زیر التوا کیسز کو نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا جسٹس منصور علی شاہ کا منصوبہ اپنانے کا فیصلہ

?️

اسلام آباد: (سچ خبریں) سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس نے کیسز کے بڑھتے ہوئے بیک لاگ کو نمٹانے کے لیے کیس مینجمنٹ پلان 2023 کو اپنا لیا جہاں یہ منصوبہ سینئر جج جسٹس سید منصور علی شاہ کی ذہن سازی کا نتیجہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ کے وضع کردہ ایک ماہ کے کیس مینجمنٹ پلان کا جائزہ لیا گیا جہاں اس منصوبے میں واضح معیارات کو متعین اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو مربوط کرتا ہے تاکہ تمام کیٹیگری کے مقدمات کو مؤثر طریقے سے چلایا جا سکے۔

چیف جسٹس کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں جسٹس منصور شاہ سمیت سپریم کورٹ کے تمام ججز نے شرکت کی جو بیرون ملک سے ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس کا مقصد مقدمے کے بیک لاگ کو کم اور عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے پر زور دینے کے ساتھ ساتھ ادارے اور مقدمات کو نمٹانے میں سپریم کورٹ کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا، رجسٹرار جزیلہ اسلم نے کیس کے موجودہ بوجھ کا ایک جامع جائزہ پیش کیا اور کیس کے بروقت حل کے لیے اقدامات کا خاکہ پیش کیا۔

رجسٹرار نے تازہ ترین اعدادوشمار پیش کیے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 59ہزار 191 مقدمات زیر التوا ہیں اور جسٹس منصور علی شاہ کے تیار کردہ کیس مینجمنٹ پلان 2023 پر مبنی ایک ماہ کا نیا منصوبہ متعارف کرایا، اس منصوبے میں مختلف کیٹیگریز میں کیس مینجمنٹ کو ہموار کرنے کے لیے واضح معیارات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل ہے۔

منصوبے پر بحث کرتے ہوئے ججوں نے اہداف کے حصول کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا، بنائے گئے ماہانہ منصوبے میں فوجداری اور دیوانی مقدمات خصوصی دو اور تین رکنی بینچوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ کیس کے حل کا عمل تیز تر کیا جا سکے۔

ججوں نے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اضافی بصیرتیں اور سفارشات بھی شیئر کیں اور مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کم کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے مزید حکمت عملیوں کی تجویز پیش کی جس کا مقصد کیس کے بیک لاگ کو کم کرنا اور کارکردگی کا معیار بہتر بنانا تھا جس کے تحت ابتدائی طور پر ایک ماہ اور پھر تین اور چھ ماہ کے منصوبے تیار کیے جائیں گے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کیس مینجمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد کے عزم پر تمام ججز کا شکریہ ادا کیا اور 2 دسمبر کو ہونے والے اگلے فل کورٹ اجلاس میں اس حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد سے چیف جسٹس آفریدی نے سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے تحت ایک نئی تین ججوں کی کمیٹی تشکیل دی جس میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر شامل ہیں، یہ کمیٹی اس ایکٹ کے سیکشن 2(1) کے تحت تشکیل دی گئی ہے جیسا کہ 2024 کے آرڈیننس نمبر VIII میں ترمیم کی گئی تھی۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 7 نومبر کو سپریم کورٹ میں پیش رفت رپورٹس کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے انتظامی ججوں کی میٹنگ بھی شیڈول کی ہے جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 8 نومبر کو ہونا ہے۔

شفافیت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لائیو اسٹریمنگ سروسز کو سپریم کورٹ کے اندر اضافی کورٹ رومز تک وسعت دینے کا حکم دیا، اس منصوبے کو تمام کمرہ عدالتوں میں لاگو کرنے کے منصوبہ بنایا گیا ہے۔

مشہور خبریں۔

پتنگ، ترازو اور بلا نہیں صرف بلاول کام کررہا ہے۔ مرتضی وہاب

?️ 10 جنوری 2026کراچی (سچ خبریں) میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ بلاول

عمران خان کو نظر بند کرنے کا امکان

?️ 14 مئی 2022لاہور(سچ خبریں)سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ خبر

مصنفین اور مولفین اسرائیل سے فرار

?️ 3 نومبر 2024سچ خبریں: زیمان یسرائیل نے ڈوری مائنر کے ساتھ بات چیت میں

شاہ رخ والد سے آکر ملے اور کہا آپ کو فالو کرتا ہوں، ربیکا خان

?️ 14 اپریل 2025کراچی: (سچ خبریں) ٹک ٹاکر و اداکارہ ربیکا خان نے کہا ہے

اسرائیل کھلے عام فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے:روس

?️ 27 اپریل 2023سچ خبریں:روسی وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر

مصر کا ایران کے نام تعزیتی پیغام

?️ 5 جولائی 2022سچ خبریں:   مصر کی وزارت خارجہ کے ترجمان احمد حفیظ نے صوبہ

وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر کے درمیان ملاقات طے

?️ 27 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادی میر

جنین میں دھماکہ خیز صورتحال

?️ 17 دسمبر 2024سچ خبریں: جنین کیمپ میں کی جانے والی جارحانہ کارروائیوں کے بعد کہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے