?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پنجاب پولیس نے جیو فینسنگ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں نے مبینہ طور پر لاہور کور کمانڈر کی رہائش گاہ اور دیگر عمارتوں پر دھاوا بولنے کی کوشش میں تعاون کیا۔
پولیس کو پی ٹی آئی کے چیئرمین اور دیگر سینئر رہنماؤں کی جانب سے مبینہ طور پر پارٹی کارکنوں کو لاہور کینٹ میں فوجی افسر کی رہائش گاہ اور دیگر حساس سرکاری عمارتوں کی طرف جانے پر اکسانے کے لیے کی گئی 400 سے زائد کالز کا پتا چلا ہے۔
دیکھا گیا کہ تمام فسادی زمان پارک میں مقیم پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت سے رابطے میں تھے۔
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ڈان کے رابطہ کرنے پر جیو فینسنگ ریکارڈ اور کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر حملے کی منصوبہ بندی کے لیے عمران خان کی رہائش گاہ کے مبینہ استعمال کی تصدیق کی۔
ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر ڈان کو بتایا کہ جیو فینسنگ ریکارڈ کے تجزیے سے کئی اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، یہ پتا چلا ہے کہ عمران خان کی جانب سے مبینہ طور پر پارٹی رہنماؤں اور فسادیوں کو 154 کالز کی گئیں تاکہ انہیں حملے پر اکسایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین وہ ’مرکزی ملزم‘ تھے جنہوں نے مبینہ طور پر کور کمانڈر کے گھر پر حملے کی منصوبہ بندی کی۔
افسر نے کہا کہ کال ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ تمام فون کالز 8 مئی اور 9 مئی کو، عمران خان کی گرفتاری کے دن، عمارت پر حملہ کرنے کے لیے کارکنوں کو تیار کرنے کے لیے کی گئی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر 225 کال کرنے والے پی ٹی آئی کے 6 رہنماؤں حماد اظہر، یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چودھری، اسلم اقبال، اور مراد راس سے رابطے میں تھے۔
پولیس افسر نے دعویٰ کیا کہ یہ افراد ’اشتعال انگیزی کرنے والوں کو خصوصی ہدایات‘ جاری کر رہے تھے، انہوں نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کو پارٹی کے مختلف کارکنوں کی جانب سے 41 کالز موصول ہوئیں۔
اسی طرح حماد اظہر نے ملزمان کو 10 کالز کیں جبکہ محمود الرشید کو مبینہ حملہ آوروں کی 75 کالیں آئیں۔
ریکارڈ کے مطابق اعجاز چوہدری کو 50، اسلم اقبال کو 16 اور مراد راس کو 23 کالز موصول ہوئیں۔
خیال رہے کہ 9 مئی کو القادر ٹرسٹ کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنان احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے نہ صرف پر تشدد رویہ اختیار کیا بلکہ سرکاری و نجی املاک کو نقصان بھی پہنچایا۔
مظاہرین نے پنجاب میں کورکمانڈر ہاؤس لاہور کی رہائش گاہ اور عسکری ٹاور میں گھس کر توڑ پھوڑ کی او اسے آگ بھی لگادی، اس کے علاوہ میانوالی کے فوجی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا اور شہدا کی یادگاروں کو بھی اکھاڑ پھینکا۔
اس کے علاوہ پشاور میں احتجاجی مظاہرین نے تاریخی ریڈیو پاکستان کی عمارت کو نذرِ آتش کردیا، کراچی میں 2 بسوں، رینجرز کی چوکی اور ایک واٹر ٹینکر سمیت متعدد موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگائی گئی۔
اس تمام ہنگاموں کے بعد اب ان پر تشدد احتجاج میں حصہ لینے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے اور فوجی قیادت اعلان کرچکی ہے کہ عسکری تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ملٹری ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔


مشہور خبریں۔
کابینہ نے پائلٹس سے متعلق سابق وزیر کے بیان پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی
?️ 31 جنوری 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی کابینہ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی
جنوری
ہمیں معاشی بحران کا سامنا ہے:امریکی صدر
?️ 1 فروری 2021سچ خبریں:امریکی صدر نے ایک پیغام جاری کیا جس میں انھوں نے
فروری
شہباز شریف کا سی پیک منصوبے مقررہ وقت پت ختم کرنے کا عزم
?️ 15 جون 2022اسلام آباد(سچ خبریں)وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم چین
جون
جنوب لبنان پر اسرائیلی فضائی اور توپ خانے کے حملوں کا سلسلہ جاری
?️ 29 اگست 2026سچ خبریں: صہیونی حکومت کی توپ خانے نے جنوبی لبنان کے علاقے
اگست
حزب اللہ کے ہاتھوں آئرن ڈوم کا حشر
?️ 25 جنوری 2024سچ خبریں: جمعرات کے روز حزب اللہ نے کفر بلوم قصبے کے
جنوری
امریکہ ایک بار پھر دنیا میں تنہا
?️ 22 فروری 2024سچ خبریں:امریکہ نے منگل کو ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی
فروری
کیا بھارت کو سی پیک پر اعتراض کرنے کا حق ہے؟
?️ 20 جون 2024سچ خبریں: دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے خبردار کیا
جون
بحر اوقیانوس: ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان خلیج واضح ہو رہی ہے
?️ 25 مئی 2025سچ خبریں: دی اٹلانٹک میگزین نے رپورٹ کیا ہے کہ صیہونی حکومت
مئی