سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں اہم معاشی ذرائع کو شدید نقصان ہوا، رپورٹ

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب نے سندھ اور بلوچستان میں بڑے پیمانے پر معاشی ذرائع کو نقصان پہنچایا ہے۔ نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اآنے والی افت کے باعث زراعت کا شعبہ 84 فیصد، لائیو اسٹاک کا شعبہ 82 فیصد، مزدوری کا شعبہ 74 فیصد اور 47 فیصد ملازمتیں متاثر ہوئی ہیں۔

 برطانیہ میں موجود عالمی امدادی ایجنسی اسلامک ریلیف کی جانب سے دونوں صوبوں میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے فوری ضروریات سے متعلق جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان شعبوں میں ہونے والے نقصانات کے علاوہ سندھ میں ماہی گیری کا شعبہ 82 فیصد متاثر ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان میں 2 لاکھ 811 ایکڑ پر کاشت ہوئی فصلوں کو نقصان پہنچا، کپاس کے علاوہ کوئی قابل ذکر فصل موجود نہیں جب کہ کچھ اضلاع تاحال زیرآب ہیں۔ کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، پشین، جعفرآباد اور نوشکی کے سروے شدہ علاقوں میں باغبانی کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا، انگور کی فصل کی کٹائی مکمل ہونے والی تھی لیکن جو پھل بیلوں پر موجود تھا اسے نقصان پہنچا، سیب کی فصل بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی۔

سندھ میں فوری ضروریات سے متعلق تخمینے کے مطابق سیلاب سے بلوچستان میں زراعت کو 84 فیصد لائیو اسٹاک کے شعبے کو 82 فیصد، مزوری فراہم کرنے والے شعبے کو 74 فیصد جبکہ نوکریوں اور ملازمتوں کو 47 فیصد نقصان ہوا۔ واشک اور نوشکی میں کھجور کی فصل کو 90 فیصد نقصان پہنچا جب کہ تیز ہواوں اور آندھی کے باعث آڑو، انار، سیب، خوبانی اور انگور کے درخت بھی جزوی طور پر متاثر ہوئے۔

صوبہ سندھ میں زراعت سے منسلک معاش کے ذرائع کو شدید دھکچا لگا جہاں 4 لاکھ 7 ہزار 560 ایکڑ پر پھیلی فصلیں زیر آب آگئیں۔ 4 اضلاع میں مجموعی طور پر 5 لاکھ 51 ہزار 364 ایکڑ فصلی اراضی کا سروے کیا گیا جس کے دوران میرپورخاص میں ایک لاکھ 69 ہزار 353 ایکڑ، ٹھٹہ میں 47ہزار 682 ایکڑ اور سجاول میں 86ہزار 670 ایکڑ رقبہ متاثر پایا گیا۔

جائزے سے معلوم ہوا کہ متاثرہ علاقوں میں 83 فیصد فصلیں تباہ ہو چکیں، میرپورخاص میں کاشت کی جانے والی اہم فصل کھجور کی فصل زیر آب آنے کے باعث تباہ ہو چکی، چارے کی کمی اور شدید بارشوں کے دوران پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث مویشیوں کے مجموعی نقصانات میں سے بکریوں اور بھیڑوں کے نقصانات بہت نمایاں ہیں جو تقریباً 93 فیصد ہیں۔

بلوچستان میں دوسرا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ذریعہ معاش لائیو اسٹاک کا شعبہ ہے جس کے نقصان کا تخمینہ 81 فیصد لگایا گیا ہے۔ جائزے کے مطابق لائیو اسٹاک کے شعبے کے نقصانات بلوچستان کے 6 اضلاع میں 10ہزار816 اور سندھ کے 4 اضلاع میں 2ہزار383 ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آنے والے موسم سرما کے باعث صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے، معمولات زندگی کو برقرار رکھنے والی سرگرمیوں، مارکیٹس تک پہنچنے میں مشکلات اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث چھوٹے کاروباری ادارے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دکانوں اور گوداموں میں بارش کا پانی بھر جانے سے کھانے پینے کا موجودہ ذخیرہ خراب ہو گیا، نقصان زدہ اسٹاک میں 23 فیصد کے ساتھ زیادہ تر گندم کے ذخائر شامل ہیں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو خوراک کے شدید بحران کا سامنا ہے۔

مشہور خبریں۔

بھارت نے سیلاب کے حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں، پاکستان

?️ 5 ستمبر 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری

?️ 8 جون 2021اسلام آباد (سچ خبریں) ملکی سیاسی ، معاشی اور اقتصادی صورتحال کا

بھارتی حکومت کشمیری عوام سے ان کی شناخت چھین کر ان کے حوصلے پست کرنا چاہتی ہے

?️ 7 اپریل 2021سرینگر (سچ خبریں)  بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم

امریکہ پر بھروسہ کرنا بہت بڑی غلطی ہے: افغان نیشنل کانگریس پارٹی کے سربراہ

?️ 27 فروری 2022سچ خبریں:افغان نیشنل کانگریس پارٹی کے سربراہ نے یوکرائن میں پیش آنے

الیکشن کمیشن کا پنجاب ضمنی انتخابات کے 5 حلقوں میں فوج تعینات کرنے کا مطالبہ

?️ 15 جولائی 2022اسلام آباد: (سچ خبریں)17 جولائی بروز اتوار پنجاب کی 20 سیٹوں پر

افغانستان کے لیے انسانی امداد پر امریکی انتخابات کے اثرات

?️ 16 ستمبر 2024سچ خبریں: ڈپلومیٹ میگزین نے لکھا ہے کہ نومبر میں ہونے والے

زرداری اور فواد چوہدری کیخلاف درخواست، اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ سے رائے طلب

?️ 1 مارچ 2021اسلام آباد {سچ خبریں} اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق صدر آصف علی

بھارت کی جانب سے قیدیوں کی رہائی میں ہمیشہ تاخیر کی جاتی ہے

?️ 10 اپریل 2021اسلام آباد(سچ خبریں) دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے