سود کی ادائیگیوں میں 64 فیصد اضافہ ہوا، رپورٹ میں انکشاف

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) رواں برس پاکستان کی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں میں 64 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا، جبکہ آمدنی بڑھنے کی رفتار 30 فیصد رہی، جس کے نتیجے میں ترقیاتی اخراجات کے لیے کچھ نہیں بچا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ششماہی بجٹ ریویو رپورٹ برائے 24-2023 میں وزارت خزانہ نے اس سنگین صورتحال کا ذمہ دار عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرط پر تاریخی بلند شرح سود کو ٹھہرایا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اہم چیلنج سود کی بڑھتی ہوئی ادائیگیاں ہیں، جس کی وجہ بُلند پالیسی ریٹ ہے، مزید بتایا کہ مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ (جولائی تا دسمبر 2023) کے دوران سود پر اخراجات 65 فیصد اضافے کے بعد تقریباً 42 کھرب روپے رہے، جس کا حجم گزشتہ مدت کے اسی عرصے کے دوران 25 کھرب 73 ارب روپے رہا تھا۔

رواں سال سود کی ادائیگیاں 73 کھرب روپے کے وزارت خزانہ کے تخمینے سے کہیں زیادہ رفتار سے بڑھیں، جو بجٹ تخمینے کا تقریباً 58 فیصد ہے۔

نتیجتاً مقامی اور عالمی قرض کا 80 فیصد سود کی ادائیگیوں میں خرچ ہو جاتا ہے، اور پیداواری شعبوں اور عوامی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کرنے والے شعبوں کی طرف نہیں جاتا۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ اخراجات کا بڑا حصہ جولائی سے دسمبر کے دوران سود کی ادائیگیوں پر کل اخراجات کا 65.3 فیصد خرچ ہوا، 42 کھرب 20 ارب روپے میں سے 37 کھرب 18 ارب روپے ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگیوں اور 502 ارب روپے بیرونی سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوئے۔

ترقیاتی اخراجات کے لیے رواں برس کی ششماہی میں محض 158 ارب(صرف 16.6 فیصد) رقم استعمال ہوئی، جبکہ اس سال 950 ارب کے مختص کیے گئے ہیں۔

حکومتی عزم کے تحت ترقیاتی بجٹ کا 50 فیصد متعلقہ ایجنسیوں کو پہلی سہ ماہی میں 20 فیصد اور دوسری سہ ماہی میں 30 فیصد کی شرح سے تقسیم کیا جانا چاہئے۔

وزارت خزانہ نے رپورٹ میں انکشاف کیا کہ 6 ماہ میں ہونے والے ترقیاتی اخراجات 3 ماہ کے ہدف کے قریب بھی نہیں پہنچ سکے، وزارت خزانہ کے مطابق سود کی 88 فیصد ادائیگیاں ملکی قرضوں پر کی گئیں، رواں برس پہلی ششماہی میں وفاقی مالیاتی خسارہ بڑھ کر 26 کھرب 97 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 2.5 فیصد تک پہنچ گیا، جس کا حجم گزشتہ برس کی اسی مدت کے دوران جی ڈی پی کے 2.1 فیصد یا 17 کھرب 80 ارب روپے رہا تھا۔

مشہور خبریں۔

لبنان میں جامع اور مکمل جنگ بندی ہمارا مطالبہ ہے: حزب اللہ 

?️ 2 جون 2026 سچ خبریں:حسن فضل اللہ، جو مزاحمتی وفاداری کے گروپ کے رکن

ڈیموکریٹک سینیٹر: ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ اعلیٰ درجے کی ناکامی رہی ہے

?️ 21 مئی 2026سچ خبریں: ڈیموکریٹک سینیٹر رافیل وارنک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی

پاکستان کا بی جے پی کے ’اکھنڈ بھارت‘ نظریے پر اظہار تشویش

?️ 2 جون 2023اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستان نے اکھنڈ بھارت کے نظریے پر شدید تشویش

غزہ جنگ سینئر صیہونی جرنیلوں کے لیے گلے کی ہڈی

?️ 14 مئی 2024سچ خبریں: صیہونی حکومت کے اعلیٰ فوجی جرنیلوں نے اس حکومت کی

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط؛ وجہ ؟ 

?️ 19 ستمبر 2025سچ خبریں: سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم

کیا حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کو مانے گی؟

?️ 13 جولائی 2024سچ خبریں: وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے خلاف

ٹرمپ کا اپنے ڈیموکریٹک حریفوں پر حملہ 

?️ 27 اپریل 2026 سچ خبریں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "سی بی ایس نیوز” کو

کیا اسرائیل میں ایران جیسے بڑے ملک پر وسیع حملہ کرنے کی طاقت ہے؟روسی تجزیہ کاروں کی رائے

?️ 27 اکتوبر 2024سچ خبریں:روسی تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ صہیونی حکومت کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے