?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی ) کے 3 سینئر مرد حکام نے دفتر میں مبینہ ہراسانی کے خلاف وفاقی محتسب سے رجوع کرلیا۔
ہراسانی کی شکایت کرنے والوں میں سربراہ حالات حاضرہ، ایک جنرل منیجر اور ایک منیجر ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔
میڈیا کے مطابق ان افسران کو انسداد ہراسانی قانون 2010 کے تحت قائم تحقیقاتی کمیٹی کی سفارش پر ان کے عہدے سے ہٹایا جاچکا ہے، ان افسران نے وفاقی محتسب سیکریٹریٹ میں جمع کرائی گئی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی وی انتظامیہ نے بے معنی شکایات کو جواز بناکر ان کے خلاف کارروائی کی ہے۔
وفاقی محتسب سیکریٹریٹ ایک خودمختار نیم عدالتی قانونی ادارہ ہے جو خواتین کو کام کی جگہ پر ہرسانی سے بچانے کیلیے 2010 میں متعارف کرائے گئے قانون کے تحت قائم کیا گیا تھا، اس ادارے کا بنیادی مقصد افراد کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے بچانا ہے۔
درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی میں آئین کی شق 10 اے کو نظر انداز کیا گیا ہے جو مقدمے کی منصفانہ پیروی کو یقینی بنانے کا حق دیتی ہے۔
ایک درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد کی انسداد ہرسانی کمیٹی مستقل غیرقانونی اقدام کو قانونی بنانے کی کوشش کررہی ہے، تحقیقاتی عمل شفاف نہیں ہے، خاص کر گواہوں کو ایمائی سوالات میں الجھاکر اپنے بیانات ریکارڈ کرنے کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا جا رہا ہے جس سے انصاف کی عدم فراہمی کےخدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے سیکشن 4، 4اے اور 4 سی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شکایت کنندہ کو ارکان کے سامنے رکھے گئے شواہد فراہم نہیں کیے۔
درخواست گزار نے مزید کہا ہے کہ اسے تحریری جواب جمع کرانے اور اپنے خلاف پیش کیے گئے گواہوں سے جرح کا موقع بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
ایک اور شکایت میں سرکاری ٹی وی کے ملازم نے موقف اپنایا ہے کہ انتظامیہ نے اسے سزا دینے کے لیے شواہد گھڑے ہیں۔ انہوں نے درخواست میں مزید کہا ہے کہ اصل تنازع یہ ہے کہ انہوں نے سینئر افسران کی من مانیوں کے خلاف آواز اٹھائی تھی جس پر انہیں سبق سکھانے کے لیے انتظامیہ نے بودی وجوہات کو جواز بناکر کارروائی شروع کردی۔
تیسرے درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ اسے دفتری سیاست کا نشانہ بنایاگیا ہے اور انتخابات کی نشریات کے لیے رکھی گئی خاتون کو اس کے خلاف شکایت درج کرانے کے لیے اکسایا گیا، تحقیقاتی کمیٹی نے اسے اپنے دفاع کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا اور انہیں جنرل منیجر کے عہدے سے تنزلی دیکر پروڈیوسر بنایا۔
پی ٹی وی کے ترجمان تصور عرفات چوہدری نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ ان افسران کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا جارہا ہے اور انسداد ہراسانی کمیٹی کی سفارشات پر ان کیخلاف کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی وی میں خواتین کے ساتھ ہراسانی ناقابل قبول ہے۔


مشہور خبریں۔
یمن کو سعودی صیہونی مشترکہ سازشوں کا سامنا
?️ 12 جولائی 2022سچ خبریں:یمنی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے ملک
جولائی
قومی شناختی کارڈز رکھنے والوں کو ویکسین لگاناہماری ترجیح ہے:اسد عمر
?️ 23 مئی 2021اسلام آباد(سچ خبریں) وزیرمنصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ جن
مئی
ٹرین میں خاتون مسافر پر تشدد کرنے والا پولیس اہلکار دوبارہ گرفتار، مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل
?️ 15 اپریل 2024کراچی: (سچ خبریں) ریلوے پولیس حیدرآباد نے ٹرین میں تشدد کا نشانہ
اپریل
علیمہ خان کی توہین قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے۔ مولانا فضل الرحمان
?️ 6 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل
ستمبر
پاکستان کب تک بھیک منگوں کی طرح جھولی پھیلا کر کھڑا رہے گا، مریم نواز
?️ 29 ستمبر 2025فیصل آباد: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ
ستمبر
پی ڈی ایم نے ایک دوسرے کے لئے صفائی پیش کی
?️ 14 مارچ 2021اسلام آباد(سچ خبریں) اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان
مارچ
کیا امریکہ اور ایران "123 معاہدے” کے بارے میں بات کر رہے ہیں – یہ معاہدہ کیا ہے؟
?️ 20 مئی 2025سچ خبریں: 123 معاہدے سے مراد یو ایس اٹامک انرجی ایکٹ کی
مئی
میں معافی نہیں مانگوں گا، میں ٹرمپ کا احترام کرتا ہوں: زیلنسکی
?️ 1 مارچ 2025سچ خبریں: وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے ساتھ ایک کشیدہ ملاقات کے
مارچ