فنڈز کی درخواست مسترد ہونے کے بعد 6 ہسپتالوں کی ’بندش‘ کا خدشہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) فنانس ڈویژن کی جانب سے وفاقی وزارت صحت کی 11 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ فراہم کرنے کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے پانچوں اور لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں ممکنہ طور پر سہولیات معطل ہو سکتی ہیں۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق متعدد ملازمین کی تنخواہیں پہلے ہی روک دی گئی ہیں اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نرسیں ایک ہفتے سے احتجاج کر رہی ہیں۔

ان ہسپتالوں کی لیبارٹریز بھی جلد ہی مکمل طور پر کام کرنا بند کر دیں گی، کیونکہ ٹیسٹنگ کٹس ختم ہو رہی ہیں، اسی طرح فلمز دستیاب نہ ہونے کے سبب ریڈیولوجی ٹیسٹ بھی نہیں کیے جا رہے، جبکہ کمپنیوں کو ٹینڈر کی رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے مریضوں کو ادویات بھی فراہم نہیں کی جارہیں۔

اس فیصلے کے سبب متاثر ہونے والوں میں وفاقی دارالحکومت کے پانچ ہسپتالوں میں پمز، پولی کلینک، فیڈرل جنرل ہسپتال، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ری ہیبلیٹیشن میڈیسن (این آئی آر ایم)، ڈسپنسریاں، بنیادی صحت کے یونٹس، وزارت صحت کے ذیلی محکمے اور ادارے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ شیخ زید ہسپتال لاہور بھی متاثر ہو گا کیونکہ یہ وفاقی وزارت صحت کی فنڈنگ ​​سے چل رہا ہے۔

دوسری جانب، فنانس ڈویژن نے تحریری طور پر وزارت صحت کو مطلع کیا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی پیشگی شرائط کے مطابق فنڈز کا اجرا صرف ڈیزاسٹر کی صورت میں ہی کیا جاسکتا ہے۔

گزشتہ مہینے وزارت صحت نے وزارت خزانہ سے درخواست کی تھی کہ 11 ارب 9 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ضمنی گرانٹ جاری کی جائے تاکہ ہسپتال، وزارت کے ماتحت متعلقہ ادارے فعال انداز میں کام جاری رکھ سکیں۔

اس پیش رفت سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ فنانس ڈویژن کی جانب سے فنڈز نہ دینے کے سبب وفاقی وزارت کے ماتحت ہسپتالوں میں صورتحال خراب ہوسکتی ہے، حتیٰ کہ مریضوں کو ایک روپے کی ادویات بھی نہیں مل سکیں گے۔

ہسپتال ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ادویات کی شدید قلت ہوتی دیکھ رہے ہیں کیونکہ ہمارے پاس زیر التوا اسٹاک حاصل کرنے اور ٹینڈرز کی رقم ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں، اسی طرح لیبارٹریز میں ٹیسٹنگ کٹس کی بھی شدید کمی ہے جبکہ ایکسرے فلمز اور دیگر ریڈیولوجی ٹیسٹ کی سپلائی بھی محدود ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے کیونکہ متعدد ڈاکٹرز، نرسوں اور ہسپتال کے دیگر عملے کو یا تو تنخواہیں نہیں مل رہیں یا پھر اگلے ماہ سے انہیں ادائیگی روک دی جائے گی، جس کی وجہ فنڈز نہ ہونا ہے۔

مزید کہا کہ آنے والے مہینوں میں ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، ادویات، ٹیسٹ کی سہولیات اور حتی کہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں بھی کام روکا جاسکتا ہے، اگر اس صورتحال کو ڈیزاسٹر نہ کہا جائے تو پھر اسے کیا کہنا چاہیے؟

ڈان نے وزارت قومی صحت سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کسی حکام سے بھی رابطہ نہیں ہوسکا۔

مشہور خبریں۔

حکومت نے گندم کی قیمتوں پر قیاس آرائی کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا

?️ 12 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) حکومت نے گندم کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے

صہیونی ایرانی میزائلوں سے خوفزدہ: ہمارے پاس بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے

?️ 16 جون 2025سچ خبریں: عبرانی میڈیا نے ایرانی حملوں سے صہیونی برادری کے خوف

چین میں گرمیوں کی تعطیلات کے دوران 11.9 ارب داخلی سفر کا ریکارڈ

?️ 3 ستمبر 2025سچ خبریں: چین کے گرمائی تعطیلات کے دوران ملک بھر میں کل

یمن میں بعض قیدیوں کی رہائی کے لیے ابتدائی معاہدہ طے

?️ 2 اگست 2022سچ خبریں:   یمن کی نیشنل سالویشن گورنمنٹ میں قیدیوں کے امور کی

پاک، افغان فلیگ میٹنگ کے بعد چمن بارڈر دوبارہ کھول دیا گیا

?️ 28 اپریل 2021بلوچستان( سچ خبریں ) بلوچستان سے افغانستان سے متصل چمن  بارڈر پاکستان

عربوں کو یمن میں ملیشیا کی حمایت کے بجائے فلسطینیوں کی حمایت کرنے کی ضرورت

?️ 20 مئی 2023سچ خبریں:یمن کی سپریم پولیٹیکل کونسل کے ایک سرکردہ رکن محمد علی

کے-الیکٹرک کی بجلی 9 روپے71 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی درخواستیں

?️ 18 نومبر 2022کراچی:(سچ خبریں) کے-الیکٹرک نے ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کی

ملک بھر میں کورونا سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ

?️ 17 اگست 2021اسلام آباد(سچ خبریں) کورونا سے متعلق سرکاری ویب سائٹ کے مطابق پچھلے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے