سیلاب کی تباہ کاریاں، پاکستان کو جی 77 کی مالیاتی سہولت سے استفادے کی تجویز

?️

اسلام آباد:(سچ خبریں) ملک میں سیلاب کی حالیہ تباہ کاریوں کے سبب پاکستان کو بحالی کے اقدامات میں مدد کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ایک اور قرض لینا پڑے گا تاہم گزشتہ روز جاری ہونے والی ’آکسفیم‘ کی ایک رپورٹ میں پاکستان کو ’جی 77 پلس چائنا‘ کی تجویز کردہ ‘نقصان سے نمٹنے کے لیے مالیاتی سہولت’ سے فائدہ اٹھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

 ’تاخیر کی لاگت‘ کے عنوان سے آکسفیم کی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر نقصانات سے نمٹنے کی مالیاتی سہولت کو استعمال کیا جاتا ہے اور مناسب طریقے سے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں تو اس سے پاکستان میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔

یہ سہولت گرانٹس کی شکل میں دی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ موسمیاتی تباہی کے نتیجے میں ملک قرضوں کے بوجھ میں مزید نہ دب جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ سہولت سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے سرگرم مقامی تنظیموں کی مدد کرنے کے لیے کافی مالی تعاون فراہم کرے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی سطح پر اس بات کا تعین کرنے کے لیے مقامی سطح پر فیصلہ کیا جائے گا کہ کہاں فنڈنگ کی کمی ہے اور رقوم کیسے خرچ کی جائیں گی، یہ امداد ایسے وقت میں عالمی تعاون کا اہم استعارہ ہوگی جب سیلاب متاثرین کے لیے عالمی سطح پر یکجہتی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے، اس سے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

جی 77 پلس چین کی جانب سے کوپ 26 میں ‘نقصان سے نمٹنے کے لیے مالیاتی سہولت’ کی تجویز پیش کی گئی تھی، یہ موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع ردعمل کو یقینی بنانے کی حکمت علمی ہو گی جو مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں کے اصول کے مطابق ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس پاکستان میں تباہ کن سیلاب نے کم از کم 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو براہ راست متاثر کیا اور ملک کو 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا، اس کے باوجود سیلاب متاثرین کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے محض 47 کروڑ 23 لاکھ ڈالر امداد کی اپیل کی گئی ہے (جو کہ اصل ضرورت کا صرف ایک فیصد ہے) اور اس میں سے تاحال صرف 19 فیصد فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔

دنیا بھر سے 100 سے زائد محققین، کارکنان اور پالیسی سازوں کے ایک گروپ کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے ردِعمل ان لاکھوں لوگوں کی مدد کے لیے ناکافی ہے جو اپنی روزی روٹی اور گھر کھو چکے ہیں اور بھوک، بیماری اور نفسیاتی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 1991 سے ترقی پذیر ممالک میں ہر سال اوسطاً 18 کروڑ 90 لاکھ افراد شدید موسمی اثرات کا سامنا کرچکے ہیں، 1991 میں کم آمدنی والے ممالک میں موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے درکار اخراجات کے حوالے سے پہلی بار ایک طریقہ کار تجویز کیا گیا تھا۔

جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ 2022 کی پہلی ششماہی میں 6 فوسل فیول کمپنیوں نے مل کر ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی سے جڑے بڑے واقعات کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی لاگت کو پورا کرنے کے لیے کافی رقم اکھٹی کی اور ابھی بھی تقریباً 70 ارب ڈالر کا منافع باقی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک میں سے 55 ممالک کو رواں صدی کی پہلی 2 دہائیوں کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نصف کھرب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان ہوا ہے۔

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ فوسل فیول انڈسٹری نے 2000 اور 2019 کے دوران موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ دوچار 55 ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے کافی زیادہ منافع کمایا۔

مشہور خبریں۔

معاشی ماہرین نے مارچ کے دوران شرح مبادلہ کے عدم استحکام سے متنبہ کردیا

?️ 4 فروری 2024اسلام آباد: (سچ خبریں)معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2 ماہ

صیہونی سپریم کورٹ بھی نیتن یاہو کے خلاف میدان میں

?️ 3 اگست 2023سچ خبریں: صیہونی سپریم کورٹ عدالتی اصلاحات کے حوالے سے منظور شدہ

دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تمام پروازوں کی معطلی

?️ 10 جون 2022سچ خبریں:   شامی میڈیا نے آج دوپہر جمعہ کو اطلاع دی کہ

اب گنجائش نہیں رہی، تین سال میں حکومت نے لوگوں کے ہاتھ سے روٹی چھین لی. مفتاح اسماعیل

?️ 18 جولائی 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) سابق وزیر خزانہ و سیکرٹری جنرل عوام پاکستان

خواتین کو وراثت سے محروم کرنیوالی رسومات کی کوئی شرعی اور قانونی حیثیت نہیں، وفاقی شریعت کورٹ

?️ 20 مارچ 2025اسلام آباد: (سچ خبریں) وفاقی شرعی عدالت نے اپنے تاریخی فیصلے میں

امریکی لابنگ کے لیے سعودی لابنگ پر کوئنسی کی رپورٹ

?️ 7 اپریل 2022سچ خبریں:  کوئنسی سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹڈیز نے ایک رپورٹ جاری کی

جرمن قانون ساز نے اپنے ہی ملک کی حکومت کے جنگی عہدوں پر حملہ کیا

?️ 29 اگست 2022سچ خبریں:   برلن میں جرمن نمائندے سیوِم ڈاگڈیلن نے زور دے کر

بھارت کی آبی دہشت گردی میں اضافہ دریائے چناب کے بہاﺅ میں مزید کمی

?️ 31 مئی 2025لاہور: (سچ خبریں) بھارت کی آبی دہشت گردی میں اضافہ ہورہا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے