?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) دفترِ خارجہ نے جمعے کے روز کابل میں ہونے والے ممکنہ حملوں کو براہِ راست تسلیم کرنے سے گریز کیا، اور اس کے بجائے پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کارروائیوں کو افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گردوں کے خلاف جائز دفاع کے طور پر پیش کیا، دفترِ خارجہ نے مزید اس بات پر زور دیا کہ سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے کابل کے ساتھ مسلسل بات چیت اور تعاون ضروری ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان اپنے عوام کی سلامتی اور فلاح و بہبود کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کی تجدید کرتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان، افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ بات چیت اور تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سیکیورٹی آپریشنز انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے اور ان کا مقصد پاکستانی شہریوں کو دہشت گرد گروہوں، بالخصوص کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
یہ بیان جمعرات کی رات کابل میں ہونے والے 2 دھماکوں کے بعد سامنے آیا ہے، افغان مقامی میڈیا نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ لڑاکا طیارے فضا میں پرواز کر رہے تھے اور خودکار ہتھیاروں کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق دھماکے ایک گاڑی اور ایک کمپاؤنڈ پر ہوئے جو ٹی ٹی پی سے منسلک تھے اور ان کا ہدف مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود تھے۔
دوسری جانب، نور ولی محسود کی ہلاکت سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں، پاکستان کی عسکری حلقوں سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اس حملے کو ٹی ٹی پی قیادت کے لیے ممکنہ بڑا دھچکا قرار دیا، جب کہ ٹی ٹی پی کے حامی چینلز نے ایک آڈیو پیغام جاری کیا جسے مبینہ طور پر محسود کی آواز بتایا گیا، جس میں انہوں نے اپنی موت کی خبروں کو ’دشمن کا پروپیگنڈا‘ قرار دیا۔
یہ واقعہ 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک سنگین ترین صورت قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملہ واقعی کابل میں پاکستان کی جانب سے کیا گیا ہے، تو یہ افغان دارالحکومت میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا، اگرچہ پاکستان اس سے قبل افغانستان کے دیگر علاقوں میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر کارروائیاں کر چکا ہے۔
اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد اس کا صبر جواب دے چکا ہے، وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک روز قبل قومی اسمبلی میں کہا تھا کہ بس، اب بہت ہو گیا، پاکستان کی حکومت اور مسلح افواج کا صبر ختم ہو چکا ہے۔
دوسری جانب، کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے رہا ہے۔
پشاور میں ایک علیحدہ پریس کانفرنس کے دوران، جو دفترِ خارجہ کی بریفنگ کے وقت ہی منعقد ہوئی، فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی یہ واضح نہیں کیا کہ آیا کابل میں پاکستانی فوج نے کوئی کارروائی کی یا نہیں، تاہم، انہوں نے پاکستان کے دفاع کے حق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے ایک آپریشنل بیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔
ادھر افغان حکام نے پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، پکتیکا کے علاقے میں ایک شہری بازار پر بمباری کی اور کابل کی سرزمین کی بھی خلاف ورزی کی۔
بھارت-افغانستان معاہدہ
دفترِ خارجہ نے نئی دہلی اور کابل کے درمیان ان کے طویل عرصے سے بند سفارت خانوں کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
یہ معاہدہ نئی دہلی میں بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر اور افغانستان کے قائم مقام وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران طے پایا، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت اور افغان حکومت کے درمیان پہلا اعلیٰ سطح رابطہ تھا۔
ترجمان شفقت علی خان نے کہا کہ افغانستان کے کسی دوسرے ملک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اس کے اور اس ملک کے درمیان کا معاملہ ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے، اور ہمارے پاس اس پر کوئی خاص تبصرہ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان کا مستقل مطالبہ یہی رہا ہے کہ افغانستان اپنی آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔


مشہور خبریں۔
ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط ہیں:عراق
?️ 29 نومبر 2022سچ خبریں:بحرین کے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے عراقی وزیر خارجہ
نومبر
ہم غزہ کے المیے پر آنکھیں بند نہیں کر سکتے: ہیرس
?️ 26 جولائی 2024سچ خبریں: امریکی صدر جو بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم
جولائی
غزہ کے خلاف جنگ جاری رہنے کے ساتھ ہی صیہونی حکومت میں مخالفت کی لہر پھیلی
?️ 17 اپریل 2025سچ خبریں: صیہونی حکومت میں مخالفت کی لہر پھیل گئی ہے کیونکہ
اپریل
چیف الیکشن کمشنر کی جانب سےکہا گیا کہ یہ بات ثابت ہوگئی کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔
?️ 2 اگست 2022اسلام آباد:(سچ خبریں)الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی
اگست
کرپشن کیس: پی ٹی آئی کے علی محمد خان ریمانڈ پر جیل منتقل
?️ 30 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما علی
جون
گوگل کا ورچوئل لباس آزمانے کا نیا اے آئی فیچر متعارف
?️ 25 جولائی 2025سچ خبریں: دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل نے ایک نیا
جولائی
عید پر دیا گیا وقفہ ختم ہوگیا، افغانستان میں دہشتگرد ٹھکانوں پر آپریشن جاری ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ
?️ 26 مارچ 2026اسلام آباد (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا
مارچ
کیا پاکستان صیہونی حکومت کو تسلیم کرنے والا ہے؟
?️ 30 ستمبر 2023سچ خبریں: پاکستان کے عبوری وزیر خارجہ نے یہ کہتے ہوئے کہ
ستمبر