?️
لاہور: (سچ خبریں) لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی گرفتاری سے متعلق سٹی پولیس افسر (سی پی او) کا جواب مسترد کرتے ہوئے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) راولپنڈی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
شیخ رشید کی گرفتاری کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے سماعت کی۔
دوران سماعت سی پی او راولپنڈی کی جانب سے شیخ رشید کی گرفتاری سے متعلق جواب عدالت میں جمع کرایا گیا۔
سی پی او نے اپنے جواب میں کہا کہ شیخ رشید ہمارے پاس ہیں، نہ ہی ہم نے انہیں گرفتار کیا ہے، جہاں سے ان کی گرفتاری کا ذکر کیا گیا، وہ جگہ اسلام آباد کے تھانے کے حدود میں آتی ہے۔
عدالت عالیہ نے سی پی او کا جواب مسترد کرتے ہوئے آر پی او راولپنڈی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا، عدالت نے ہدایت کی کہ آر پی او راولپنڈی 26 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو راولپنڈی کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔
شیخ رشید کے وکیل ایڈووکیٹ سردار عبدالرازق خان نے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی سے گفتگو کے دوران گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ شیخ رشید کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع ان کے گھر سے سول کپڑوں میں ملبوس لوگ گرفتار کرکے لے گئے۔
دوسری جانب لال حویلی سیل کرنے کے خلاف درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے جسٹس چوہدری محمد اقبال نے سماعت کی۔
عدالت نے چیئرمین محکمہ اوقاف اور ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر محکمہ اوقاف کو نوٹس جاری کردیا جب کہ جسٹس چوہدری محمد اقبال نے فائل جسٹس جواد حسن کو بھیج دی۔
وکیل سردار شہباز رضا نے بتایا کہ آج عدالت عالیہ نے چیئرمین محکمہ اوقاف اور ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر کو نوٹس جاری کیا ہے، اب کیس کی مزید سماعت جسٹس جواد حسن کریں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز محکمہ متروکہ وقف املاک نے شیخ رشید احمد کی رہائش گاہ لال حویلی کے مرکزی دروازے سمیت 7 یونٹس کو سیل کر دیا تھا۔
اس موقع پر ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر آصف خان نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ لال حویلی کی رجسٹری منسوخ کر دی گئی ہے، شیخ رشید اپیل میں جا سکتے ہیں، ان کے پاس قانونی راستہ موجود ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ سال 16 اکتوبر 2022 کو ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر متروکہ وقف املاک راولپنڈی نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کو 7 روز میں لال حویلی خالی کرنے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نوٹس کی وصولی کے 7 روز کے اندر جائیداد خالی کریں، بصورت دیگر قانون کے تحت بذریعہ پولیس بے دخل کردیا جائے گا۔
بعد ازاں 19 اکتوبر 2022 کو شیخ رشید نے لال حویلی خالی کرنے کا حکم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں چیلنج کیا تھا، انہوں نے وکیل کے ذریعے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس سے متعلق عدالت میں کیس زیر سماعت ہے، لال حویلی سے بے دخلی کا نوٹس اور کارروائی غیر قانونی ہے۔
اس کے بعد 30 جنوری 2023 لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی درخواست پر متروکہ وقف املاک کو ان کی رہائش گاہ لال حویلی ڈی سیل کرتے ہوئے ملحق 7 یونٹس کا معاملہ 15 روز میں نمٹانے کا حکم دے دیا تھا۔
واضح رہے کہ لال حویلی بوہر بازار کے مرکز میں واقع ہے اور شیخ رشید کا سیاسی دفتر یہیں قائم ہے۔
تقسیم ہند سے قبل یہ حویلی ہندو خاتون کے پاس تھی اور 1980 میں جب شیخ رشید نے سیاست میں قدم رکھے تو یہ حویلی سیاسی حب کی حیثیت اختیار کرگئی۔


مشہور خبریں۔
ایران کے ساتھ معاملات اچھے جا رہے ہیں: ٹرمپ کا دعویٰ
?️ 6 جون 2026سچ خبریں: امریکہ کے دہشت گرد صدر ڈونلڈ ترامپ نے ایران کے ساتھ
جون
جاوید ہاشمی کی مولانا فضل الرحمان کو حکومت مخالف تحریک میں حمایت کی یقین دہانی
?️ 3 جون 2024ملتان: (سچ خبریں) سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے مولانا فضل الرحمان کو حکومت مخالف
جون
یمن کے خلاف برطانوی اور امریکی فوجی حملے
?️ 12 جنوری 2024سچ خبریں:یمن میں 10 مقامات پر انگلستان اور امریکہ نے حملہ کیا
جنوری
گلاسز کے بغیر 3 ڈی ڈسپلے کرنے والا لیپ ٹاپ متعارف کروا دیا گیا
?️ 17 اکتوبر 2021تائیوان (سچ خبریں)معروف کمپنی ایسر نے گلاسز کے بغیر تھری ڈی ٹیکنالوجی
اکتوبر
طارق فضل چوہدری نے خیبرپختونخوا میں وزیراعلی تبدیلی کی وجہ بتادی
?️ 21 اکتوبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نےخیبرپختونخوا میں
اکتوبر
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز میں تنازع ہے، میں کیوں دکھاوا کروں کہ تنازع نہیں، جسٹس اعجاز اسحٰق
?️ 16 مئی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحٰق
مئی
عراقی عوام کے ہاتھوں صیہونی پرچم نذر آتش
?️ 17 فروری 2021سچ خبریں:عراقی عوام نے اس ملک کے دار الحکومت بغداد میں صہیونی
فروری
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی جاری، مزید تین کشمیریوں کو شہید کردیا
?️ 12 جون 2021سرینگر (سچ خبریں) بھارتی حکومت اور فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں
جون