?️
کراچی: (سچ خبریں) ٹیکس جمع کرنے میں کمی کے باوجود وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے پہلے ساڑھے سات ماہ کے دوران بینکوں سے قرض لینے میں 84 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ حکومت گزشتہ مالی سال کے دوران لیے جانے والے قرضوں کے حجم سے رواں سال بہت دور ہے۔
رواں مالی سال 4 جولائی سے 14 فروری تک وفاقی حکومت نے 658 ارب روپے قرض لیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 4 ہزار 44 ارب روپے قرض لیا گیا تھا۔
حکومت محصولات اکٹھا کرنے میں سخت کمی کا سامنا کرتے ہوئے اپنے قرضوں کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم اس کمی کے باعث حکومت رواں مالی سال کے آخر میں بینکوں سے زیادہ قرض لینے پر مجبور ہوگی۔
2024-25 کے پہلے آٹھ ماہ میں ٹیکس شارٹ فال بڑھ کر 606 ارب روپے ہوگیا ہے۔ معاشی اشاریوں کا جائزہ لینے کے لیے اس وقت ایک آئی ایم ایف مشن پاکستان میں ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا دعویٰ ہے کہ ملک 7 ارب ڈالر کے کُل قرض کے پیکیج میں سے 1.1 ارب ڈالر کی اگلی قسط کے لیے بات چیت کرنے کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے۔ تاہم حکومت مالی سال 25 کے لیے طے شدہ 120 کھرب 97 ارب روپے کے محصولات کے ہدف سے محروم رہے گی۔
جب پالیسی کی شرح غیر معمولی طور پر 22 فیصد تھی، تو حکومت نے مالی سال 24 میں بینکوں سے 86 کھرب 91 ارب روپے قرض لیا تھا، اور سرکاری سیکیورٹیز میں خطرے سے پاک سرمایہ کاری کی وجہ سے بینکوں کا منافع دوگنا ہوگیا۔ اب جب شرح سود 12 فیصد پر آگئی ہے حکومت کی جانب سے قرض لینے میں کمی آگئی ہے۔
مالی سال 25 کی دوسری سہ ماہی کے دوران بینکوں نے بڑے پیمانے پر لیکویڈیٹی کو نجی شعبے میں پمپ کیا، لیکن اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قلیل مدتی قرض ہے۔
مالی سال 2023 اور 2022 میں حکومت نے بینکوں سے بالترتیب 37 کھرب 16 ارب اور 34 کھرب 48 ارب روپے قرض لیا تھا۔
حکومت نے مقامی ڈیٹ سروسنگ کے لیے 87 کھرب 36 ارب اور غیر ملکی ڈیٹ سروسنگ کے لیے 10 کھرب 38 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
بینکوں سے کم قرض لینے سے حکومت کو مالی خسارے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تجویز کردہ حد میں رہنے میں مدد مل سکتی ہے۔


مشہور خبریں۔
ٹرمپ سے ملاقات روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتی ہے:زلنسکی
?️ 16 اکتوبر 2025ٹرمپ سے ملاقات روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار
اکتوبر
امریکہ اور انگلینڈ یمنی پانیوں کے لئے خطرہ
?️ 2 جنوری 2024سچ خبریں:یمنی پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ امریکہ، انگلینڈ اور دیگر قابض
جنوری
حسن نصراللہ کی دھکمیوں کے بعد صیہونی گیس نکالنے کے اپنے منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور
?️ 25 جولائی 2022سچ خبریں:صیہونیوں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید
جولائی
صیہونی وزارتِ جنگ کی خفیہ کمپنی پر سائبر حملہ؛ حساس عسکری منصوبے منظر عام پر
?️ 26 اکتوبر 2025سچ خبریں:الجبهة الإسناد السیبرانیة سائبر گروپ نے صیہونی وزارتِ جنگ کی خفیہ
اکتوبر
یوکرینی صدر کا روسی صدر کے نام خط؛ جنگ کے خاتمے کی پیشکش
?️ 5 جون 2026سچ خبریں:یوکرینی صدر ولودیمیر زلنسکی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو خط
جون
چین نے امریکا سے تعلقات بگاڑنے کے لئے نہیں کہا: منیر اکرم
?️ 4 دسمبر 2021اسلام آباد/اقوام متحدہ (سچ خبریں)اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم
دسمبر
اردوغان پیوٹن سے دوبارہ کب ملاقات کریں گے؟
?️ 27 جولائی 2022سچ خبریں: جبکہ ترکی نے سویڈن اور فن لینڈ کو نیٹو میں
جولائی
سعودی عرب پر یمنی فوج کے حملے پر صیہونی حکومت کے وزیراعظم کا ردعمل
?️ 27 مارچ 2022سچ خبریں: صیہونی حکومت کے وزیراعظم نے یمنی عوام کے مسلسل محاصرے
مارچ