شرحِ نمو اور قیمتوں میں استحکام لانے میں حکومت تاحال ناکام

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) اسٹیٹ بینک کی جانب سے حال ہی میں جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ ممالک جو قیمت اور مالی استحکام پر شرحِ نمو کو ترجیح دیتے ہیں وہ نمو کو برقرار نہیں رکھ پاتے اور انہیں بار بار بوم-بسٹ سائیکل (زیادہ شرح نمو اور پھر معاشی بحران) کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق موجودہ حکومت نے مالی سال 2023 کے لیے ترقی پر توجہ دینے سے گریز کیا جس کے نتیجے میں شرح نمو میں زبردست کمی کا خدشہ ہے، اس حکمت عملی کے باوجود حکومت مالی استحکام اور قیمتوں میں استحکام لانے میں بھی ناکام رہی۔

’معاشی صورتحال برائے مالی سال 2022‘ کی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک نے تخمینہ لگایا ہے کہ مالی سال 2023 میں شرح نمو سال کے لیے مقرر کردہ 3 سے 4 فیصد کے ہدف سے بھی کم رہے گی۔

اسٹیٹ بینک، شرح نمو کے لیے نئی حد فراہم کرنے سے گریزاں ہے لیکن عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں اس کے 2 فیصد کے آس پاس رہنے کی پیش گوئی کر رہی ہیں۔

شرحِ نمو میں تیزی سے گراوٹ کے اثرات تجارتی اور صنعتی شعبوں میں پہلے ہی نظر آرہے ہیں جبکہ مزید اثرات مرتب ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

ٹیکسٹائل ملرز، برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کے نہ کھلنے پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں جس نے کاروباری سائیکل کو مفلوج کر دیا ہے۔

قیمتوں پر توجہ مرکوز کرنے کے باوجود گزشتہ 5 ماہ سے مہنگائی کی شرح 25 فیصد کے قریب منڈلا رہی ہے، جس کے سبب مالی استحکام اور ترقی کے امکانات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

تجارت اور صنعتوں کے لیے ان ترجیحات کے تحت برقرار رہنا مشکل ہے جن میں قیمتوں پر زیادہ اور ترقی پر کم توجہ دی جاتی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’عالمی تجربے نے ثابت کیا ہے کہ قیمتوں کا استحکام پائیدار شرح ترقی کے لیے لازمی شرط ہے، جن ممالک میں قیمتوں میں استحکام کو بنیادی ہدف سمجھا جاتا ہے ان میں افراط زر کی شرح کم ہوتی ہے، افراط زر اور شرح نمو میں اتار چڑھاؤ بھی کم ہوتا ہے‘۔

تاہم حکومتِ پاکستان شرح نمو کی قربانی دینے کے باوجود ان میں سے ایک بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

اسٹیٹ بینک کا قیمتوں میں استحکام کا ہدف حکومت کے 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدت کے افراط زر کے ہدف سے ظاہر ہوتا ہے۔

ملکی اور عالمی دونوں سطح پر ہونے والے عوامل توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں تبدیلی کی وجہ ہو سکتے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان عوامل کی پیش گوئی کرنا اکثر مشکل ہوتا ہے، افراطِ زر کی پیش گوئی میں بہت سے مفروضے طے کیے جاتے ہیں اور مزید معلومات آنے کے ساتھ ہی اسے مسلسل اپ ڈیٹ کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’پاکستان میں معلومات کی کوریج اور بروقت تجدید میں بہتری کی ضرورت ہے، عارضی تخمینوں کی نسبت سالانہ جی ڈی پی نمو کے تخمینے میں اکثر بڑے پیمانے پر نظرثانی کی جاتی ہے، اور یہ سب حتمی اعداد و شمار کی عدم دستیابی اور پیچیدہ تخمینوں کے ساتھ ہورہا ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ افراط زر کی پیش گوئیاں اجناس کی عالمی قیمتوں اور شرح مبادلہ کی ترقی کے نقطہ نظر پر بھی منحصر ہیں۔

مارکیٹ کی طے شدہ شرح تبادلہ کی جانب منتقل ہوتے ہوئے قیمتوں کے استحکام کو اسٹیٹ بینک کے بنیادی ہدف کے طور پر اپنانا معیشت کو شرح تبادلہ سے افراط زر کے ہدف کی جانب منتقل کرنے کے مترادف ہے جسے اقتصادی کھلاڑی اپنی توقعات اور فیصلوں کا مرکز بناتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس کے لیے اسٹیٹ بینک کو مہنگائی کا ہدف فراہم کرنے کے لیے ٹھوس عہد کرنے کی ضرورت ہے۔

مشہور خبریں۔

کابل میں طبی مرکز پر حملہ، مریضوں کو نشانہ بنانا سنگین خلاف ورزی؛ انسانی حقوق فاؤنڈیشن کی مذمت

?️ 17 مارچ 2026سچ خبریں:بین الاقوامی انسانی حقوق فاؤنڈیشن نے مریضوں کو نشانہ بنانے کو

یوکرین کی شکست کے بارے میں امریکی سابق عہدیدار کا اہم بیان

?️ 14 اگست 2023سچ خبریں: امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر کا خیال ہے کہ

اسلام آباد ہائیکورٹ عافیہ صدیقی کیس میں سستی برتنے پر حکومت پر برہم، فوزیہ صدیقی کو ویزا جاری کرنے کا حکم

?️ 13 دسمبر 2024 اسلام آباد: (سچ خبریں) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی

پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں، عوام کے ساتھ ہاتھ ہو گیا

?️ 1 جون 2024لاہور: (سچ خبریں) پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں، عوام کیساتھ ہاتھ ہو

اسرائیل کے ساتھ گیس معاہدے کا سیاسی معاملات سے کوئی تعلق نہیں: مصر

?️ 21 دسمبر 2025سچ خبریں: مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے قریبی مستقبل میں صدر

عرب ممالک کی فلسطینی مزاحمتی تحریک کو صیہونی حکومت کے منصوبے پر خفیہ انتباہ

?️ 22 جنوری 2025سچ خبریں:باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ عرب ممالک نے فلسطینی

سمندری طوفان ’بائپر جوائے‘ مزید شدت اختیار کرگیا، کراچی سے 760 کلومیٹر دور موجود

?️ 11 جون 2023کراچی: (سچ خبریں) بحیرہ عرب میں موجود انتہائی شدید سمندری طوفان ’بائپر

مسجد اقصیٰ کے خلاف صیہونیوں کی نئی سازش

?️ 14 فروری 2022سچ خبریں:مسجد اقصیٰ کے خطیب کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت مسجد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے