صدر مملکت نے 11واں قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دے دیا

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11ویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) تشکیل دے دیا، تاکہ قابل تقسیم وسائل کی مرکز اور صوبوں کے درمیان تقسیم کے لیے نئے ایوارڈ کا اعلان کیا جا سکے، جس کا چیئرمین وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو مقرر کیا گیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق وزارت خزانہ میں قائم این ایف سی سیکریٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 160 (1) کے تحت 11واں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تشکیل کر دی۔

نوٹیفکشن کے مطابق گیارہواں قومی مالیاتی کمیشن 9 ارکان پر مشتمل ہے، وفاقی وزیر خزانہ اس کے چیئرمین جبکہ چاروں صوبوں کے وزرائے خزانہ کمیشن کے ارکان میں شامل ہوں گے۔

اسی طرح پنجاب حکومت کے نمائندے سابق بیوروکریٹ ناصر محمود کھوسہ، سندھ سے ماہر معاشیات ڈاکٹر اسد سید، خیبر پختونخوا سے ڈاکٹر مشرف رسول اور بلوچستان سے فرمان اللہ کو کمیشن کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔

جاری نوٹیفکشن کے تحت وفاقی وزارت خزانہ کمیشن کے لیے سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی۔

قومی مالیاتی کمیشن وسائل کی تقسیم سے متعلق اپنی سفارشات، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی تقسیم پر تجاویز دے گا۔

کمیشن صوبوں اور وفاق کے درمیان اخراجات کا جائزہ اور قومی نوعیت کے بڑے منصوبوں سے متعلق اپنی تجاویز پیش کرے گا، وفاقی وزارت خزانہ قومی مالیاتی کمیشن کے لیے سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی۔

واضح رہے کہ آئین کے مطابق ہر 5 سال بعد این ایف سی تشکیل دیا جاتا ہے جس میں وفاق اور صوبوں کے وزرا قانونی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ کمیشن میں ہر صوبے سے ایک غیر حکومتی رکن کی شمولیت بھی لازمی ہے۔

این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق کی مجموعی آمدنی میں سے طے شدہ فارمولے کے تحت صوبوں کو ان کا حصہ دیا جاتا ہے۔

دسویں این ایف سی ایوارڈ کی معیاد 21 جولائی کو مکمل ہو چکی ہے، ساتواں ایوارڈ اب تقریباً 15 سال سے نافذ ہے، جو پانچ سالہ مدت سے زیادہ ہے، صدر نے ہر سال اس ایوارڈ کی مدت میں توسیع کی ہے کیونکہ مرکز اور صوبوں کے درمیان نئے فارمولے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

ڈان اخبار میں 8 جولائی 2025 کو شائع ایک مضمون کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی بارہا اس بات پر زور دیا کہ صوبوں کی مالی ذمہ داریاں بڑھائی جائیں تاکہ این ایف سی کے تحت ملنے والے اضافی حصے کے مطابق وفاقی بجٹ پر بوجھ کم کیا جا سکے۔

ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کا حصہ قابل تقسیم 11-2010 میں 47.5 فیصد سے بڑھا کر 56 فیصد اور 2011 سے 57.5 فیصد کر دیا گیا تھا۔

مشہور خبریں۔

حزب اللہ اسرائیل کے مقابل میں ہر جگہ موجود

?️ 20 جون 2024سچ خبریں: صیہونی ماہرین اور ذرائع ابلاغ مقبوضہ فلسطین کے شمال میں قابض

ایک افغان خاتون پہلی باپردہ خاتون کے طور پر آسٹریلوی پارلیمنٹ میں داخل ہوئیں

?️ 21 جون 2022سچ خبریں:     آسٹریلوی میڈیا نے پیر کو اطلاع دی کہ افغانستان

لیکوڈ پارٹی کیا کرنا چاہتی ہے؟

?️ 19 اگست 2023سچ خبریں:حزب اختلاف کے اتحاد کے سربراہ یائر لاپیڈ کی موجودگی میں

عالمی نوبل امن ایوارڈ کسے ملنا چاہیے تھا؟

?️ 7 اکتوبر 2023سچ خبریں: نوبل امن کمیٹی کے سیاسی اقدام کے جواب میں ایرانی

وزیراعظم عمران خان کی حکمت عملی سے معاملے کو بہتر انداز سے سلجھایا گیا

?️ 3 نومبر 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے

آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر افراد کے یوٹیوب کے اکاؤنٹ بنانے پر بھی پابندی

?️ 2 اگست 2025سچ خبریں: آسٹریلوی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ 16 سال سے

آئینی ترمیم کے حوالے سے فضل الرحمٰن کےساتھ اتفاق رائے ہوگیا ہے، بیرسٹر گوہر

?️ 18 اکتوبر 2024اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے

استنبول تباہ کن زلزلے کے دہانے پر: نیویارک ٹائمز کا سنگین انتباہ

?️ 13 دسمبر 2025سچ خبریں: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے ترکی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے