فوجی کمان کی تبدیلی سے قبل ملاقاتوں کا سلسلہ جاری، اہم فیصلے متوقع

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ نزدیک آتے ہی نئے آرمی چیف کے انتخاب کے حوالے سے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز ایسے ممکنہ آپشنز پر غور کرنے کے لیے سرگرم نظر آرہے ہیں جو ان کے خیال میں ان کے مفادات کا تحفظ کریں گے۔

سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ راولپنڈی، لندن اور لاہور میں اس حوالے سے مشاورت بھرپور انداز میں جاری ہے اور آئندہ چند روز انتہائی اہم ہیں۔ ان میں سب سے اہم ملاقات راولپنڈی میں ہوئی جہاں فوج کے کور کمانڈرز نے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ملاقات کی، اجلاس کی صدارت جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی۔

جی ایچ کیو میں اس سیشن کا انعقاد ہر ماہ ہوتا ہے جہاں اعلیٰ افسران اندرونی اور بیرونی سلامتی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

پاک فوج کی کمان میں آنے والی تبدیلی، ادارے کے اندر اور باہر اس سے متعلقہ بحثیں اور ملک میں کشیدہ سیاسی ماحول پر گفتگو نے اس اجلاس کو انتہائی اہم بنا دیا۔

اس حوالے سے آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا اور شدید قیاس آرائیوں کے باوجود اس معاملے پر خاموشی اختیار کرلی گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے کور کمانڈرز کانفرنس کے حوالے سے کوئی پریس ریلیز جاری نہ کرنا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے، آنے والے روز میں پیش آنے والے واقعات ہی یہ واضح کر سکتے ہیں کہ اس کانفرنس میں کیا فیصلے کیے گئے۔

گزشتہ روز جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورۂ پشاور کو ان کی جانب سے فارمیشنز کے الوداعی دوروں کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جہاں انہوں نے چند گھنٹے قیام کیا اور پشاور کور کے افسران اور جوانوں سے خطاب کیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو عہدہ چھوڑنے کے فیصلے پر قائم ہیں۔

کچھ ریٹائرڈ افسران کے مطابق گزشتہ روز ہونے والی کانفرنس میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے بعد نئے آرمی چیف کے انتخاب کے لیے ادارہ جاتی عمل پر غور کے علاوہ کور کمانڈروں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے کچھ افسران پر بے جا تنقید پر تبادلہ خیال کیا۔

کہا جارہا ہے کہ کمانڈ میں تبدیلی سے قبل فوج پی ٹی آئی کے ساتھ کشیدگی میں کمی چاہتی ہے تاکہ نئے سربراہ ایسے وقت میں عہدہ سنبھالیں جب بیشتر معاملات طے پائے جا چکے ہوں۔

لہٰذا دونوں جانب سے دباؤ ہے کہ آئندہ انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے پا جائے تاکہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ ختم ہو اور سیاسی جماعتیں دیگر اہم مسائل پر توجہ دینے کے قابل ہو سکیں۔

صدر عارف علوی کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ وہ سیاسی تعطل کے خاتمے کی اس کوشش میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، انہوں نے حال ہی میں عسکری قیادت سے ملاقات کی اور ان کا پیغام انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان تک بھی پہنچایا۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف شرم الشیخ سے روانہ ہوئے تو انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ وہ پاکستان روانہ ہو رہے ہیں لیکن پھر انہوں نے اپنا منصوبہ تبدیل کرلیا اور اپنے بڑے بھائی نواز شریف سے ملنے کے لیے کمرشل فلائٹ لے کر لندن روانہ ہوگئے۔ وہ صرف اپنے ذاتی عملے کو اپنے ہمراہ لندن لے کر گئے ہیں جبکہ ان کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر وزرا و مشیر پاکستان روانہ ہوگئے۔

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ ’وزیر اعظم کے دورہ لندن سے کچھ ایسے معاملات طے کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو کچھ عرصے سے زیر التوا ہیں اور اس حوالے سے نواز شریف اور خاندان کے دیگر افراد سے بالمشافہ ملاقات ضروری تھی‘۔

ذرائع کے مطابق ان معاملات میں نئے آرمی چیف کی تعیناتی، آئندہ انتخابات سے جڑے معاملات، پی ٹی آئی سے نمٹنے کی حکمت عملی اور کھوئی ہوئی سیاسی حمایت دوبارہ حاصل کرنا شامل ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ نواز شریف جھکنے کو تیار نہیں ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کی حتمی تاریخ نہ ہونے کی صورت میں عمران خان کی فوج کے ساتھ مسلسل محاذ آرائی پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کا سبب بنے گی۔ تاہم سیاسی ذرائع کے مطابق شریف برادران اس حوالے سے آئندہ 2 روز میں اپنے اتحادیوں سے مشاورت کریں گے۔

دریں اثنا چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے لاہور میں اپنے اعلیٰ معتمدوں سے ملاقات کی اور فوج کے ساتھ بیک چینل روابط پر بات چیت کی۔

پی ٹی آئی ذرائع نے بتایا کہ عمران خان اس بات پر بضد ہیں کہ وہ کسی بھی چیز پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے اور گیند اب حکومت کے کورٹ میں ہے۔

مشہور خبریں۔

کسی کو افغانستان کی سلامتی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے: طالبان

?️ 16 مارچ 2022سچ خبریں:طالبان کے نائب ترجمان نے موسم بہار میں دوبارہ جنگ شروع

وینزویلا نے فلسطین کے لیے کیا کیا ہے؟

?️ 18 اگست 2023سچ خبریں: وینزویلا نے اعلان کیا کہ اس نے فلسطین میں اپنی

امریکی صدر کا ہولوکاسٹ گف

?️ 14 جولائی 2022سچ خبریں:  کل بدھ کو مقبوضہ فلسطین کا دورہ کرنے والے ریاستہائے

غزہ میں عارضی جنگ بندی کے لیے اسرائیلی حکومت کی تجویز کی تفصیلات

?️ 17 اپریل 2025سچ خبریں: اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں عارضی جنگ بندی

اوباما کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ "ٹرمپ کے دعوے مضحکہ خیز اور خلفشار ہیں”

?️ 23 جولائی 2025سچ خبریں: سابق امریکی صدر کے دفتر نے ملک کے موجودہ صدر

حزب اللہ کیسے صیہونیوں کو چنے چبوا رہی ہے؟

?️ 12 اکتوبر 2024سچ خبریں: حزب اللہ نے چند گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوجی مقامات

ٹرمپ ذاتی طور پر اسرائیل کو بچانے اور قطر کو پرسکون کرنے کے لیے کام کریں گے!

?️ 13 ستمبر 2025سچ خبریں: ایک عبرانی میڈیا آؤٹ لیٹ نے رپورٹ کیا کہ امریکی

توشہ خان ریفرنس میں نااہلی: عمران خان کو پارٹی سربراہی سے ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

?️ 3 نومبر 2022لاہور:(سچ خبریں) لاہور ہائی کورٹ نے توشہ خان ریفرنس میں نااہلی کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے