?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کی طرف سے ترامیم کے خلاف دائر درخواست میں قومی احتساب بیورو (نیب) سے آج تک برآمد کی گئی رقم کی تفصیلات طلب کر لیں۔
سپریم کورٹ میں عمران خان کی نیب ترامیم کے خلاف درخواست پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی زیر سربراہی تین رکنی خصوصی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔
سپریم کورٹ نے تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے اب تک نیب سے کتنی ریکوری ہوئی اور پیسہ کہاں خرچ کیا گیا؟ نیب نے کس صوبے اور وفاقی حکومت کو کتنا پیسہ جمع کرایا؟
سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں، بینکوں اور عوام کو واپس کیے گئے پیسے کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ حکومت یا ادارے کی خورد برد کردہ رقم ریکوری کے بعد اسے ہی دی جاتی ہے۔
چیف جسٹس نے احکامات دیے کہ تمام تفصیلات آئندہ سماعت تک جمع کرائیں پھر جائزہ لیں گے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ نیب نے گزشتہ سالوں میں ریکارڈ ریکوریاں کی ہیں، نیب ترامیم کے بعد اب بے نامی اور آمدن سے زائد اثاثے ثابت کرنا نیب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب ترامیم کے مطابق بے نامی کی مالی ادائیگی کا ثبوت بھی نیب نے دینا ہے۔
اس موقع پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ بے نامی جائیدادیں بنانے والے کی مالی ادائیگی کا ریکارڈ ثابت کرنے ہی کے لیے کیس بنایا جاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب قانون کے مطابق بے نامی دار میں صرف خاوند یا اہلیہ، رشتہ دار یا ملازم ہو سکتے ہیں، نیب ترامیم نے قانون کا دائرہ بڑھانے کے بجائے محدود کر دیا ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پراسیکیوشن کسی صورت بے نامی پراپرٹیز کو ثابت نہیں کر سکتی جب تک متاثرہ فریق ثبوت نہ دے۔
وفاقی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ اس ترمیم کا مقصد یہ ہے کہ نیب کسی پر بے وجہ الزامات عائد کر کے کارروائی نہ کرے۔
انہوں نے دلائل دیے کہ ترامیم کے بعد نیب کو کسی پر الزامات عائد کرنے سے پہلے ٹھوس ثبوت دینا ہوں گے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کر دی
خیال رہے کہ رواں سال جون میں مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی، تاہم اس بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا۔
نیب (دوسری ترمیم) بل 2021 میں کہا گیا ہے کہ نیب کا ڈپٹی چیئرمین، جو وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیا جائے گا، چیئرمین کی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد بیورو کا قائم مقام چیئرمین بن جائے گا، بل میں چیئرمین نیب اور بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کی 4 سال کی مدت بھی کم کر کے 3 سال کردی گئی ہے۔
قانون کی منظوری کے بعد نیب وفاقی، صوبائی یا مقامی ٹیکس کے معاملات پر کارروائی نہیں کر سکے گا، مزید یہ کہ ملک میں کام کرنے والے ریگولیٹری اداروں کو بھی نیب کے دائرہ کار سے باہر نکال دیا گیا ہے۔
بل میں کہا گیا ہے کہ اس آرڈیننس کے تحت افراد یا لین دین سے متعلق زیر التوا تمام پوچھ گچھ، تحقیقات، ٹرائلز یا کارروائیاں متعلقہ قوانین کے تحت متعلقہ حکام، محکموں اور عدالتوں کو منتقل کی جائیں گی، بل نے احتساب عدالتوں کے ججوں کے لیے 3 سال کی مدت بھی مقرر کی ہے، یہ عدالتوں کو ایک سال کے اندر کیس کا فیصلہ کرنے کا پابند بھی بنائے گا۔
مجوزہ قانون کے تحت نیب کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ملزم کی گرفتاری سے قبل اس کے خلاف شواہد کی دستیابی کو یقینی بنائے، بل میں شامل کی گئی ایک اہم ترمیم کے مطابق یہ ایکٹ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے شروع ہونے اور اس کے بعد سے نافذ سمجھا جائے گا۔


مشہور خبریں۔
معیشت کی ترقی کے لیے اشرافیہ کے غلبے کو توڑنا ضروری ہے. مصدق ملک
?️ 5 نومبر 2025کراچی: (سچ خبریں) وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ معیشت
نومبر
مریم نواز نے تاریخی بجٹ رکھ کر وژنری لیڈر ہونے کا ثبوت دیا۔ مریم اورنگزیب
?️ 18 جون 2025لاہور (سچ خبریں) سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ
جون
مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی شہری کے ہاتھوں 2 صیہونی فوجی زخمی
?️ 22 مارچ 2022سچ خبریں:مقبوضہ بیت المقدس میں ایک فلسطینی شہری نے چاقو سے حملہ
مارچ
روسی فوج کا یوکرینی فوج کے ساتھ جاری تصادم اور نئے علاقوں پر قبضہ
?️ 25 دسمبر 2025سچ خبریں: روسی وزارت دفاع نے اپنے مسلح افواج کی جانب سے ایک
دسمبر
سیاسی جماعتوں کا انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا خیرمقدم
?️ 3 نومبر 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے عام انتخابات کی
نومبر
امیر قطر کے دورہ عراق پر کیا ہوا؟
?️ 16 جون 2023سچ خبریں:قطر نے اعلان کیا ہے کہ وہ عراق کے کچھ حصوں
جون
7 اکتوبر کی کارروائی میں اسرائیلی فوج کے اسکینڈل کی نئی جہتیں بے نقاب
?️ 16 مارچ 2025سچ خبریں: اسرائیلی فوج کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے
مارچ
جنین استقامتی آپریشن قابضین کے ساتھ تنازعات کا آغاز ہے: فلسطینی
?️ 14 ستمبر 2022سچ خبریں: فلسطینی گروہوں نے جنین میں الجلمہ کراسنگ کے قریب
ستمبر