?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) صدر مملکت عارف علوی آئین کے تحت نئی قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری تک طلب کرنے کے پابند ہیں جب کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے نومنتخب عوامی نمائندوں کے استقبال کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔
8 فروری کے عام انتخابات کے بعد اہم سیاسی جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے جس کا مقصد وزیر اعظم سمیت تقریباً 150 عہدے حاصل کرنا ہے جب کہ سیاسی مبصرین کو خدشہ ہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین کے اس بیان سے کہ پارٹی کسی جماعت کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی ہارس ٹریڈنگ کے راستے کھول سکتا ہے۔
آئین کے سیکشن 91 (2) کے مطابق صدر مملکت کی جانب سے انتخابی نتائج کے باضابطہ اعلان یا اس کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد 21 یوم اندر کے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا ہوگا۔
اس سیکشن میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس عام انتخابات کے انعقاد کے 21 روز بعد لازمی ہو گا جب کہ صدر مملکت اس مدت سے قبل بھی اسے طلب کرسکتے ہیں۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ صدر 21 دنوں کے اندر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند ہیں، بصورت دیگر سیکریٹریٹ خود اجلاس طلب کرنے کا اعلان کر سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ سیکرٹریٹ نے نئی اسمبلی کے پہلے اجلاس کے لیے تمام ضروری انتظامات کر لیے ہیں۔
عہدیدار نے بتایا کہ الیکشنز ایکٹ 2017 (2023 میں ترمیم شدہ) کے سیکشن 98 کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کو 14 روز کے اندر انتخابات کے مجموعی نتائج کا اعلان کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد آزاد اراکین اسمبلی کو کسی پارلیمانی پارٹی میں شامل ہونے کے لیے تین دن کا وقت دیا جائے گا اور چوتھے دن خواتین اراکین کو مخصوص نشستیں الاٹ کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس کے پہلے روز موجودہ اسپیکر نئے اراکین اسمبلی سے حلف لیں گے، دوسرے روز نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوگا جب کہ تیسرے روز وزیر اعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔
معلوم ہوا ہے کہ 150 سے زائد اہم عہدوں کے حصول کے لیے جوڑ توڑ جاری ہے، ان عہدوں میں صدر مملکت کا عہدہ بھی شامل ہے جب کہ صدر عارف علوی اپنی مدت پوری کر چکے ہیں اور آنے والے قومی اسمبلی میں نئے صدر کے منتخب ہونے تک عہدے پر فائز رہیں گے۔
صدارت کے علاوہ دیگر اہم عہدوں میں وزارت عظمیٰ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، قومی اسمبلی کے چاروں گورنرز، وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، وزیراعظم کے مشیر، ان کے معاون خصوصی، درجنوں پارلیمانی سیکرٹریز اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے چیئرپرسن شامل ہیں۔
یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ سینیٹ کے نصف ارکان کی پانچ سالہ مدت بھی آئندہ ماہ ختم ہو جائے گی اور تقریباً 50 خالی نشستوں کے لیے انتخاب ہوگا جس کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوگا۔


مشہور خبریں۔
امریکہ کے خلاف یمن کی کاروائی جاری
?️ 12 جون 2024سچ خبریں: امریکن ولسن سینٹر نے اعلان کیا کہ امریکہ اور اس
جون
اگر قابض لبنان میں رہے تو حزب اللہ چپ نہیں بیٹھے گا ؟
?️ 6 جنوری 2025سچ خبریں: حزب اللہ سے وابستہ لبنانی پارلیمنٹ میں مزاحمتی دھڑے سے
جنوری
شہادت، استقامت اور مزاحمت کی سہ تِہ نے ایران کی تاریخ کو ازسرِنو لکھ دیا
?️ 5 جولائی 2026سچ خبریں: برطانوی میڈیا نے ایران کے شہید رہنما آیت اللہ سید
جولائی
بائیڈن نے جنوری میں 42 ملین ڈالر کے عطیات جمع کئے
?️ 21 فروری 2024سچ خبریں:جو بائیڈن کی مہم اور ڈیموکریٹک پارٹی نے نومبر میں ممکنہ
فروری
لبنانی صدر کے انتخاب کے عمل میں سعودی عرب کی نئی رکاوٹیں
?️ 27 فروری 2023سچ خبریںاگرچہ سعودی عرب دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات خاص طور پر
فروری
روس کو مطمئن کرنے کے لیے امریکہ نے چین سے مدد مانگی
?️ 25 جون 2024سچ خبریں: امریکی معاون وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک چاہتا ہے کہ
جون
ٹرمپ کا امریکہ میں معاشی تبدیلیاں لانے کا دعوی
?️ 10 دسمبر 2025سچ خبریں:امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ
دسمبر
ایک اور سرپرائز ملے گا برابر ملے گا پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی:کامران بنگش
?️ 8 اپریل 2022پشاور(سچ خبریں)عدالت کی طرف سے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری کی
اپریل