل