صوبائی بیوروکریٹس کی ایسوسی ایشن نے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا عندیہ دے دیا۔

کابینہ

?️

اسلام آباد(سچ خبریں) آل پاکستان صوبائی سول سروسز ایسوسی ایشن (اے پی پی سی ایس اے)  شدید عمل کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی عہدوں پر وفاقی بیوروکریٹس کی تعداد میں تین گنا اضافے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا عندیہ دے دیا۔

آل پاکستان صوبائی سول سروسز ایسوسی ایشن (اے پی پی سی ایس اے) کے شدید ردعمل پر اسٹیبلشمنٹ سے متعلق وزیر اعظم کے خصوصی سیکریٹری شہزاد ارباب کو صوبائی اور وفاقی بیوروکریسی کے مابین کشیدگی کم کرنے کے لیے بیان جاری کرنے پر مجبور کردیا۔

12 مارچ کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سول سروس آف پاکستان (تشکیل اور کیڈر) رولز 1954 کے رول 17 میں ترمیم کی اور صوبائی بیوروکریسی کی تشکیل کو تبدیل کردیا۔ترمیم کے مطابق صوبائی عہدوں پر وفاقی بیوروکریٹس کی تعداد 299 سے بڑھ ایک ہزار 121 کردی گئی۔

پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کے کیڈر کے شیڈول میں ہونے والی تبدیلیوں کی وضاحت کرتے ہوئے شہزاد ارباب نے بتایا کہ دستیاب افسران کی طاقت کو مستحکم کرنے کی کوشش ہے۔

اے پی پی سی ایس اے کے ترجمان طارق محمود اعوان نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے نام نہاد اصلاحات کو مسترد کردیا ہے اور وفاقی حکومت کے اقدام کو صوبائی بیوروکریسی کے حق پر تجاوزات قرار دیا ہے۔

حافظ آباد کے ڈپٹی کمشنر اور پنجاب مینجمنٹ سروس افسر ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر نوید شہزاد مرزا نے کہا کہ یہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 240 کی خلاف ورزی ہے جو بیوروکریسی سے متعلق ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم کے خصوصی سیکریٹری شہزاد ارباب نے صوبائی بیوروکریٹس کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی پیش کش کو لولی پاپ قرار دیا۔

انہوں نے زور دیا کہ تبدیلی ہونے کے بعد صوبائی افسر وفاقی بیوروکریسی کی سنیارٹی لسٹ میں سب سے نیچے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ان انتظامات کے تحت پنجاب سے ایک افسر بلوچستان میں تعینات کیا جاسکتا ہے۔

مینجمنٹ سروسز افسر ایسوسی ایشن آف پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے صدور بالترتیب نوید شہزاد مرزا، فرحت اللہ مروت اور طارق رمضان نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹی فکیشن کی مشترکہ اعلامیہ میں مذمت کی۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان انتظامی خدمات (پی اے ایس/ ایکس سی ایس پی) نے اپنے لیے ایک بہت بڑی تعداد میں صوبائی عہدوں کا انتخاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے سے حکومت نے آئین کے آرٹیکل 240 (بی) کے تحت صوبائی اسمبلیوں کے اختیار کردہ صوبائی اسمبلیوں کے اختیارات پر قبضہ کرلیا ہے اور اپنے لیے غیر قانونی طور پر صوبائی عہدوں کے تحفظ کو 299 سے بڑھا کر ایک ہزار 121 کردیا۔

شہزاد ارباب کے مطابق 1993 میں فیڈریشن اور صوبوں کے مابین فارمولہ طے کیا تھا اور صوبے کے سارے کیڈر پر فیصد کا لاگو کیا گیا۔

مشہور خبریں۔

عطوان کا جائزہ: وہ عوامل جو سویڈا میں جنگ بندی کی ناکامی کا باعث بنیں گے

?️ 21 جولائی 2025سچ خبریں: عربی زبان کے ایک ممتاز مصنف نے امریکی صہیونی سازشوں

غزہ جنگ میں طاقت کا کارڈ مزاحمت کے ہاتھ میں

?️ 20 دسمبر 2023سچ خبریں:ممتاز فلسطینی تجزیہ نگار اور علاقائی اخبار ریالیوم کے ایڈیٹر عبدالباری

سینیٹر عرفان صدیقی کی خالی سینیٹ نشست پر ضمنی انتخاب کا اعلان

?️ 2 دسمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال کے باعث خالی

شام | غیر قانونی امریکی اڈوں پر دہشت اور غیر معمولی حالات کا ماحول ہے

?️ 14 دسمبر 2025سچ خبریں: شامی ذرائع نے پالمائرا پر حملے کے بعد شام کی

’نئی پیپلز پارٹی بننے جارہی ہے جس کی قیادت بھٹو سے زرداری خاندان میں منتقل ہوجائے گی‘

?️ 28 جنوری 2025لاہور: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے پابند سلاسل نائب چیئرمین شاہ

کرسٹی نوم امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزیر مقرر

?️ 26 جنوری 2025سچ خبریں: امریکی سینیٹ نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری کے لیے

عراق میں امریکی فوج کی تعداد اور مشن؛عراقی پارلیمنٹ رکن کی زبانی

?️ 12 ستمبر 2023سچ خبریں: عراقی سرزمین میں امریکی فوجیوں کی زیادہ تعداد کو مشکوک

برازیلی صدر صیہونی بربریت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

?️ 14 نومبر 2023سچ خبریں: برازیل کے صدر نے غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے