عمران خان کی فوجی تنصیبات پر حملے کی مذمت، تحقیقات کا مطالبہ

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے فوجی تنصیبات پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ پی ڈی ایم فوج کو اپوزیشن پارٹی کے خلاف کھڑا کرکے پی ٹی آئی کو مرکزی دھارے کی سیاست سے ختم کرنا چاہتی ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی پارٹی کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ’کوئی تنازع‘ نہیں ہے۔ ملک گیر فسادات کو ہوا دینے والی گرفتاری کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ ان کی کسی کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی کیونکہ انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ ’بات چیت صرف انتخابات کے معاملے پر ہوگی، اور کچھ نہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’میرا دوسرے فریق (اسٹیبلشمنٹ) سے کوئی تنازع نہیں ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے کیوں ناراض ہیں‘۔

انہوں نے اپنے الزامات کو دہرایا کہ پی ڈی ایم، فوج کی مدد سے پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے اور کہا کہ یہ اقدام ملک کے لیے خطرناک ہے کیونکہ اس سے وہی حالات پیدا ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں 1971 میں پاکستان ٹوٹ گیا تھا، اگر کوئی فوج کے خلاف لڑے گا تو اس سے ملک کو شکست ہوگی۔

سابق وزیر اعظم نے اپنی پارٹی کے اندر انحطاط کے بارے میں بھی بات کی اور کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ’دباؤ کے تحت‘ پی ٹی آئی کو چھوڑنے والے رہنماؤں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ آیا وہ ان لیڈروں کو پارٹی میں واپس قبول کریں گے۔

تاہم پی ٹی آئی چیئرمین نے ثابت قدم رہنے والے پارٹی رہنماؤں کی تعریف کی اور کہا کہ ’قوم انہیں دباؤ کے ہتھکنڈوں کے سامنے نہ جھکنے پر یاد رکھے گی‘۔

انہوں نے اعلان کیا کہ جس پر 2 حملے ہوچکے ہوں اور وہ پھر اپنی تحریک سے پیچھے نہ ہٹا ہو تو سمجھ جائیں کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے۔

لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس سمیت فوج کی تنصیبات پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے عمران خان نے 9 مئی کو ہونے والے فسادات کی ایک آزاد کمیشن سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں پیش گوئی کر سکتا ہوں کہ کسی بھی منصفانہ تحقیقات سے پتا چل جائے گا کہ حملے ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ تھے‘ اور دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی اپنے دعوؤں کی تصدیق کے لیے کمیشن کو ثبوت فراہم کرے گی۔

انہوں نے فسادیوں کو روکنے میں پولیس اور سپاہیوں کی ناکامی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو سی سی ٹی وی فوٹیجز فراہم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی وسطی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد اور میری بہنیں لوگوں سے کہہ رہی تھیں کہ وہ اندر نہ جائیں اور عمارت کے باہر پرامن احتجاج کریں۔‘

اپنی رہائش گاہ پر مبینہ دہشت گردوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ اگر ان کے گھر کے اندر ’دہشت گرد‘ ہوتے تو حکومت ان کے نام فراہم کرتی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’نگراں حکومت کی جانب سے ان کی شناخت ظاہر نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ 30 سے 40 لوگوں کو اپنے ساتھ لانے اور پھر مجھ پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگانے کا منصوبہ بنا رہے تھے، بالکل اسی طرح جیسے پچھلی بار جب وہ میرے گھر میں گھس آئے تو کلاشنکوف برآمد کیے اور پیٹرول بم پھینکے‘۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ایک آزاد کمیشن کو اس بات کی بھی تحقیقات کرنی چاہیے کہ 25 غیر مسلح مظاہرین کو کس نے گولی مار کر ہلاک کیا اور سیکڑوں کو زخمی کیا۔

مشہور خبریں۔

قبرس پر ترکی اور بین الاقوامی نظام کے درمیان نامکمل تنازعہ

?️ 2 فروری 2025سچ خبریں: ترک خارجہ پالیسی اپریٹس نے ایک بار پھر قبرس پر

محمد بن سلمان نے سعودی عرب کو تباہ کر دیا : دی اکانومسٹ

?️ 10 نومبر 2021سچ خبریں :انٹرنیشنل اکانومسٹ میگزین نے لکھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن

نائجیریا کی فوج کا داعش کمانڈر کی ہلاکت کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ مسترد

?️ 17 مئی 2026سچ خبریں:نائجیریا کی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ داعش کے

ایران کی جنگ امریکہ کا نیا ویتنام ثابت ہوئی، عالمی طاقت کے زوال کی علامت:برطانوی اخبار

?️ 2 جون 2026سچ خبریں:برطانوی اخبار گارڈین نے اپنے تجزیے میں ایران کے خلاف امریکی

یمنیٰ زیدی کا دھیان میک اَپ پر نہیں منظر پر ہوتا ہے، ہمایوں سعید

?️ 16 مئی 2024کراچی: (سچ خبریں) سینئر اداکار ہمایوں سعید نے ساتھی اداکارہ یمنیٰ زیدی

امریکہ اور اسرائیل اپنی پوری طاقت سے ایران کو شکست نہیں دے سکے:امریکی پروفیسر

?️ 25 مئی 2026سچ خبریں:بین الاقوامی تعلقات کے معروف نظریہ ساز جان مرشائیمر نے کہا

الجزائر نے مراکش کے ساتھ مفاہمت پر مبنی عرب لیگ کے منصوبے کو مسترد کردیا

?️ 11 ستمبر 2021سچ خبریں:الجزائر پچھلے مہینے مراکش کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے

صیہونی کابینہ میں اختلاف کی اہم وجوہات

?️ 6 جنوری 2024سچ خبریں: 7 اکتوبر کے آپریشن میں تل ابیب کی ناکامی کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے