?️
اسلام آباد:(سچ خبریں) پاکستانی کرنسی کی بے لگام گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے اور انٹربینک مارکیٹ میں آج روپے کے مقابلے میں ڈالر ایک روپے 9 پیسے مزید مہنگا ہوگیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق روپے کی قدر میں 0.36 فیصد گراوٹ ہوئی اور ڈالر مزید ایک روپے 9 پیسے مہنگا ہو کر 305 روپے 54 پیسے پر بند ہوا۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق امریکی ڈالر تقریباً 12 بج کر 30 منٹ پر 305 روپے 55 پیسے پر پہنچ گیا تھا، جو مرکزی بینک کے مطابق گزشتہ روز 304 روپے 45 پیسے پر بند ہوا تھا۔
رواں مالی سال کے ابتدائی 2 مہینے سے بھی کم وقت میں پاکستانی کرنسی کی قدر 10.93 فیصد یا 30 روپے 11 پیسے فی ڈالر گھٹ چکی ہے، جب آئی ایم ایف نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے (ایس بی اے) کی منظور دی تھی، اس وقت انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 275 روپے 44 پیسے پر تھا جو 305 روپے 55 پیسے تک پہنچ چکا ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچا نے بتایا کہ ڈالر کی قیمت بڑھنے کے پیچھے متعدد وجوہات ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے غیر ضروری مصنوعات کی درآمدات پر پابندی ختم کر دی ہے، (جس کے نتیجے میں ڈالر کی طلب بڑھ رہی ہے)، اور اس وجہ سے انٹربینک مارکیٹ میں امریکی کرنسی مہنگی ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کاروں کا (معاشی صورتحال کے سبب) اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔
ظفر پراچا نے کہا کہ تیسرا سبب یہ ہے کہ گزشتہ برس نومبر میں ڈالر کی خرید و فروخت پر اضافی شرائط عائد کر دی گئی تھیں، جس کے سبب تیزی سے گرے مارکیٹ کو فروغ حاصل ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی کرنسی مہنگی ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ ملک میں غیر قانونی شرح تبادلہ کا شاندار بزنس ترقی کر رہا ہے۔
بینکرز نے بتایا کہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی سے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ یہ مرکزی بینک کو بھی مجبور کر رہی ہے کہ وہ مقامی کرنسی کی بے قابو گراوٹ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کرے۔
ایک سینئر بینکر نے بتایا کہ مارکیٹ کسی کے بھی قابو میں نہیں ہے، روپیہ تیزی سے گرتا رہے گا اور شاید یہ آئی ایم ایف کی دی گئی حد سے بھی نیچے چلا جائے، مزید کہا کہ کسی کو نہیں پتا کہ شرح تبادلہ کے حوالے سے آگے کیا صورتحال ہوگی۔
خیال رہے کہ ڈالر کے انٹربینک اور اوپن مارکیٹ ریٹ کے درمیان بڑھتے فرق نے حکومت کے لیے چیلنج کھڑا کر دیا ہے کیونکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اس فرق کو 1.25 فیصد تک رکھے
3 ارب ڈالر قرض معاہدے (جس پر گزشتہ ماہ دستخط کیے گئے) کی ایک اہم شرط کا تعلق مارکیٹ کے مطابق طے شدہ شرح تبادلہ سے ہے۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے زیادہ مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی دباؤ کو جذب کرنے کے لیے مارکیٹ کے ذریعے طے شدہ شرح تبادلہ اور اصلاحات پر مزید پیش رفت کے ذریعے اپنے موجودہ چیلنجز پر قابو پانے کے لیے مستحکم پالیسی پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔
آئی ایم ایف کے معاہدے کے بعد سے ڈالر نے تمام حدوں کو روند ڈالا ہے، انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 302 روپے تک پہنچ گیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں 319 روپے کا ہوچکا ہے۔


مشہور خبریں۔
یمنیوں کے اقدامات سے اسرائیل کی تمام بندرگاہوں کو نقصان پہنچا
?️ 21 فروری 2024سچ خبریں:صیہونی 24 ویب سائٹ کے مطابق بحیرہ احمر میں یمنی حملوں
فروری
ہم ملک کا ایک بالشت بھی نقصان کو قبول نہیں کریں گے، امریکہ اور ترکیہ کو جانا ہو گا: شامی وزیر خارجہ
?️ 8 اکتوبر 2021سچ خبریں: شام کے وزیر خارجہ فیصل المقداد نے دمشق اور اردن
اکتوبر
مقبوضہ فلسطین سے بھاگنے والے صیہونیوں کے اعداد و شمار
?️ 9 دسمبر 2023سچ خبریں: صیہونی ایک اخبار نے اعتراف کیا کہ طوفان الاقصیٰ آپریشن
دسمبر
جرمن کیوں صیہونیوں کی حمایت کر رہا ہے؟
?️ 30 اکتوبر 2023سچ خبریں:غزہ کی پٹی پر صیہونی حکومت کے فضائی اور توپخانے کے
اکتوبر
خامنہ ای اپنی شہادت سے امر ہو گئے: دوگین
?️ 3 جولائی 2026سچ خبریں: روس کے ممتاز فلسفی الیگزینڈر دوگین نے شہید امام خامنہ ای
جولائی
وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کیس مقرر کردیا
?️ 27 نومبر 2025اسلام آباد (سچ خبریں) وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل
نومبر
علی امین گنڈا پور نے عمران خان سے ملاقات کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا
?️ 16 مارچ 2024پشاور: (سچ خبریں) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے بانی پی
مارچ
ہم ایک ساتھ 500 فضائی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں:ایران
?️ 9 جون 2022سچ خبریں:ایرانی سپریم لیڈر کے دفاعی امور کے مشیر کا کہنا ہے
جون