?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کو بلوچستان میں عدالتوں کو فعال کرنے کی ہدایت کی جب کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر بلوچستان میں ریاست مخلاف عناصر ہیں تو ان کا ٹرائل ہونا چاہیے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس محسن اختر کیانی نے مقدمے کی سماعت کی۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ لاپتا طلبہ کی تعداد 16 رہ گئی ہے باقی بازیاب ہو گئے ہیں جب کہ ایمان مزاری نے کہا کہ لاپتا طلبہ کی تعداد 12 ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ٹرائل کریں، لوگوں کو عدالتوں میں پیش کریں، بلوچستان کے لوگ وزارتیں بھی لیتے ہیں مگر اپنوں کو تحفظ نہیں دے سکتے۔
عدالت نے اٹارنی جنرل کو بلوچستان میں عدالتوں کو فعال کرنے کی ہدایت کی، اس دوران ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ کی متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ملاقات افسوناک رہی، اٹارنی جنرل آفس یا کسی اور آفس سے اب تک کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ درخواست گزار فیروز بلوچ کے حوالے سے کہا گیا کہ ان کو ریلیز کردیا گیا لیکن وہ تاحال لاپتا ہیں۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کہ ان لوگوں کو ریلیز کیا یا گھر پہنچایا؟
عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے بیان حلفی دینے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کیا اس کا مطلب ہے کہ وفاقی حکومت ہی جبری گمشدگیوں میں ملوث ہے؟
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ کیا ہم بھی وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ یا وزارت دفاع سے بیان حلفی لیں؟ وزیراعظم آفس، وزارت داخلہ و دیگر بڑے دفاتر یہاں بیان حلفی دیں کہ آئندہ کوئی لاپتا نہیں ہوگا۔
انہوں نے ریمارکس دیے کہ ریاستی ادارے عدالتوں پر یقین نہیں کرتے اسی لیے لوگوں کو اٹھایا جارہا ہے، جو لوگ بازیاب ہوئے پتا نہیں وہ ٹھیک بھی ہیں یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ لاپتا ہو جاتے ہیں ان کے خاندان والے ان کو پھر کبھی دیکھتے ہی نہیں، اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ثبوت نہیں تو لوگوں کو رہا کریں، ایسے تین، چار ماہ گرفتار رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ان معاملات میں وزیراعظم، وزارت داخلہ، وزارت دفاع ہی جوابدہ ہے۔
عدالت نے سمی دین بلوچ سے کہا کہ ایک بات پر یقین کریں کہ جو لوگ دس سال یا پندرہ سال سے لاپتا ہیں، ان کی معلومات حکومت فراہم کرے گی، پہلے لاپتا افراد کو بازیاب ہونے دیں پھر جس ادارے نے آپ سے بیان حلفی لیا ہے اسی کا دیکھا جائے گا۔
عدالت نے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او کو پریس کلب کے باہر بیٹھےدونوں دھرنوں کے مظاہرین کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کیس کی سماعت 13 فروری تک کے لیے ملتوی کردی۔


مشہور خبریں۔
یمن میں وہی کرو جو ہم نے افغانستان میں کیا؛ سعودی عرب کو امریکی مشورہ
?️ 19 نومبر 2021سچ خبریں:لبنانی اخبار البنا کے ایڈیٹر انچیف نے اپنے ایک کالم میں
نومبر
عسکریت پسندوں کے سامنے نہیں جھکیں گے، آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، وزیراعظم
?️ 21 دسمبر 2022اسلام آباد: (سچ خبریں) پاکستان میں عسکریت پسند ایک بار پھر سر
دسمبر
ادلب اور حماہ کے نواحی علاقوں میں درجنوں دہشت گرد ہلاک
?️ 3 دسمبر 2024سچ خبریں:شام کی وزارت دفاع نے ادلب اور حماہ کے نواحی علاقوں
دسمبر
جعلی سعودی شہزادے نے لبنانی سیاستدانوں کو کیسے دھوکا دیا؟
?️ 24 دسمبر 2025سچ خبریں: لبنان میں ایک شخص کی جانب سے سعودی شہزادہ ہونے
دسمبر
فیلڈ مارشل کی مدت ملازمت 2027ء میں پوری ہوگی اس کے بعد ایکسٹینشن کا سوال پیدا ہوگا۔ رانا ثناءاللہ
?️ 4 ستمبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے کہا ہے
ستمبر
انڈر پاس اورحیدرعلی روڈ کو عمر شریف کے نام سے منسوب کر دیا گیا
?️ 3 اکتوبر 2021کراچی(سچ خبریں) ایڈمنسٹریٹر کراچی نےعمر شریف کے انتقال پر تعزیت پیش کرتے
اکتوبر
نور مقدم کیس میں انصاف میں تاخیرسمجھ سے باہر ہے: عدنان صدیقی
?️ 2 فروری 2022کراچی (سچ خبریں)سینئر اداکار عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد
فروری
ملکی ترقی اور استحکام کیلئے ہم سب کو متحد ہونا پڑے گا۔ چیئرمین سینیٹ
?️ 17 اگست 2025اسلام آباد (سچ خبریں) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا
اگست