صرف امریکہ ہی اسرائیل کو سمجھا سکتا ہے:وزیر خارجہ

کشمیر میں انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا

?️

اسلام آباد (سچ خبریں) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی کے فورم کو موثر طور پر استعمال کیا جائے انہوں نے اسرائیل کی جارحیت اور ظالمانہ کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہمیں امریکہ کی خاموشی پر تعجب ہورہا ہے اور اس وقت صرف امریکہ ہی اسرائیل کو روک سکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جمعرات کو جنرل اسمبلی میں فلسطین کی آواز بلند کریں گے جبکہ آج ہم پیرس جائیں گے ترکی اور فلسطین کے وزیر خارجہ ساتھ ہوں گے۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب نے جو کردار ادا کیا ہے وہ قابل ذکر اور قابل تعریف ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ مصر کے وزیر خارجہ نے بھی سیز فائر کی کوشش کی ہے کیونکہ فلسطین کو امداد پہنچانے کا واحد راستہ مصر کا ہوگا۔

اُنہوں نے کہا کہ فلسطینی وزیر خارجہ ترکی آرہے ہیں اور وہ ہمارے ہمراہ ہوں گے، فلسطینی وزیر خارجہ سے بات کرکے لائحہ عمل طے کرنے میں آسانی ہوگی جبکہ فلسطینی وزیر خارجہ کی ترکی آمد میں دقتیں تھیں جو دور ہوگئی ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر سلامتی کونسل اجلاس ہورہا ہے، فلسطینی وزیر خارجہ اجلاس میں نہیں ہوں گے تو اجلاس بے وقعت ہوجائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ ہمارے تمام منتخب اراکین عمران خان کے ڈسپلن کے پابند ہیں، اعتماد کے ووٹ اور فنانس بل پرکوئی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ حکومتی موقف کے ساتھ نہ چلنے والوں کی رکنیت متاثر ہوسکتی ہے، یقین ہے وہ ایسا نہیں کریں گے۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اراکین کو دعوت دی اور ان کی گفتگو سنی اور یقین دلایا کہ ناانصافی نہیں ہوگی، ان کی خواہش تھی کہ تحقیقات کیلئے ان کی پسندیدہ شخصیت کو نامزد کیا جائے۔

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نے ان کے کہنے پر علی ظفر کو ذمہ داریاں سونپیں، علی ظفر نے ابھی اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرنا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان آپ کے لیڈر ہیں تو ان پر اعتماد کریں لیکن اگرآپ عمران خان پر اعتماد نہیں کرتے تو آپ کے پاس تحریک انصاف میں رہنے کی گنجائش نہیں رہتی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی عمران خان ہے، عمران خان بانی چیئرمین ہیں، عمران خان نہ ہوتے، ان کے ووٹرز نہ ہوتے تو یہ لوگ بھی اسمبلی میں نہیں ہوتے۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو لیڈر مانتے ہیں تو لیڈر کے فیصلوں پر آمادگی ظاہر کرنا ہوتی ہے۔

مشہور خبریں۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل سوڈان کو تقسیم کیوں کرنا چاہتے ہیں

?️ 3 نومبر 2025سچ خبریں: سوڈان، جو کہ ایک امیر تاریخ اور متنوع ثقافت کا حامل

تیونس کے2022 کے آئین کی کوئی قانونی حیثیت نہیں:النہضہ تیونس

?️ 21 اگست 2022سچ خبریں:تیونس کی النہضہ تحریک نے اعلان کیا کہ اس ملک کے

اسرائیل کے ساتھ گیس فیلڈز میں کبھی بھی شراکت داری نہیں کریں گے:لبنانی صدر

?️ 5 اکتوبر 2022سچ خبریں:لبنانی صدر نے صیہونی حکومت کے ساتھ سمندری سرحدیں کھینچنے کے

صرف ایک گھنٹہ لگا

?️ 31 اکتوبر 2023سچ خبریں:مزاحمت نے ایک بار پھر اپنی منطق دکھانے کے لیے امریکی

قومی اسمبلی کی کارروائیاں قانون کی عدالت میں چیلنج نہیں کی جاسکتیں:حکومت

?️ 13 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر محسن

غزہ کے نظام کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے کم از کم 10 بلین ڈالر کی ضرورت

?️ 18 جنوری 2025سچ خبریں: اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے،

صیہونیوں کو مغربی کنارے سے بچانے کا کام مراکش کے سپرد

?️ 18 ستمبر 2022سچ خبریں:فلسطینی مسائل کے مراکشی تجزیہ کار نے اس ملک کی مسلح

صیہونیوں سے دوستی میں بہت فائدہ ہے:سعودی عرب

?️ 26 مئی 2022سچ خبریں:سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ صیہونی حکومت کے ساتھ عرب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے