?️
اسلام آباد: (سچ خبریں) گولڈمین گروپ نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر میں غیرملکی کرنسی کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں روپے کی قدر میں بہتری عارضی ثابت ہوسکتی ہے، جس کی وجہ ملک کے مالیاتی خطرات ہیں۔
ڈان اخبار میں شائع بلومبرگ کی رپورٹ گولڈمین کے تجزیہ کار کے حوالے سے بتایا گیا کہ ممکنہ طور پر روپے کی قدر میں حالیہ اضافہ قلیل مدت رہے گا، جس کی وجہ بُلند شرح سود، صرف دوطرفہ فنانسنگ اور آئی ایم کے ساتھ قلیل مدتی انتظام ہے۔
یہ تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل چوتھے روز کم ہوئی، اور یہ گزشتہ روز 0.07 فیصد تنزلی کے بعد 280 روپے 9 پیسے تک پہنچ گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ اس کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 20 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوارن 22 کروڑ ڈالر گر کر 7 ارب 49 کروڑ ڈالر تک آ گیا، جولائی کے وسط سے ہفتہ وار بنیادوں پر یہ کمزور ترین صورتحال ہے، جس وقت آئی ایم ایف اور دوست ممالک کی جانب سے فنانسنگ کے بعد مرکزی بینک کے ذخائر 8 ارب 73 کروڑ ڈالر ہو گئے تھے۔
ستمبر اور اکتوبر کے دوران زیادہ تر روپے کی قدر میں اضافہ دیکھا گیا، اور اسے دنیا کی بہترین کرنسیوں میں سے ایک قرار دیا گیا۔
کرنسی ماہرین خبردار کرتے رہے ہیں کہ روپے کی قدر میں اضافے کی بنیادیں کمزور ہیں اور اس رجحان میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
5 ستمبر کو ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی تاریخ کی کم ترین سطح 307 روپے 10 پیسے پر آ گئی تھی، بلیک مارکیٹ کے خلاف ملک کے مالیاتی ریگولیٹر اور سیکیورٹی اداروں کے کریک ڈاؤن کے نتیجے میں روپے کی قدر میں تیز رفتار بہتری دیکھی گئی۔
6 ستمبر سے 16 اکتوبر کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں روزانہ اضافہ دیکھا گیا، مجموعی طور پر ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر 10.9 فیصد بڑھ کر 277 روپے 3 پیسے تک پہنچ گئی۔
تاہم، مرکزی بینک زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر نہیں کرسکا، اور آئی ایم ایف سے قلیل مدتی قرض معاہدے کے تحت صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے رقم موصول ہوئی۔
مرکزی بینک بینکنگ مارکیٹ سے ڈالر خریدتا رہا، لیکن قرض اور سود کی ادائیگی کے سبب انخلا زیادہ رہا۔
ملک میں گزشتہ 18 ماہ سے سیاسی اور معاشی غیریقینی کی صورتحال ہے، جبکہ عام انتخابات کا انعقاد اگلے برس ہونے کی توقع ہے، اسی طرح اداروں کی فروخت سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بھی محدود ہیں۔
ملک نے مشرق وسطیٰ کے سرمایہ کاروں کو کچھ منافع بخش مہنگے یونٹس فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کے درمیان اس خطے میں پیدا ہونے والے بحران نے ان منصوبوں میں تاخیر کی ہے۔
دریں اثنا، کرنسی ماہرین نے کہا کہ برآمدات میں نمایاں اضافے کے امکانات بھی نہیں ہے، جس کی وجہ زیادہ شرح سود اور مہنگائی ہے، جس کے نتیجے میں پیداواری لاگت نے برآمدکنندگان کو غیرمسابقتی بنا دیا ہے۔


مشہور خبریں۔
فتاح سپرسونک میزائل ایران کا جیت کا تمغہ تھا : الجزیرہ
?️ 2 اکتوبر 2024سچ خبریں: الجزیرہ نیوز ویب سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں الفتاح نامی
اکتوبر
اسرائیل کا شکست خوردہ نظریہ: غزہ کی تعطل سے لے کر ایران کے خلاف جنگ میں ناکامی تک
?️ 12 مئی 2026سچ خبریں: ماہرین کا ماننا ہے کہ صہیونی حکومت اپنی جارحانہ حکمت
مئی
عبرانی میڈیا: حماس اب بھی غزہ کی مرکزی حکمران ہے
?️ 1 جولائی 2025سچ خبریں: ایک صہیونی تجزیہ کار کا خیال ہے کہ اسرائیل اب
جولائی
کیا ایران اور حزب اللہ نے امریکہ کو ڈیڈ لائن دی ہے؟
?️ 1 نومبر 2023سچ خبریں: رائے الیوم اخبار کے ایڈیڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ
نومبر
برطانوی خاتون پولیس آفیسر کو فلسطین کا نام لینا بھاری پڑ گیا
?️ 19 مئی 2021سچ خبریں:گذشتہ ہفتہ صہیونی جارحیت کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے دوران
مئی
پاکستان سے اب تک 8 لاکھ 28 ہزار سے زائد افغان مہاجرین وطن واپس چلے گئے
?️ 2 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) طورخم بارڈر کے راستے سے گزشتہ روز 5,220
نومبر
گیند امریکہ اور اسرائیل کے پالے میں ہے: حماس
?️ 13 جون 2024سچ خبریں: امریکی اور صیہونی غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر اب
جون
افغانستان کا بینکاری نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ چکاہے: اقوام متحدہ
?️ 22 نومبر 2021سچ خبریں:اقوام متحدہ نے تین صفحات پر مشتمل اپنی ایک رپورٹ میں
نومبر