?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) اقوام متحدہ کے دفترِ رابطہ برائے انسانی امور (یو این او سی ایچ اے) نے کہا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سیلاب کے سبب جمع ہونے والے پانی کی سطح میں کمی کے پیش نظر سیلاب متاثرین اپنے علاقوں کی جانب واپس جا رہے ہیں یا جلد از جلد واپس لوٹ جائیں گے۔
اپنی تازہ ترین رپورٹ میں یو این او سی ایچ اے نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں پانی کی سطح میں کمی دیکھی گئی۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سندھ میں کشمور، کندھ کوٹ، لاڑکانہ، گھوٹکی، سکھر، ٹنڈو الیار، شہید بینظیر آباد، ٹنڈو محمد خان، عمرکوٹ اور سانگھڑ کے اضلاع میں پانی کم ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر کے مشاہدے کی بنیاد پر بلوچستان میں سیلاب کے سبب جمع ہونے والے پانی میں تقریباً 300 مربع کلومیٹر، پنجاب میں 900 مربع کلومیٹر اور سندھ میں 4000 مربع کلومیٹر کی کمی واقع ہوئی ہے۔
موسم سرما نزدیک آتے ہی سیلاب زدگان کو سخت موسمی حالات کا سامنا ہوگا جس کے لیے مناسب پناہ گاہ، خیمے اور کمبل کی ضرورت ہوگی، تاہم سیلاب زدہ علاقوں میں بیماریوں کے پھیلنے کی صورت میں بڑھتے ہوئے چیلنجز اب بھی برقرار ہیں۔
سندھ اور بلوچستان میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کی بڑی وجہ صحت کے تباہ حال مراکز اور سیلاب کے سبب جمع ہونے والا پانی ہے۔
ضروری ادویات اور طبی سامان کے کم اسٹاک کی اطلاعات اور رسائی میں مشکلات ضرورت مند لوگوں کو صحت کی مناسب خدمات فراہم کرنے میں مزید چیلنج کا باعث ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں تقریباً ساڑھے 6 لاکھ حاملہ خواتین کو زچگی کی سہولیات تک رسائی کے لیے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ تقریباً 40 لاکھ بچے سبی سہولیات تک رسائی سے محروم ہیں، صفائی اور پینے کے پانی کی مناسب سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے صحت کی صورتحال بھی ابتر ہوگئی۔
دفترِ رابطہ برائے انسانی امور نے کہا کہ سندھ کے کئی علاقے سیلاب میں ڈوبے ہوئے ہیں، پانی کی فراہمی کے بنیادی نظام اور صفائی ستھرائی کی سہولیات کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے اندازاً 55 لاکھ لوگوں کو پینے کے صاف پانی تک رسائی نہیں ہے، صحت اور صفائی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے نتائج بھگتنے کا سب سے زیادہ خطرہ بچوں کو درپیش ہے۔
تقریباً ایک کروڑ بچوں کو 7 اکتوبر تک فوری طور پر جان بچانے والی امداد کی ضرورت ہے جن میں 40 لاکھ وہ بچے شامل ہیں جنہیں طبی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے اور 76 لاکھ بچے عدم تحفظ کے خطرات سے دوچار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سیلاب نے غذائی عدم تحفظ اور غذائی قلت کو بھی بڑھا دیا ہے، ایک اندازے کے مطابق دسمبر سے مارچ 2023 تک ایک کروڑ 46 لاکھ لوگوں کو خوراک کی ہنگامی امداد کی ضرورت ہے جو کہ سیلاب سے پہلے کے تخمینے سے 100 فیصد زیادہ ہے، اس میں انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) فیز 4 (ایمرجنسی) میں 40 لاکھ افراد شامل ہیں۔
رپورٹ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آبپاشی کے نظام کو ہونے والے نمایاں نقصان کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ایسے عوامل کے طور پر شمار کیا گیا ہے جو غذائی تحفظ کی صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مویشیوں، فصلوں اور باغات کو بھی نمایاں نقصان پہننچے کی نشاندہی کی گئی ہے، مویشی پالنے والے تقریباً 31 فیصد افراد کم از کم ایک جانور کھو چکے ہیں، سندھ میں یہ تناسب سب سے زیادہ 44 فیصد ہے، اس کے بعد پنجاب (35 فیصد) اور خیبرپختونخوا میں (25 فیصد) ہے۔
سیلاب نے 7 فیصد فصلوں اور سبزیوں اور تقریباً 30 فیصد باغات کو بھی اضافی نقصان پہنچایا ہے۔


مشہور خبریں۔
امریکا میں ایک ہی ہفتے کے دوران دوسرا فائرنگ کا واقعہ، پولیس افسر سمیت متعدد افراد ہلاک ہوگئے
?️ 23 مارچ 2021واشنگٹن (سچ خبریں) امریکا میں اگرچہ اکثر و بیشتر فائرنگ کے واقعات
مارچ
عالمی مافیائی جرائم کا مرکز کہاں ہے؟
?️ 25 ستمبر 2024سچ خبریں: حالیہ برسوں میں ترکی، خصوصاً اس ملک کے بڑے شہر
ستمبر
میڈیا دشمن کا مقابلہ کرنے کا اہم ترین ہتھیار:حسن نصراللہ
?️ 5 جولائی 2021سچ خبریں:حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہاکہ دشمن
جولائی
بشری ٰبی بی کے کارناموں کے چرچے عالمی میڈیا پر ہورہے ہیں۔ عظمی بخاری
?️ 15 نومبر 2025لاہور (سچ خبریں) عظمی بخاری کا کہنا ہے کہ بشری بی بی
نومبر
یوکرین کے لیے مغربی ممالک کی خفیہ پالیسی
?️ 30 دسمبر 2023سچ خبریں: پولیٹیکو نے متعدد باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے ایک
دسمبر
تل ابیب کا شام کے فوجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا منصوبہ
?️ 10 دسمبر 2024سچ خبریں: کان ٹی وی کے رپورٹر امیشائی اسٹین نے سوشل نیٹ
دسمبر
بھارت افغانستان میں امن نہیں چاہتا: منیر اکرم
?️ 10 اگست 2021 اسلام آباد (سچ خبریں) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب منیراکرم
اگست
صحافیوں کے تل ابیب جانے پر اہل مغرب کا غصہ
?️ 6 نومبر 2024سچ خبریں: آٹھ مغربی صحافیوں کا ایک گروپ اس ہفتے اسرائیلی وزیر
نومبر